وبا کے دنوں میں عیدالاضحی!

وبا کے دنوں میں عیدالاضحی!

  

اس بار عیدالاضحی اپنی نوعیت کی منفرد عید ہو گی۔ کورونا وائرس سے پھیلی مہلک وبا نے تہذیبی، تمدنی اور ثقافتی سرگرمیوں کو جس طرح متاثر کیا ہے اس سے مذہبی تہوار بھی بچ نہیں پائے۔عیدین باہمی ملاپ کے تہوار ہیں۔ عیدالاضحی اس لئے بھی اہمیت رکھتی ہے کہ اس روز صاحبانِ استطاعت و ثروت سنت ِ ابراہیمی علیہ السلام پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔ جانوروں کی قربانی ادا کی جاتی ہے اور گوشت اعزہ و اقارب اور غربا و مساکین میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس دوران لوگوں کا اختلاط ایک قدرتی امر ہے، لیکن صورتِ حال اب کچھ ایسی ہے کہ عیدالاضحی کی سرگرمیاں احتیاطی تدابیر اور ایس او پیز کی نذر ہو گئی ہیں۔

جیسا کہ عیدالاضحی سے کئی روز پہلے ہی بیوپاری لوگ قربانی کے جانور لے کر شہروں میں آ جاتے تھے اور قربانی کرنے والوں کو گھر کی دہلیز پر جانور مہیا ہو جاتے تھے۔شہر کی کشادہ جگہوں پر مویشی منڈیاں لگتیں اور جوان بوڑھے اور بچے اپنی پسند کے جانور انتخاب کرنے کے ساتھ ساتھ ان منڈیوں کی رونق سے لطف اندوز ہوتے تھے،لوگ قربانی کے جانوروں سے اس طرح گھل مل جاتے جیسے وہ بھی خاندان کا حصہ ہیں۔ بچے گائے بکریوں سے جلد مانوس ہو جاتے تھے۔ بکروں اور دنبوں کو مہندی لگائی جاتی۔ ان کا کاغذی سنگھار کیا جاتا، پھولوں اور غباروں سے سجایا جاتا اور صبح و شام ان کی چہل قدمی کرائی جاتی تھی۔ پورے شہر میں ایک رونق سی لگی رہتی۔عید کی صبح جب جانور قربان کئے جاتے تھے تو بچوں کی حالت دیدنی ہوتی۔ وہ روتے، مگر صبر کرتے تھے اور یہی صبر ہے کہ جس کی بار بار تلقین کی گئی ہے۔ ایسی چیز کے کھو جانے پر صبر جو آپ کو عزیز تر ہو جائے۔ تب قربانی امارت اور ثروت کے اظہار اور ایک شغل کے طور پر نہیں، بلکہ ربِ کریم کی خوشنودی کے لئے کی جاتی تھی،لیکن اب وہ بات نہیں رہی۔کورونا وائرس کے خدشہ کے باعث قربانی کے جانوروں کا شہروں میں داخلہ ممنوع قرار دیا جا چکا ہے اور جانور فروخت کرنے والوں کو احتیاطی تدابیر کے تابع کر دیا گیا ہے۔اس نعرہ نے کہ گھر میں رہو اور محفوظ رہو،بہت سی مقبول و معروف سرگرمیوں کا تقریباً خاتمہ کر دیا ہے۔ اگرچہ لوگ بہت سی ہدایات کو نہیں مانتے اور وہی کچھ کرتے ہیں،جو ان کا دِل چاہتا ہے،لیکن مجموعی طور پر اس گہما گہمی میں خاصی کمی واقع ہوئی ہے،جو عیدالاضحی کا خاصہ ہے۔

ربِ کریم کا شکر ہے کہ میرے وطن پاکستان میں کورونا وائرس کی یلغار میں قدرے کمی واقع ہوئی ہے۔تاہم خدشہ ہے کہ اگر اس مذہبی تہوار پر خاص احتیاط نہ برتی گئی اور حفاظتی اقدامات کو پس ِ پشت ڈالا گیا تو مہلک وبا کا پلٹ آنا پہلے سے زیادہ شدت لئے ہو گا۔

ہماری خواتین پر اس عید کے موقعہ پر بھاری ذمہ داریاں آن پڑی ہیں،جن گھروں میں قربانی کے فریضہ کی ادائیگی کی جا رہی ہے وہاں سماجی فاصلے کا خیال رکھنا اشد ضروری ہے اور جن گھروں میں قربانی کے گوشت کی آمد متوقع ہے وہاں بھی احتیاط لازمی ہے۔ مویشی منڈیوں میں ایس او پیز پر عمل درآمد ضروری ہے تو ان گھروں میں جہاں قربانی ادا کی جا رہی ہے۔صفائی ستھرائی اور سماجی دوری بارے احتیاطوں پر عمل کرنا اور بھی ضروری ہے۔ خواتین گھروں کی صفائی سے متعلق محتاط رہیں اور اس بات کا دھیان رکھیں کہ گھروں میں لوگوں کی آمدورفت محدود ہو۔ بچوں کو ایسی جگہوں پر جانے سے روکیں جہاں لوگوں کا اکٹھ ہو اور انہیں بار بار ہاتھ دھونے کی تلقین کرتی رہیں۔عید کی نماز سال میں ایک ہی بار ہوتی ہے،اس لئے لوگ اس کی ادائیگی کو چھوڑتے نہیں، اِس لئے خیال رکھا جائے کہ مسجد میں نماز کے سلسلے میں ان تمام احتیاطی تدابیر و ہدایات پر عمل کیا جائے، جو کورونا وائرس سے بچاؤ کے لئے تجویز کی گئی ہیں۔انسان زندہ اور صحت مند رہے گا تو اپنے فرائض بخوبی ادا کر سکے گا۔

عید پر چونکہ گوشت کی فراوانی ہوتی ہے،اِس لئے طرح طرح کے پکوان تیار ہوتے ہیں۔ خواتین باورچی خانوں میں وقت کا بیشتر حصہ گذارتی ہیں۔انہیں چاہئے کہ سکنجبین کا استعمال خود پر لازم کریں۔ مون سون کا موسم شروع ہو چکا ہے۔بارشیں ہو نہیں رہیں اور حبس ناقابل ِ برداشت ہوا جا رہا ہے۔ ایسی صورت میں بدن میں نمکیات کی کمی کا خدشہ ہوتا ہے اِس لئے لیموں پانی یا سکنجبین کا استعمال ضروری گردانا جاتا ہے۔

دیکھا جائے تو کورونا وائرس کی وبا نے کتنی ہی اہم رسوم اور فرائض کو بے معنی بنا دیا ہے اور کتنی ہی بے وقعت چیزوں کو اہم قرار دے دیا ہے۔قدرت کے رنگ عجیب ہیں۔اس کی طرف سے انسانوں پر آزمائشیں آتی رہتی ہیں اور کامیاب وہی لوگ رہتے ہیں جو ان آزمائشوں پر اپنے ایمان و یقین اور امید کی قوت سے پورا اترتے ہیں۔ربِ رحیم سے دُعا ہے کہ وہ اِس آفت کو دور کرے اور ہمیں اپنی پناہ میں رکھے اور اس عیدالاضحی کو آخری عید بنا دے کہ جس میں لوگ سماجی فاصلوں سے نماز کی ادائیگی پر مجبور ہیں۔آنے والی عیدین اِن شاء اللہ اس ذوق و شوق سے منائی جائیں، جس ذوق و شوق سے کورونا وائرس کی وبا کی آمد سے پہلے منائی جاتی تھیں۔

خواتین سے میرا التماس ہے کہ وہ اپنے حلقوں میں لوگوں کو احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کرتی رہیں اور اپنے اہل ِ خانہ کی صحت و تندرستی اور عافیت کے لئے مناسب اقدامات سے کسی صورت بھی کوتاہی نہ برتیں۔ زندگی ربِ رحیم کا عطیہ ہے اور اس کی حفاظت ایک بھاری ذمہ داری ہے۔احتیاط کریں اور سُکھ پائیں۔

آپ سب کو عیدالاضحی مبارک ہو!

مزید :

ایڈیشن 1 -