اپوزیشن کی اے پی سی، شبہات کے پھیلتے سائے

اپوزیشن کی اے پی سی، شبہات کے پھیلتے سائے

  

مسلم لیگ (ن) کے لاہور میں منعقد ہونے والے ایک اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ اس کے صدر شہبازشریف کی اے پی سی میں شرکت ان کی صحت بہتر ہونے سے مشروط ہے، انہیں پارٹی رہنماؤں نے یہ مشورہ بھی دیا ہے کہ وہ اپنی صحت کا خیال رکھیں ابھی تک یہ طے نہیں کیا گیا کہ اے پی سی کب اور کہاں ہو گی البتہ مسلم لیگ (ن) نے فیصلہ کیا ہے کہ کانفرنس میں نئے انتخابات پر زور دیا جائے گا۔ پارلیمنٹ کے اجلاس میں قانون سازی کے عمل میں بھرپور حصہ لینے کا فیصلہ بھی ہوا۔ پارٹی کی تنظیم نو کی جائے گی جس میں پارٹی چھوڑنے والوں کے لئے دروازے بند رکھے جائیں گے پارٹی کے سینئر رہنما سینیٹر پرویز رشید کا خیال ہے کہ ان ہاؤس تبدیلی کے لئے اپوزیشن جماعتوں کے پاس نمبر پورے نہیں ہیں، جمعیت علمائے اسلام بھی نئے انتخابات کا انعقاد چاہتی اور عدم اعتماد کے ذریعے کسی تبدیلی کی مخالف ہے، پیپلزپارٹی کی البتہ یہ رائے ہے کہ ان ہاؤس تبدیلی کی کوشش میں کوئی ہرج نہیں، جو حلقے اس تجویز کے مخالف ہیں وہ اس سلسلے میں چند ماہ پہلے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو ہٹانے کی کوشش کا حوالہ دیتے ہیں جو اس حقیقت کے علی الرغم ناکام ہو گئی تھی کہ سینیٹ میں اپوزیشن جماعتوں کے پاس اتنی زیادہ اکثریت ہے کہ ان کے ارکان خفیہ رائے شماری میں پارٹی پالیسی کے مطابق ووٹ دیتے تو عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہو جاتی، ناکامی سے بہرحال یہ تاثر مستحکم ہوا کہ اپوزیشن جماعتوں میں اتحاد تو درکنار، پارٹیوں کے اندر بھی ایسے ارکان موجود ہیں جو ایوان کی کسی اہم ووٹنگ میں پارٹی کو شرمندگی سے دوچار کر سکتے ہیں۔ ان حالات میں اِن ہاؤس تبدیلی کی کامیابی کے امکانات کم ہیں، چند دن تک سپیکر قومی اسمبلی کے خلاف بھی عدم اعتماد کا شور اُٹھا تھا لیکن اب اس کا ذکر بھی کم کم ہی ہوتا ہے۔

پیپلزپارٹی کے بزرگ رہنما چودھری اعتزازاحسن مسلم لیگ (ن) کے خلاف اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کوئی حجاب نہیں رکھتے انہوں نے تازہ ترین بیان میں کہا ہے کہ میاں برادران (نوازشریف+ شہبازشریف) نے عمران حکومت کو معیاد پوری ہونے کی ضمانت دے رکھی ہے۔ چند روز پہلے وہ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کے ساتھ پیپلزپارٹی کا اتحاد لمبے عرصے کے لئے نہیں چل سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں مسلم لیگ (ن) پر بھروسہ نہیں اور نہ ہی کبھی اس نے وفاداری کی وہ اپنی جماعت کو مشورہ دیں گے کہ اے پی سی کے حوالے سے مسلم لیگ (ن) سے ضمانتیں لیں، اس کے بغیر وہ اس پر اعتماد نہ کریں، حکومتی حلقوں کو بھی امید ہے کہ اے پی سی اول تو ہو نہیں سکے گی اور اگر ہو بھی گئی تو اس سے حکومت کو کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔اعتزازاحسن، میاں برادران کی جانب سے حکومت کو دی گئی جس ”ضمانت“ کی بات کرتے ہیں عجب نہیں کہ حکومتی حلقے بھی ایسی ہی کسی خوش فہمی میں مبتلا ہوں۔ ان حالات میں اے پی سی کے انعقاد سے پہلے ہی اس پر شکوک و شبہات کے سائے پھیل رہے ہیں اور جوں جوں انعقاد کے امکانات بڑھتے جائیں گے یہ سائے بھی گہرے ہوتے چلے جائیں گے۔

حکومتوں کے خلاف سیاسی اتحاد ماضی میں بھی بنتے رہے اور جب ایسے اتحادوں کی کوششوں سے حکومتوں کا خاتمہ ہو گیا تو ایسے اتحاد ختم ہوتے بھی دیکھے گئے اس کی وجہ بظاہر واضح ہے کہ سیاسی جماعتوں کے اپنے اپنے منشور اور اپنے اپنے پروگرام ہوتے ہیں وہ کسی محدود مقصد کے تحت وقتی مصلحتوں کے تحت متحد تو ہو سکتی ہیں لیکن ان اتحادوں کا مطلوب و مقصود کسی ایک سیاسی جماعت کے قالب میں ڈھلنا نہیں ہوتا، بڑے بڑے سیاسی اتحاد جو اپنے مقاصد میں کامیاب نظر آئے کہ انہوں نے حکومتوں کو اقتدار سے رخصت کر دیا لیکن اگلے سیاسی منظر میں یہی جماعتیں باہم مقابل آ گئیں اور انتخابات کا وقت آیا تو انہوں نے اپنے اپنے امیدوار کھڑے کئے اس لئے اب بھی مسلم لیگ (ن) یا پیپلزپارٹی سے یہ امید رکھنا کہ وہ اتحاد کی خاطر اپنی وسیع تر سیاسی ضرورتوں کو خیرباد کہہ دیں گی اور اپنی اپنی جماعتوں کی سیاست کے بنیادی تقاضوں کو فراموش کرکے متحد رہیں گی خلاف واقعہ بات ہے ایسا نہ کبھی ماضی میں ہوا ہے نہ آئندہ ہو سکتا ہے، اس وقت پیپلزپارٹی کی سندھ میں حکومت ہے اس لئے وہ کوئی ایسا سیاسی اقدام نہیں کرے گی جس کی وجہ سے حکومت ہاتھ سے جاتی رہے، سیاسی جدوجہد کا اولین مقصد تو حصولِ اقتدار ہی ہوتا ہے اس لئے جتنا کچھ اقتدار پہلے سے کسی سیاسی جماعت کے پاس ہے اس سے دست کش ہو جانا کوئی اچھی سیاسی چال نہیں سمجھا جاتا اگرچہ ماضی میں ایسی مثال مل جاتی ہے،جب ذوالفقار علی بھٹو نے بلوچستان میں مینگل وزارت برطرف کی تو صوبہ سرحد میں مفتی محمود کی مخلوط حکومت احتجاجاً مستعفی ہو گئی تاہم اگر کسی نے یہ امید لگا رکھی ہے کہ اب حکومت کے خلاف کسی ممکنہ سیاسی اتحاد کی خاطر پیپلزپارٹی سندھ کے اقتدار سے دستبردار ہو جائے گی تو اسے زمینی سیاسی حقائق کا درست ادراک کہنا مشکل ہوگا۔

اس میں شک نہیں مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی باہم حریف جماعتیں ہیں، اول الذکر کی سیاست کا پاور بیس پنجاب ہے۔2018ء کے انتخابات کے بعد تحریک انصاف کو یہاں بھی مخلوط حکومت بنانا پڑی تھی کہ 371 کے ایوان میں اسے اکثریت حاصل نہیں ہو سکی تھی۔ مسلم لیگ (ن) بھی کوئی ایسی سیاست نہیں کرے گی جو پنجاب میں اس کے پاور بیس کو نقصان پہنچائے اس لئے اگر پیپلزپارٹی کا یہ خیال ہے کہ مسلم لیگ(ن) کے ساتھ اتحاد کی صورت میں اسے پنجاب میں جگہ بنانے کا موقع مل جائے گا تو یہ سیاسی حرکیات شاید ہی اس کی تائید کر سکیں تاہم اس کے لئے مواقع کی تلاش میں تو کوئی حرج نہیں۔ چودھری اعتزازاحسن اگر مسلم لیگ (ن) کو قابلِ بھروسہ خیال نہیں کرتے اور یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی سیاست پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا تو جواب میں مسلم لیگ بھی لندن کے میثاق جمہوریت کا حوالہ دے سکتی ہے کہ ابھی اس میثاق کی سیاہی بھی خشک نہ ہوئی تھی کہ پیپلزپارٹی نے اس وقت کے حکمران جنرل پرویز مشرف کے ساتھ مفاہمت کا ڈول ڈال دیا، اگر میثاقِ جمہوریت طے نہ پاتا تو شاید حکومت مفاہمت میں تاخیر کرتی یا پیپلزپارٹی کی مفاہمانہ کوششوں کا سُرعت سے جواب نہ دیتی لیکن میثاق جمہوریت نے حکومت کو تیز رفتاری سے روابط پر مجبور کر دیا کیونکہ پیپلزپارٹی کامیابی کے ساتھ یہ تاثر دے رہی تھی کہ مسلم لیگ (ن) کے قریب ہو جائے گی۔ پھر صدر پرویز مشرف کو دوسری بار صدر منتخب ہونے کا مرحلہ بھی درپیش تھا اس لئے انہوں نے لندن میں مقیم بے نظیر بھٹو کے ساتھ سلسلہ جنبانی تیز تر کر دی، سرکاری عہدیدار اس مقصد کے لئے لندن آنے جانے لگے۔ این آر او کے مسودے کی نوک پلک درست کی جانے لگی اس وقت کی امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزارائس نے بھی اس مفاہمت میں بڑا اہم کردار ادا کیا۔ بالآخر پیپلزپارٹی اور حکومت کے معاملات طے پا گئے اور پرویز مشرف کے اگلے دورِ صدارت میں اس کا کردار بھی متعین ہو گیا وہ تو جنرل پرویز مشرف کے چیف جسٹس سے استعفا طلب کرنے کے معاملے نے سارا کھیل ہی بگاڑ دیا اور ان کی برطرفی کے خلاف وکلاء نے تحریک شروع کر دی، یہ تحریک نہ چلتی اور برگ و بار نہ لاتی تو جنرل پرویز مشرف نے 2013ء تک صدر رہنے کے تمام انتظامات پکے کر رکھے تھے، پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) سمیت تمام جماعتیں انہیں ہٹانے میں ناکام ہو گئی تھیں، کہا جا سکتا ہے چیف جسٹس کا استعفے سے انکار پرویز مشرف کے زوال کا نقطہ ء آغاز بن گیا۔

2018ء کے انتخابات کے فوراً بعد مولانا فضل الرحمن کی خواہش تھی کہ اپوزیشن جماعتیں اپنے منتخب ارکان کو اسمبلیوں کی رکنیت کا حلف اٹھانے سے روک دیں، وہ آج تک کہتے ہیں کہ اگر ان کی بات مان لی جاتی تو سیاست مختلف ہوتی لیکن دونوں جماعتوں نے اس تجویز سے اتفاق نہیں کیا،پھر جب انہوں نے دھرنے کا پروگرام شروع کیا تو بھی یہ جماعتیں ”نیمے دروں، نیمے بروں“ کی کیفیت میں رہیں اب اگر اے پی سی منعقد ہوتی ہے تو اس کی کامیابی کا امکان اسی صورت میں ہوگا جب تمام جماعتیں کسی لائحہ عمل پر اتفاق کرلیں اس وقت سیاسی جماعتوں میں اعتماد کا جو فقدان نظر آتا ہے جس کا ذکر چودھری اعتزازاحسن کر رہے ہیں وہ اپنی جگہ، لیکن یہ صرف مسلم لیگ (ن) ہی کا نہیں، پیپلزپارٹی کا بھی المیہ ہے کہ ان کی سیاست کی مجبوریاں بہت نمایاں ہو گئی ہیں جس کی وجہ سے دونوں جماعتوں کی سیاست کا دائرہ محدود نظر آتا ہے، اس کے باوجود یہ حقیقت مدنظر رکھنی چاہیے کہ اے پی سی کا مطلب حکومت گرانے کے لئے سردھڑ کی بازی لگانا نہیں ہے۔ احتسابی اور انتخابی نظام میں اصلاح کے لئے اگر دباؤ بڑھایا جائے تو مستقبل کی سیاست پر اس کے مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

مزید :

رائے -اداریہ -