کراچی پر قبضے کی جنگ اور بے بس عوام

کراچی پر قبضے کی جنگ اور بے بس عوام
کراچی پر قبضے کی جنگ اور بے بس عوام

  

کراچی کا حال اس بے چاری جورو جیسا ہے، جس پر قبضہ تو سب رکھنا چاہتے ہیں مگر اسے اپنانے کے لئے کوئی تیار نہیں کل سب نے یہ ویڈیو دیکھی کہ کراچی کی سڑکوں پر پانی میں گاڑیاں بہتی چلی جا رہی ہیں۔ ایسا منظر تب دیکھنے کو ملتا ہے جب کسی شہر میں سمندری طوفان آتا ہے، لیکن کراچی میں کوئی سمندری طوفان تو نہیں آیا، البتہ دو گھنٹے کی بارش نے شہر کو دریا جیسی طوفانی لہروں کے سپرد کر دیا۔ دنیا دیکھ رہی ہے کہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کی حالت کیا ہے، دو اڑھائی کروڑ آبادی کا شہر دو گھنٹے کی بارش بھی برداشت نہیں کر سکتا پانی ہے کہ اس طرح سڑکوں پر بہتا ہے جیسے سمندر سے ابل رہا ہو، ہڑپہ اور موہنجو داڑو کے جو آثار سندھ اور پنجاب میں موجود ہیں، ان میں بھی سب سے زیادہ توجہ سیوریج سسٹم پر نظر آتی ہے گویا ہزاروں سال پہلے بھی انسان کا بنیادی مسئلہ یہی تھا کہ فالتو پانی کو کیسے ندی نالوں سے گزارنا ہے، آج ہم اکیسویں صدی میں رہ رہے ہیں اور ہمارا عروس البلاد کہلانے والا شہر کراچی چند گھنٹے کی بارش برداشت کرنے کے قابل بھی نہیں رہا، اربوں روپے کا بجٹ اور لاتعداد ادارے اس مقصد کے لئے قائم ہیں، لیکن بے حسی اور نا اہلی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ اب تو کوئی ذمہ دار سامنے بھی نہیں آتا، کراچی کو شہر ناپرساں بنا دیا گیا ہے۔ مجھے کراچی سے کل ایک دوست سہیل حسوال نے فون کیا اور بتایا کہ پانی گھروں میں داخل ہو چکا ہے، شدید حبس ہے اوپر سے بجلی نہیں، ایک عجیب سے ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں ایک ترقی یافتہ شہر کو اذیت گاہ بنانے والے کون ہیں، ان کا احتساب کون کرے گا، کراچی کو کیا اس طرح بے یارو مددگار چھوڑ دیا جائے گا۔؟

اب اگر سندھ حکومت پر یہ الزام لگ رہا ہے کہ وہ کراچی کے عوام کو ووٹ نہ دینے کی سزا دے رہی ہے، تو اس میں کیا غلط ہے، سندھ حکومت کے تمام دفاتر تو کراچی میں قائم ہیں، پارٹی کے چیئرمین کا گھر بھی کراچی میں ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ ہر خرابی کراچی کا مقدر بن گئی ہے اور لاوارث شہر کی طرح اسے بے توقیر کر دیا گیا ہے۔ سندھ کا سب سے زیادہ ٹیکس تو کراچی سے اکٹھا ہوتا ہے۔ اگر وہی پیسہ کراچی پر لگا دیا جائے تو شاید اس کی حالت ایسی نہ ہو جیسی اس وقت بن چکی ہے۔ پچھلے کئی ماہ سے یہ دہائی دی جا رہی تھی کہ مون سون کا موسم شروع ہونے والا ہے کراچی کے ندی نالوں کی صفائی کرلی جائے۔ مگر سندھ حکومت، میئر کراچی، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ یا تحریک انصاف کے ارکانِ اسمبلی نے اس طرف سرِ مو توجہ نہیں دی۔ سب آنکھیں بند کر کے ایک دوسرے کے ساتھ سیاست سیاست کھیلتے رہے سندھ حکومت تو غالباً یہ چاہتی ہے کہ کراچی کے مسائل گھمبیر سے گھمبیر تر ہوں تاکہ کراچی کے عوام کو سبق ملے کہ پیپلزپارٹی کو ووٹ نہ دینے کی سزا کتنی کڑی ہوتی ہے۔

اس شبے کو اس بات سے بھی تقویت ملتی ہے کہ بلاول بھٹو زرداری ہوں یا سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ وہ ایسی صورت حال پر ایک لفظ نہیں بولتے نہ ہی ان کی سرگرمیوں سے لگتا ہے کہ انہیں کراچی کے ڈوبنے کی کوئی فکر ہے۔ دوسری طرف میئر کراچی وسیم اختر جو بری طرح میئر شپ سے چمٹے ہوئے ہیں، ہر وقت فنڈز نہ ملنے کا رونا روتے رہتے ہیں۔ ان کے سارے اللے تللے جاری ہیں لیکن کراچی میں صفائی ستھرائی کا ذکر آئے تو وہ خالی ہاتھ ہونے کا واویلا شروع کر دیتے ہیں، رہ گئی تحریک انصاف جو نمائندگی کے لحاظ سے کراچی کی سب سے بڑی جماعت ہے، تو اس کے پاس سوائے گورنر عمران اسماعیل کی طفل تسلیوں کے اور کچھ بھی نہیں بلکہ جتنا زیادہ وہ کراچی کے عوام کو ریلیف پہنچانے کا دعویٰ کرتے ہیں، اتنا ہی زیادہ شدت سے سندھ حکومت کراچی کے عوام کو تکلیف پہنچانے کی کوشش کرتی ہے، یوں کراچی کے دو کروڑ سے زائد عوام عملاً ایک بے حس نظام کے یرغمالی بن کر رہ گئے ہیں۔

اس سارے معاملے کا ایک چوتھا فریق کے الیکٹرک ہے کسی نے کیا دلچسپ سوال اٹھایا ہے کہ کیا کے الیکٹرک اقوام متحدہ کی زیر نگرانی کام کر رہی ہے؟ یہ سوال اتنا بے معنی بھی نہیں، کے الیکٹرک کی من مانیاں حد سے بڑھ چکی ہیں نیپرا بھی اس کے سامنے بے بس نظر آتی ہے اور وفاقی حکومت نے بھی ہاتھ کھڑے کر دیئے ہیں پچھلے دنوں وفاقی وزیر اسد عمر بڑے جاہ و جلال کے ساتھ کراچی گئے تھے اور انہوں نے غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا اعلان کر دیا تھا ساتھ ہی یہ بھی کہا تھا کہ اگر کے الیکٹرک نے اپنے حالات ٹھیک نہ کئے تو اسے ٹیک اوور کر لیا جائے گا۔ مگر ان کے اس اعلان کی خاک دو دن بعد ہی اڑتی نظر آئی۔ ایک طرف کراچی کے عوام بارش کے پانی میں گھر کے محبوس ہو گئے ہیں اور دوسری طرف گھروں میں بجلی نہیں، اس سے اچھا تو وہ کسی دیہات میں جا کے رہ لیتے جہاں کم از کم ہوا تو وافر مقدار میں میسر آتی۔ وزیر اعظم عمران خان کراچی کے لئے میگا پراجیکٹس کا ہمیشہ ذکر کرتے ہیں حالانکہ اس وقت کراچی کو ندی نالوں کی صفائی اور سیوریج سسٹم کی بحالی کے مسئلے کا سامنا ہے کراچی کچرا گھر بن گیا ہے اور کوئی محکمہ اس طرف توجہ دینے کو تیار نہیں فیصل واوڈا اور علی زیدی جیسے پی ٹی آئی کے وزراء ماضی قریب میں بڑھکیں ضرور مارتے رہے ہیں کہ وہ کراچی کا کچرا جلد صاف کرا دیں گے لیکن چند دنوں بعد وہ بھی منظر سے غائب ہو گئے جب تک کچرا صاف نہیں ہوگا، پانی کیسے ندی نالوں سے گزرے گا، ندی نالے بند ہوں گے تو کراچی کو سمندر بننے سے کیسے بچایا جا سکے گا۔

کوئی مانے یا نہ مانے اس وقت کراچی سیاسی جنگ کا میدان بنا ہوا ہے ساری سیاسی قوتیں کراچی پر قبضہ تو جمانا چاہتی ہیں، اس کے مسائل حل کرنے کی کسی کے پاس فرصت نہیں۔ آصف زرداری کی سیاست کو آج بھی سمجھنا آسان نہیں، وہ کراچی کو مسائل کا گڑھ بنا کر در حقیقت یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ کراچی والوں نے جنہیں ووٹ دیئے اب انہیں کہیں ان کے مسائل بھی حل کریں۔ ان کی یہ حکمتِ عملی کسی حد تک کامیاب رہی ہے، اس کا اندازہ اس امر سے کیا جا سکتا ہے کہ آج کراچی کے عوام تحریک انصاف اور عمران خان کو جھولیاں اٹھا کے بد دعا دیتے ہیں حالانکہ وفاقی حکومت کا کراچی کے مسائل سے کوئی تعلق نہیں لیکن انتخابی مہم میں عمران خان کے دعوے اور پھر کراچی کی ساری نشستیں جیت لینے کے بعد میگا پراجیکٹس کے اعلانات نے عوام کی نظر میں انہیں مجرم بنا دیا ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ کراچی کے حوالے سے وفاقی و سندھ حکومت میں کوئی ورکنگ ریلیشن شپ بھی قائم نہیں ہو سکی۔ دونوں ایک دوسرے کے متحارب کھڑی ہیں کیا یہ صورت حال اسی طرح برقرار رہے گی اور ہم کراچی کے تباہ ہونے کا دور کھڑے ہو کر نظارہ کرتے رہیں گے؟ یہ سوال آج ہر پاکستانی کے دل میں کچوکے لگا رہا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -