اگر آج انڈو چائنا وار چِھڑ جائے؟ (1)

اگر آج انڈو چائنا وار چِھڑ جائے؟ (1)

  

میرے بہت سے قارئین مجھے فون کرکے پوچھتے ہیں کہ یہ بتائیں کہ اگر آج انڈیا اور چین کی جنگ چھڑ جائے تو کس کی جیت ہو گی اور کس کی ہار ہو گی؟…… میں سوچتا ہوں کہ میں یہ بتانے والا کون ہوتا ہوں کہ اگر یہ جنگ ہوئی بھی تو اس کا نتیجہ کس کے حق میں نکلے گا۔

میں نے 28،30سالہ سروس میں کسی بھی پاک بھارت جنگ میں حصہ نہیں لیا۔1971ء کی جنگ میں، میری سروس تین سال تھی، نیا نیا کیپٹن پروموٹ ہوا تھا، ایجوکیشن کور میں تھا اور سکاؤٹس کی ایک یونٹ میں پوسٹنگ تھی۔ قلات سکاؤٹس ان ایام میں وَن ونگ کور تھی اور اس کا ہیڈکوارٹر خضدار میں تھا۔ سکاؤٹس کی اس یونٹ کی نفری، پاک آرمی کی ایک انفنٹری بٹالین کی نفری کے برابر تھی اور اس کی تنظیم، اسلحہ جات اور ٹرانسپورٹ وغیرہ بھی وہی تھی جو ریگولر آرمی کی ایک انفنٹری بٹالین کی ہوتی ہے۔ اس کی چار کمپنیاں تھیں۔ ایک زاوا میں، ایک زہری میں، ایک وڈھ میں اور ایک خضدار میں۔ یہ ایک میجر کمانڈ یونٹ تھی یعنی ایک میجر صاحب اس کی کمانڈ کر رہے تھے۔ میجر دلاور آفریدی کا تعلق تو بلوچ رجمنٹ سے تھا لیکن وہ ہماری طرح دو تین برس کے لئے یہاں ڈیپوٹیشن پر آئے ہوئے تھے۔ ٹروپس کا تعلق سابق فاٹا کے قبائل سے تھا۔ میجر دلاور کے علاوہ تین آفیسر اور تھے۔ ایک کا نام کیپٹن رضا خان تھا جو پنجاب رجمنٹ سے تھے۔ دوسرے کا نام کیپٹن عبید الرحمن تھا جو آرٹلری کے شعبے سے تھے اور تیسرا میں تھا۔ یعنی کل ملا کر اس یونٹ میں چار آفیسرز تھے۔ نارمل حالات میں ایک ریگولر انفنٹری بٹالین کی کمانڈ لیفٹیننٹ کرنل کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ تقریباً 5،6میجرز اور اتنے ہی کیپٹن اور لیفٹین ہوتے ہیں۔ اس طرح (اس دور میں) ایک انفنٹری بٹالین میں 17کمیشنڈ آفیسرز ہوتے تھے۔ اس کے مقابلے میں قلات سکاؤٹس کی نفری تو ریگولر انفنٹری بٹالین کے برابر تھی لیکن آفیسرز کی تعداد صرف چار تھی جن میں ایک ایجوکیشن کور کا آفیسر بھی تھا۔

میں نے 1970ء کے موسم خزاں میں جب یونٹ میں رپورٹ کی تو مجھے بتایا گیا کہ یہاں ’ایجوکیشن وغیرہ‘ کا کوئی کام نہیں ہوتا، مشرقی پاکستان میں حالات بہت مخدوش ہیں، وہاں ہمارے چار ڈویژن جا چکے ہیں اور آفیسرز کی کمی ہے اس لئے قلات سکاؤٹس میں مزید آفیسرز کی پوسٹنگ کا کوئی امکان نہیں، اس لئے تمہیں ’ایجوکیشن کور‘ کو بھول کر ہمارے ساتھ شانہ بشانہ کام کرنا ہوگا۔ میری اپنی افتادِ طبع بھی کچھ ایسی تھی کہ نان ایجوکیشن فرائض میری پہلی ترجیح تھے۔ چنانچہ مجھے کمانڈانٹ نے زاوا بھیج دیا۔ وہاں میں بطور کمپنی کمانڈر (زمین پر) کام کرنے لگا جبکہ کاغذات میں میری پوسٹنگ ایجوکیشن آفیسر کے طور پر ہی تھی۔

کمپنی کے سینئر جے سی او (SJCO) نے مجھے خوش آمدید کہا اور نہ صرف پشتو بول چال میں میرے استاد بنے بلکہ پروفیشنل فرائض کی ابجد بھی میں نے ان سے سیکھی۔ ہفتے میں دو دن ساری کمپنی زاوا سے 25میل باہر جا کر گشت (پٹرولنگ) کرتی تھی۔ ہماری یونیفارم مزری (ملیشیا) کی شلوار قمیض، پشاوری چپل اور بیری (Beret)ہوتی تھی۔ اس گشت کے دو مقاصد تھے۔ ایک یہ کہ آس پاس کے شوریدہ سر بلوچ قبائل میں ”شو آف فورس“ کا مظاہرہ کرنا اور دوسرے ٹروپس کو پہاڑی اور صحرائی علاقوں میں پیدل مارچ کا عادی بنانا۔ میرے ساتھ کوئی کمپنی آفیسر نہیں تھا۔ بس تین جے سی اوز اور باقی عملہ دوسرے اہلکاروں (حوالدار، نائیک، لانس نائیک، سپاہی)پر مشتمل ہوتا تھا۔ زاوا، زہری اور وڈھ میں بجلی نہیں تھی اور ہم لوگ شام ہوتے ہی لالٹینیں جلا کر کام چلاتے تھے۔ ان ایام نے میری جسمانی ا ور ذہنی نشوونما میں ایک بڑا کردار ادا کیا۔ دن کو سارا وقت اپنے کچی اینٹوں اور پتھروں سے بنے دفتر میں روٹین کے فرائض انجام دیتا اور شام سے اگلی صبح تک مطالعہ اور نیند کے علاوہ تیسرا کام نہ تھا۔ بٹالین ہیڈکوارٹرز سے رابطہ بذریعہ فیلڈ ٹیلی فون قائم تھا اور ایک سگنل Det بھی تھی جو وائرلیس پر پوسٹوں اور ہیڈکوارٹرز سے رابطہ قائم رکھتی۔

افسروں کی کمی کے سبب اتفاقیہ رخصت بھی کم ہی ملا کرتی تھی۔ ٹروپس کی طبی دیکھ بھال کے لئے ڈسٹرکٹ سول ہسپتال میں رپورٹ کرنا ہوتی تھی۔ قلات سکاؤٹس کے قیام کے دوران سہانی یادوں کا ایک ذخیرہ ہے جس میں آج 50 برس کے بعد بھی جھانکتا ہوں تو آنکھوں کو جو ٹھنڈک اور دل کو جو سکون ملتا ہے، اس کا اظہار الفاظ میں نہیں کر سکتا!

1971ء کا موسم بہار شروع ہوا تو مجھے خضدار میں ایک نو تعمیر شدہ گھر الاٹ ہو گیا جو RCD ہائی وے کے کنارے واقع تھا۔ اس گھر کے سامنے سڑک کے پار ڈپٹی کمشنر خضدار کا گھر تھا۔ سوئے اتفاق انہی دنوں فتح خان خجک بطور ڈپٹی کمشنر وہاں تعینات ہوئے۔ ہم دونوں 1963-64ء میں گورنمنٹ کالج رحیم یارخان میں لیکچرار تھے۔ دونوں ہاسٹل میں رہتے تھے۔ اب چھ سات برس بعد اچانک ملاقات ہوئی تو گھروں میں آنا جانا شروع ہوا۔(دوسری دفعہ جب 1982ء میں میری پوسٹنگ ہیڈکوارٹر16ڈویژن کوئٹہ میں ہوئی تو فتح خاں سیکرٹری ایجوکیشن تھے اور وہاں بھی کالج کے زمانے کی دوستی برقرار رہی)

1971ء جوں جوں آگے بڑھ رہا تھا، مشرقی پاکستان کے حالات خراب تر ہوتے جا رہے تھے۔ نومبر 1971ء میں انڈیا نے بغیر اعلان جنگ مشرقی پاکستان میں فوج داخل کر دی اور مکتی باہنی کے نام پر ریگولر انڈین ٹروپس مشرقی پاکستان میں پاک فوج سے گتھم گتھا ہو گئے۔ 3دسمبر 1971ء کو پاکستان نے انڈیا کے خلاف باقاعدہ اعلان جنگ کر دیا۔ شاید 5یا 6دسمبر 1971ء کو ایک فلیش سگنل کے ذریعے میری پوسٹنگ ہیڈکوارٹر ایسٹرن کمانڈ، ڈھاکہ کر دی گئی۔ میں نے فوراً (Forth With)موو کرنا تھا۔ چنانچہ برادرِ نسبتی مقبول صاحب کو پاک پتن سے بلوایا اور بچے اس کے حوالے کرکے، موومنٹ آرڈر لیا اور ایمبارکیشن ہیڈکوارٹر کراچی چلا گیا۔ ان ایام میں PIA کی پروازیں براستہ کولمبو (سری لنکا) ڈھاکہ جا رہی تھیں۔ میرے ساتھ اور آفیسرز بھی تھے۔ ہم سب اگلی فلائٹ کا انتظار کرنے لگے لیکن ”اگلی فلائٹ“ کو نہ آنا تھا، اس لئے نہ آئی۔16دسمبر کو ڈھاکہ فال ہو گیا اور میں پھر واپس خضدار پہنچ کر قلات سکاؤٹس میں شامل ہو گیا۔

1972ء کا پورا سال میں نے خضدار میں گزارا۔ کبھی بطور ایڈجوٹنٹ، کبھی ٹو آئی سی، کبھی کوارٹر ماسٹر اور کبھی وڈھ، زہری، زیدی اور سوراب وغیرہ میں معمول کی گشتوں کے ساتھ۔ اس دور میں سارے بلوچستان میں کوئی ریگولر آرمی یونٹ نہیں تھی۔ سردار عطاء اللہ مینگل وزیراعلیٰ تھے جن کو بعد میں بھٹو صاحب نے سیک کر دیا…… میں یہاں اس موضوع پر کچھ بات نہیں کروں گا کہ ان کوکیوں سیک کیا گیا اور ان کے جانشین کو کیوں لایا گیا۔ ہاں اتنا ضرور عرض کروں گا کہ قلات سکاؤٹس میں پوسٹنگ کے دوران میں نے کوئٹہ،قلات، خضدار،لس بیلا، حب، کراچی اور مارا، تربت، گوادر، مستونگ، تفتان، احمد وال، نوشکی، دالبندین،خاران، مکران، مشکے، الغرض بلوچستان کا چپہ چپہ چھان مارا……

مارچ 1973ء میں میری پوسٹنگ جب خضدار سے گلگت سکاؤٹس ہوئی تو میں نے خضدار سے کوئٹہ جاتے ہوئے پہلی بار ریگولر آرمی کے ٹروپس دیکھے جو کوئٹہ سے براستہ قلات، خضدار جا رہے تھے۔

قلات سکاؤٹس کے قیام کے ان تین برسوں میں مجھے دو فائدے ہوئے۔ ایک یہ کہ نان ایجوکیشن فرائض کو جی بھر کر جاننے اور بجا لانے کا اتفاق ہوا اور دوسرے پروفیشنل امور اور ملٹری ہسٹری کے مطالعہ کا جو وقت ملا اس نے مجھے ہمیشہ کے لئے اردو اور فارسی کے افسانوی اور شعری ادب سے ہٹا کر انگریزی ملٹری لٹریچر کا گرویدہ بنا دیا۔ یہ گرویدگی بعد میں مرورِ ایام کے ساتھ ایک مشن میں تبدیل ہو گئی اور مشن یہ تھا کہ عسکری مضامین و موضوعات کو انگریزی سے اردو زبان میں منتقل کرکے پاکستان کے عوام میں عسکری امور کو سمجھنے کا شعور پیدا کروں۔

میں سمجھتا ہوں کہ یہ جو میں گزشتہ 20،22برسوں سے دفاعی امور پر لکھ رہا ہوں تو اس کالم نگاری یا مضمون نویسی میں میری آرمی کی سروس کا بڑا ہاتھ ہے۔ میں نے بے شک کوئی جنگ نہیں دیکھی، نہ کسی جنگ میں حصہ لیا اور نہ شمشیروسناں کو آزمایا۔ لیکن شمشیروسناں کو آزمانے والوں کے ساتھ ساری پروفیشنل زندگی گزار دی۔ ایسی کتب میرے قلم سے نکلیں جن کا موضوع خالصتاً عسکریت تھا(مثلاً انفنٹری: ایک ارتقائی جائزہ یا جنگ عظیم دوم کے عظیم کمانڈرزیا ایسی کتابوں کے اردو میں تراجم جو خالصتاً پروفیشنل ”نسل“ سے متعلق تھے مثلاً کنڈکٹ آف وار از جنرل فلراور شکست سے فتح تک از فیلڈ مارشل ولیم سلم وغیرہ)

بنابریں میں سمجھتا ہوں کہ اردو زبان میں اگر کوئی سویلین قاری مجھے یہ پوچھتا ہے کہ انڈیا اور چین میں جنگ ہو گی یا نہیں تو اپنی محدود عقل و فراست اور مطالعے و مشاہدے کے بل پر کچھ نہ کچھ خامہ فرسائی اور لب کشائی ضرور کر سکتا ہوں۔(جاری ہے)

مزید :

رائے -کالم -