میرا پیر بھائی

میرا پیر بھائی
میرا پیر بھائی

  

میں نے پہلے بھی ایک دفعہ لکھا تھا کہ لوگ کہتے ہیں تم کیسے ریاضی کے طالب علم ہو۔ہنسنا، ہنساناتمہارا وصف ہے، چھیڑ چھاڑ تمہارا شغل، باتیں بنانا تمہاراطریق کار، کسی بات کو خاطر میں نہ لانا تمہارا طرز عمل اور مثبت انداز تمہارا ایمان۔ ریاضی کے لوگ تو بڑے سنجیدہ ہوتے ہیں بلکہ شکل سے تو تھوڑے رنجیدہ ہوتے ہیں۔ بات کرتے ہیں تو لگتا ہے کہ زمانے بھر سے ناراض ہیں۔مگر اپنے مطلب کے لئے ہمیشہ زمانہ ساز ہیں۔ کلاس میں بچوں سے یوں بات کرتے ہیں جیسے مدتوں سے رنجور ہیں۔مگر کیا کیا جائے کہ بچے نہ چاہتے ہوئے بھی ان سے پڑھنے پر مجبور ہیں۔ہمارے تعلیمی ادارے بچوں کے دم سے ہیں۔ مگر بعض جگہ اس قدر گھٹن ہے کہ بچوں کا دم نکلتا ہے۔ مگر کسی کو بچوں کا خیال ہی نہیں۔ بچوں کے لئے پڑھناصرف محال ہی نہیں، جوئے شیر لانے کے برابر ہے۔میرا ایک پیر بھائی ہے۔ وہ بھی ریاضی کا استاد ہے مگر ریاضی اس سے اور وہ ریاضی سے خفا ہیں۔ وہ اس قدر سنجیدہ ہیں کہ لگتا ہے زمانے بھر سے ناراض ہیں۔مسکراہٹ اتنی بھی ان کے چہرے پر نظر نہیں آتی کہ بندہ سمجھے آج مسکراہٹ کی خیرات بانٹ رہے ہیں۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ پیر بھائی ہونے کے باوجود دونوں میں یہ فرق کیوں، کیا بتاؤں۔اپنی اپنی قسمت اور ہمت ہے۔اس کا کمال یہ کہ پیر سے بہت کچھ پا گیا اور میں کہ پیر سے سوائے محرومی کچھ حاصل نہیں کر پایا۔

دانشور کہتے ہیں کہ ریاضی کو اگر درست طریقے سے دیکھا جائے تو وہ نہ صرف صداقت کی حامل ہے بلکہ حسن بے پایاں بھی اس میں موجود ہے، ایک ایسا حسن جو سرد مہر اور وجہیہ ہے۔ گویا سنگتراشی ہے جونسبتاً کمزورفطرت کے لوگوں کے لئے شاید دلکشی کا باعث نہیں ہوتا کیونکہ اس میں مصوری اور موسیقی کے ایسے دل آویز لوازمات نہیں ہوتے۔ اس کے باوجود یہ مضمون ہر لحاظ سے خالص اور ایسی تکمیل کی صلاحیت رکھتا ہے جو صرف اعلیٰ تریں فن ہی سے عبارت ہوتی ہے۔ریاضی کی ترقی آج کے دور کی بہترین خصوصیت ہے۔ بالخصوص ان مشکلات کا حل دریافت کرنا جو پہلے ریاضیاتی لا متناہی کے متعلق تھیں ایک ایسا کارنامہ ہے جس پر ہم بجا طور پر فخر کر سکتے ہیں۔میں ذاتی طور پر جب ریاضی کا مطالعہ کرتا ہوں تو اس کے بے پناہ حسن میں کھو جاتا ہوں اس میں جس قدر موسیقیت ہے کہ کسی دوسرے مضمون میں نہیں۔ اس میں ایک جاذبیت ہے، سحر ہے۔اس میں اپنائیت ہے، خوشی ہے۔

پیر کے لغوی معنی ہیں، استاد، بزرگ، رہبر، سکھانے والا۔میں یونیورسٹی میں تھا تو سیمسٹر شروع ہونے کے باوجود ایک مضمون کی کلاس شروع نہ ہو سکی۔ پتہ چلا ایک نئے استاد تشریف لا رہے ہیں۔ وہ آئیں گے تو کلاس شروع ہو گی۔ چند دن انتظار کے بعد وہ شاہکار تشریف لے آئے کہ جن کا انتظار تھا۔کلاس شروع ہوئی تو بغیر تعارف کے وہ تیزی سے بورڈ پر کچھ لکھنا شروع ہو گئے۔وقفے وقفے سے وہ منہ سے کچھ الفاظ بھی ادا کرتے مگر ان کا لہجہ بھی بہت عجیب تھا۔ پیریڈ کے اختتام پر ہم سب کو نہ ان کا لکھا اور نہ ہی ان کا کہا کچھ سمجھ آیا۔ایک سینئر نے پوچھا کہ کیا پڑھ رہے ہو ہم نے مضمون بتایا تو کہنے لگے جو مساوات بورڈ پر لکھی ہے اس کا تعلق تو فلاں مضمون سے ہے۔ہم سب چیئرمین صاحب سے ملے۔ ان سے کچھ نہ سمجھ آنے کی شکایت کی۔ جواب ملا کہ وہ ہم سب جانتے ہیں۔ وہ جب عام بات کرتے ہیں تو ہمیں بھی سمجھ نہیں آتی مگر کیا کریں۔ منسٹری نے ایک بندہ بھیج دیا ہے۔ کسی طرح گزارہ کرو۔ہم مجبوراً اگلے دن کلاس میں موجود تھے۔ استاد محترم سے عرض کیا کہ کل جو آپ نے بتایا وہ تو ہمارے سینئرز کے بقول فلاں مضمون کا موضوع تھا۔ کہنے لگے ابھی مضمون کا تعارف چل رہا ہے اس میں بہت سی دوسری چیزیں بھی آئیں گی۔ ابھی انتظار کرو۔ میں جلد ہی اصل مضمون شروع کروں گا۔استاد محترم کے یہ الفاظ سن کر ساری کلاس مزے سے سو گئی کہ جب ہمارا امضمون شروع ہو گا تو توجہ دیں گے۔استاد محترم میں ایک خوبی یہ بھی تھی کہ کہ وہ کبھی کلاس کی طرف مڑ کر نہیں دیکھتے تھے اسلئے وہ دوران کلاس ہماری نیند میں کسی دن بھی مخل نہ ہوئے اور ہم مزے سے سوتے رہے۔

استاد محترم کا پانچواں لیکچر تھا اور ہمیں سوئے ابھی چوتھا دن کہ استاد محترم نے اپنا رخ کلاس کی طرف کیا۔ میز کو زور سے ہاتھ سے بجایا۔ ہم یکدم نیند سے جاگے تو ارشاد ہوا کہ آپ کا کورس ختم ہو گیا ہے۔ ساری کلاس یکدم ہوش میں آ گئی اور ہم نے پوچھا کہ شروع کب ہوا تھا۔ کہنے لگے آپ سوئے رہو گے تو شروع ہونے کا پتہ کیسے چلے گا۔ ہم نے بہت سے سوال کئے، یہ بھی پوچھا کہ چار ماہ کا کورس تین دن میں کیوں ختم ہو گیا۔ مگر ان کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ ہمارے بے پناہ احتجاج کے باوجود وہ تبدیل نہ ہوئے۔ فائنل کے امتحان میں اگر وائس چانسلر مداخلت نہ کرتے تو وہ انتقام میں ساری کلاس کو فیل کر دیتے۔استاد محترم نے ہمیں ایک پورا سیمسٹررلایا مگر ہم بد قسمت ان سے کچھ نہ پا سکے۔

اس کے بعد استاد محترم ڈیپاٹمنٹ کا حصہ تو ضرور تھے مگر ان سے پڑھنے کو کوئی تیار نہ ہوتا۔ وہ بہترین گریڈ کی ضمانت دیتے۔ کام کروانے کی ذمہ داری لیتے کہ کوئی ان سے بھی پڑھ لے مگر کوئی تیار نہ ہوتا۔اوراگر کوئی لالچ میں ان سے پڑھنے لگتا تو سارے ساتھی اسے پاگل قرار دیتے۔ کبھی کوئی طالب علم ان سے جڑ جاتا تو یہ وہ ہوتا جو پوری کلاس میں سب سے الگ تھلگ اور نہ سمجھ آنے والا ہوتا۔پورے ڈیپاٹمنٹ میں استاداور ان کے ہونہار شاگرد کے بارے بہت سی مزاحیہ داستانیں گردش کرتیں۔میرا پیر بھائی بھی ایسا ہی طالب علم تھا۔میں نے ایک سینئر ریاضی دان سے اپنے پیر بھائی کا ذکر کیا تو ہنس کر کہنے لگے کہ نہ استاد کی کسی کو سمجھ آتی ہے اور نہ ہی شاگرد کی۔ لیکن ان دونوں کو مل کر یقین ہوتا ہے کہ اللہ رازق ہے۔تو اصل فرق یہی ہے کہ میں کوشش کے باوجود اپنے ان استاد سے کچھ حاصل نہیں کر سکا اور میرا پیر بھائی جس نے بہت سارے سیمسٹر ان کے ساتھ گزارے ہیں ان جیسا ہی ہو گیا ہے۔اب استاد اور شاگرد دونوں مشہور ریسرچر ہیں مگر دونوں عام آدمی کی سوچ اور سمجھ سے بہت بالا۔ کوئی انہیں سمجھ نہیں پاتا۔ مگر دنیا کا نظام ہے کہ چلتا ہے اور اسی طرح چلتا رہے گا۔ریاضی جس سے پیار کرو تو مسکراہٹ دیتی ہے، سکون دیتی ہے، مسرت سے آشنا کرتی ہے مگر لوگ ریاضی سے اس لئے گھبراتے ہیں کہ میرے پیر بھائی جیسے ریاضی دانوں نے ریاضی کی مسکراہٹ بھی چھین لی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -