کرے کوئی بھرے کوئی

کرے کوئی بھرے کوئی
کرے کوئی بھرے کوئی

  

پاکستان میں شروع سے ہی یہ روایت بن چکی ہے کہ غلطیاں بڑوں کی اور سزا عوام کو، ملک عوام کا فیصلے بڑوں کے، ملک ہمارا اور احکامات بیرونی دنیا کے، اگر کوئی فوجی جنرل ہمارے اوپر مارشل لاء مسلط کرتا ہے تو بیرونی پابندیوں کا شکار عوام ہوتے ہیں۔ اگر کوئی بیرونی طاقت اپنا کھیل کھیلنے کے لیے پاکستان سے جمہوریت کا بستر گول کروا کر آمریت مسلط کرواتی ہے۔ تو اس کا نتیجہ کئی دہائیوں تک پاکستانی عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔ خارجہ پالیسی فوج بنائے یا وزیراعظم پھر اس پالیسی پر یو ٹرن سول حکومت لے یا آمر اس کے نتائج بھی پاکستانی عوام کو ہی بھگتنا پڑتے ہیں۔ کرپشن سیاستدان کریں یا بیوروکریسی، غیر ملکی قرضوں کا بوجھ بہرحال پاکستانی عوام ہی کے سروں پر لادا جاتا ہے۔ ملک سے کرپشن کا پیسہ بیرون ملک چلا جائے تو مہنگائی کا طوفان عوام کے لیے، اس پیسے کو واپس لانے کے لیے دھرنے دینے ہوں تو پسنا عوام کو پڑتا ہے۔ ملک میں سیلاب اور زلزلہ جیسی کوئی قدرتی آفات آجائیں تو اس کا شکار بھی عوام کیونکہ کچے مکانوں اور جھگیوں میں عوام ہی رہتے ہیں۔ اس ملک میں سیاستدان حکومت میں آئے یا فوجی مارشل لاء سب کا ایک ہی ورد کہ ہم عوام کی خاطر آئے ہیں ہمیں عوام کا دکھ ستا رہا تھا۔ لیکن جب حساب کتاب کھلتا ہے تو عوام کے تھیلے سے قرضے کے رجسٹر برآمد ہوتے ہیں۔ جب کہ بڑوں کا مال بیرونی بینکوں اور بلڈنگوں میں ہوتا ہے۔

ایسا کیوں ہے؟ عوام کا آخر جرم کیا ہے؟

جی؟ کیا کہا، اچھا عوام کا سب سے بڑا جرم یہ کہ عوام نے جاگیرداروں، سرمایہ داروں اور اسلام کے بڑے ٹھیکیداروں کی حکم عدولی کرتے ہوئے ایک جسمانی طور پر ناتواں راہنما محمد علی جناح کی کال پر لبیک کہتے ہوئے پاکستان بنا دیا؟ یہی سب سے بڑا جرم ہے۔ لیکن کچھ شرم کرو، عوام نے جرم تو کیا لیکن پاکستان بنا کر پھر آپ ہی کو نہیں دے دیا، اس پاکستان پر پہلے دن سے آپ ہی قابض نہیں ہیں؟ متحدہ ہندوستان میں تمہیں اتنی کرپشن کے مواقع کہاں ملنے تھے جو پاکستان سے مل رہے ہیں؟ پھر اس جرم کی اتنی بڑی سزا؟ کبھی کسی جاگیردار کو غریبوں کا مسیحا بنا کر عوام کو لوٹ لیتے ہو، کبھی کسی سرمایہ دار گدھے پر شیر کی کھال چڑھا کر عوام کا دانہ اسے کھلا دیتے ہو، کبھی کسی زردار کو بھٹو کا سوٹ پہنا دیتے ہو تو کبھی خود کرکٹ کٹ پہن کر بدنام کرکٹر کو کرتے ہو لیکن تباہی عوام کی ہوتی ہے۔

اب میں سمجھا عوام کا اصل قصور کیا ہے؟ عوام واقعی مجرم ہیں۔ عوام کا بڑا جرم یہ ہے کہ وہ قیادت خود کرنے کی بجائے ان کی طرف دیکھتے ہیں۔ جن کا تعلق بیرونی آقاؤں کے اشاروں پر چل کر اپنے ہی عوام کو لوٹنے والے قبیلے سے ہے۔ ملک عوام کا، اکثریت عوام کی لیکن ہم یہ تسلیم کر چکے کہ حکومت کرنے کا حق خواص کو ہے۔

عوام نے یہ اخذ کر لیا ہے کہ حق حکمرانی ایک مخصوص طبقے کو ہو، وہ چاہے فوجی وردی پہن کر آئیں یا جمہوریت کے لبادے میں، وہ اسلام کے نام پر آئیں یا سوشلزم کا نعرہ لگا کر آنا انہی نے ہی ہے۔ اس ملک کی بدقسمتی دیکھو کہ ووٹ عوام سے ڈلوائے جاتے ہیں۔ لیکن حکومت لینے کے لیے ہر کوئی راولپنڈی کی طرف دیکھتا ہے۔ آج تک عوامی فیصلوں کا احترام ہوا نہ عوامی رائے سے فیصلے، عوام صرف ظلم کی چکی میں پسنے کے لیے ہیں۔ محترم عمران خان کی تحریک سے ہم نے بیس برس امید باندھے رکھی اور منتظر رہے کہ کبھی تو بڑے گھر میں منظوری ہوگی(اگر ہمارے ووٹ سے فیصلے ہوتے تو پہلے ہی انتخابات میں ہم عمران خان کو کامیاب کر دیتے) لیکن ہم تو انتظار میں تھے کہ بڑے گھر سے منظوری عمران خان صاحب خود لیں پھر دیکھیں ہم کس طرح ووٹ دیتے ہیں۔ بالآخر عوام کی دعا قبول ہوئی۔ اور عمران خان صاحب برسراقتدار آئے۔ اب اگر مہنگائی کا طوفان آیا ہے تو اس میں بڑی بات کیا ہے۔

یہ تو عین روایت کے مطابق ہی ہو رہا ہے نا! عوام مہنگائی کی جس چکی میں پس رہے ہیں اس چکی کا آٹا ہمارے ہی بڑوں کے گوداموں میں جمع ہو رہا ہے نا! کوئی تو ہے جو اس سے مستفید ہو رہا ہے۔ وہ ہمارے ہی تو ہیں۔ یہ وہی تو ہیں جن کو ہم نے خود حق حکمرانی دے رکھا ہے۔ پھر اتنا چیخنے کی ضرورت کیا ہے؟ اگر عوام کا اعتماد انہی پر ہے تو پھر یہ اختیار بھی انہی کا ہے۔ کہ وہ ہمیں سیدھی چھری سے ذبح کریں یا الٹی چھری سے ہاں اگر عوام کو اپنے جرم کا پتا چل چکا ہے تو پھر اب اس جرم کا دوبارہ ارتکاب مت کریو، اپنا حق لینا چاہتے ہو تو حق حکمرانی لو، اپنے بچوں کا مستقبل روشن دیکھنا چاہتے ہو تو اپنے اندر کی روشنی کو پہچانو اور اپنے حصے کی شمع روشن کرو، اپنی صفوں میں قیادت کی تلاش کرو، اپنی باگ ڈور ان کے حوالے کرو جو تم میں سے ہوں۔ اپنا ملک ان جاگیرداروں، سرمایہ داروں، اجارہ داروں اور غیر ملکی آقاؤں کی پیروی کرنے والوں سے واپس لو، ادھر ادھر مت دیکھو، کسی مسیحا کا انتظار مت کرو، اپنے اردگرد دیکھو اور خود پر اعتماد کرو، ورنہ آپ کی اگلی نسلیں بھی چکی کے انہی دو پاٹوں کے بیچ رہیں گی۔ جس چکی کا ایک پاٹ اسلام آباد میں ہے تو دوسرا راولپنڈی میں اور اس کی ہتھی امریکہ میں۔

مزید :

رائے -کالم -