ورلڈ ہیپاٹائٹس ڈے2020ء

ورلڈ ہیپاٹائٹس ڈے2020ء

  

محمد یاسین خان

شعبہ طب میں جسمانی افعال کے اعتبار سے دل، دماغ اور پھیپھٹروں کے ساتھ ساتھ جگر کا شمار بھی اعضائے رئیسہ میں کیا جاتا ہے۔ اگر دل اور پھیپھٹروں کے کام میں کوئی خرابی پیدا ہو جائے تو مصنوعی طریقے سے انہیں بحال کیا جا سکتا ہے۔ جیسے کہ دل کے عارضے کو وینٹی لیٹر کے ذریعے بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح گردوں میں خرابی کو ڈائی لیسز کے ذریعے بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ لیکن جگر کے لئے ابھی تک کو ئی ایسی مشین نہیں بنائی جا سکی جس کے استعمال سے جگر کی کار کردگی کو بہتر بنایاجا سکے۔ یعنی جگر کے عارضہ میں مبتلا مریض کے علاج میں تاخیر برتی جائے تو اس موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ جگر انسانی جسم کا اہم عضو ہے جو پسلیوں کے نیچے پایا جاتا ہے اور اس کے چند اہم افعال ہیں جن میں خون کے فاسد اور زہریلے مادوں کی صفائی، خون کے انجماد میں مدد، ہاضمے میں مدد اور نظام اخراج میں مدد کر نا شامل ہیں۔ جگر جسم میں بطور فیکٹری کا کام بھی سر انجام دیتا ہے یعنی غذا سے قابل استعمال مواد ذخیرہ کر کے جسم کے لیے قابل استعمال بنا تا ہے۔

جگر کے خراب ہونے کی بنیادی طور پر دو وجوہات ایک وائرسز کا حملہ اور الکحل کا استعمال شامل ہیں۔ان وجوہات کی بناء پر جگر کو مختلف امراض لاحق ہو سکتی ہیں۔ جن کو ماہرین نے ہیپاٹائٹس اے، بی، سی، ڈی، ای وغیرہ شامل ہیں۔ ہیپاٹائٹس اے کا وائرس منہ کے ذریعے جسم میں داخل ہو کر جسم کو نقصان پہنچا سکتا ہے تا ہم یہ وائرس دو سے آٹھ ہفتوں میں عموماً از خود ٹھیک ہو جاتا ہے۔ اس وائرس سے بچاؤ کی ویکسین بھی موجود ہے۔ پاکستان میں سب سے زیادہ ہیپاٹائٹس اے پایا جاتا ہے۔ ہیپاٹائٹس اے کی علامات میں بھوک کم لگنا، تھکاوٹ، آنکھوں اور جسم کا پیلا ہو جانا، گھبراہت وغیرہ شامل ہیں۔ہیپاٹائٹس اے کی تشخیص کے لئے اینٹی باڈیز کے ٹیسٹ کر وائے جا تے ہیں۔ ہیپاٹائٹس بی کا وائرس جسم میں زخم، خرش، جسمانی رطوبت اور خون کے ذریعے تندرست فرد میں داخل ہو کر اس نقصان پہنچاتا ہے اس کے علاوہ آلات جراحی کا سٹلائرزڈ نہ ہو نا غیر محفوظ جنسی تعلقات بھی اس وائرس کے انتقال کا سبب بناتے ہیں۔ اگر حاملہ خواتین میں ہیپاٹائٹس بی پایا جائے تو وہ زچگی کے وقت بچوں میں یہ مرض منتقل کر سکتی ہیں یہی وجہ ہے حاملہ خواتین کی ہیپاٹائٹس بی کی ویکسی نیشن بھی کی جاتی ہے اور نومولود بچے کو بھی ویکسی نیشن کے ذریعے محفوظ کیا جاتاہے۔ بڑوں میں 80فیصد جسم کے دفاعی نظام کے ذریعے ہی اس وائرس کو شکست ہو جاتی ہے۔ تا ہم یہ تمام افراد ہیپاٹائٹس بی کے کیرئیر کہلاتے ہیں جو کے وائرس کو آگے منتقل کر سکتے ہیں۔ ہیپاٹائٹس بی کی تشخیص HBsagاور HBeAg ٹیسٹس کے ذریعے کی جاتی ہے۔ متاثرہ انسان میں یہ مرض 5سے 20سال کے عرصے میں جگر کے سرطان کا موجب بنا سکتا ہے۔ ہیپاٹائٹس بی کی ویکسین سمیت مرض کے تمام مراحل کا علاج موجود ہے۔مگر ذیادہ تر مریض اس وقت معالج سے رابطہ کرتے ہیں جب عارضہ ذیادہ پیچیدہ ہو جاتا ہے۔

ہیپاٹائٹس سی بھی جسمانی رطوبتیں،متاثرہ خون کا انتقال، متاثرہ سر نج کادوبارہ استعمال وغیرہ کی وجہ سے لاحق ہوتا ہے۔ ہیپاٹائٹس سی کا وائر س جسم میں داخل ہونے کے 6سے 8ہفتے تک کوئی علامت ظاہر کرتا۔ ہیپاٹائٹس سی کی تشخیص کا بنیادی ٹیسٹ Anti HCV ہے۔ یہ ٹیسٹ صرف جسم میں وائر س کی موجودگی کو ظاہر کرتا ہے تاہم اس کی تعداد کا تعین (polymerase chain reaction)ٹیسٹ کے ذریعے کیا جاتا ہے اگر ٹیسٹ مثبت ہو علاج کی ضرورت پڑتی ہے۔ مگر ذیادہ تر مریض معالج سے دیر سے رجوع کرتے ہیں اور تب تک جگر Cirrhosisکا شکار ہو جاتا ہے اگر بروقت علاج کیا جائے تو مرض 3سے 6ماہ میں ختم کیا جاسکتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ذیادہ تر لوگ اس مرض سے صحت یاب ہو نے کے لیے مختلف ٹو ٹکے آزماتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں جگر کا سرطان لاحق ہوجاتا ہے۔

ہیپاٹائٹس ڈی ایک طفیلی وائرس ہے جو ہیپاٹائٹس بی کے ساتھ مل کر انسانی جسم کو نقصان پہنچاتا ہے تاہم اس سے متاثرہ لوگ نسبتاً کم پائے جاتے ہیں۔ ہیپاٹائٹس ای بھی منہ کے ذریعے جسم میں داخل ہو کر جگر تک رسائی حاصل کر لیتا ہے۔ اس مرض کے سبب یرقان لاحق ہو سکتا ہے۔ مرض کی تشخیص خون اور پاخانے کے ٹیسٹ کے ذریعے کی جاتی ہے تاہم یہ مرض قابل علاج ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے زیراہتمام ہر سال 28جولائی کو ورلڈ ہیپاٹائٹس ڈے منایا جا تا ہے۔ رواں سال اس کا موضوع”Find the missing milions“ہے۔ جس کے مطابق جو تما م افراد اس بیماری کو نظر انداز کرتے ہوئے موت کا شکار ہو جاتے ہیں ان میں بیماری سے متعلق شعور بیدار کرنا ہے تاکہ بروقت علاج کے ذریعے ان قیمتی جانوں کو بچایا جا سکے۔ جس طرح بیماری کے انتقال کی بنیادی وجہ غیر مناسب طریقے سے خون کا سکرین ہو نابتایا گیا ہے۔

جس طرح مضمون میں ہیپاٹائٹس کے لاحق ہونے کی بنیادی وجہ غیر سکرین شدہ خون بتایا گیا ہے اسی لیے یہاں اُن تمام مریضوں کا ذکر کرنا ضروری ہے جو کہ پیدائش سے ہی خون کے عارضہ میں مبتلا ہوتے ہیں اور انہیں ہر 10سے 15دن کے وقفے سے خون یا اجزائے خون کا انتقال کروانا پڑتا ہے اسی طرح کے امراض میں مبتلا مریضوں میں تھیلے سیمیا، ہیمو فیلیا کے مریض شامل ہیں۔ پاکستان میں ان مریضوں کے علاج معالجہ کے لئے کئی ادارے کام کر رہے ہیں جن میں ایک نام سُندس فاؤنڈیشن کا بھی ہے جو اپنی طرز کا واحد ادارہ ہے۔ تھیلے سیمیا،ہیمو فیلیا کے مریض بچوں کو صاف اور صحت مند خون فراہم کیا جاتا ہے یہ خون جدید آلات پر سکرین کیا جاتا ہے اور صحت مند خون تمام خدمات لاہور، گو جرانوالہ،گجرات، فیصل آباد، سیا لکوٹ، اسلام آباد میں بلا معاوضہ فراہم کر رہاہے نہ صرف رجسٹرز مریضوں کو بلکہ نا گہا نی آفات میں تمام سرکار ی ہسپتالوں کو بھی خون کی فراہمی یقینی بنا ئے ہوا ہے۔ حال ہی میں کرونا وباء کے باعث تمام کرونا متاثرہ افراد کو پلازمہ جیسی خدمات کے لئے بھی سُندس فاؤنڈیشن نے اہم کردار ادا کیا ہے ضرورت اس امرکی ہے کہ مخیر حضرات سُندس فاؤنڈیشن کو اپنے زکوٰۃ و عطیات دیں تا کہ معاشرے کو صاف اور صحت مند خون کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے۔

مزید :

رائے -کالم -