تاجراتحادکا 12بجے کے بعد لاک ڈاؤن کا فیصلہ

تاجراتحادکا 12بجے کے بعد لاک ڈاؤن کا فیصلہ

  

پشاور(سٹی رپورٹر)تاجر اتحاد خیبر پختونخوا نے پنجاب حکومت کی جانب سے 12بجے کے بعد لاک ڈاون کے فیصلہ کو مسترد کرتے ہوئے حکومت کے اس اقدام کو تاجر کے معاشی قتل کے مترادف قرار دیا ہے جبکہ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ تاجروں کو ایک ہفتہ کیلئے چوبیس گھنٹے کاوربار کرنے کی اجازت دی جائے کیونکہ تاجر برادری پہلے ہی کئی ماہ لاک ڈاون سے متاثر ہو چکے ہے بصورت دیگر مرکزی تنظیم تاجران کے لائحہ عمل کے بعد مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہے اس بات کا فیصلہ تاجر اتحاد خیبر پختونخوا کے ہنگامی اجلاس میں کیا گیا جو زیر صدارت مجیب الرحمن منعقد ہوا جبکہ اجلاس میں شوکت اللہ ہمدرد،میاں اختر،طفر منہاس،افتاب احمد اور شاہدخان سمیت دیگر صدور نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب میں مجیب الرحمن نے کہا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے اج 12بجے کے بعد عید تک لاک ڈاون کے فیصلہ تاجروں کے معاشی قتل عام کے مترادف ہے جسکی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی ماہ سے لاک ڈاون کے باعث تاجر برادری پہلے ہی فاقہ کشی پر مجبور ہے تاہم حکومت تاجروں کو ریلیف دینے کے بجائے الٹا پنجاب میں عید تک لاک ڈاون کا فیصلہ کیا گیا جو تاجروں پر ظلم ہے۔۔انہوں نے کہا کہ تاجروں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے حکومت ہوش کے ناخن لے اور ایسے فیصلوں سے گریز کریں جبکہ مطالبہ کیا ہے کہ تاجروں کو ایک ہفتہ کیلئے چوبیس گھنٹے کاروبار کرنے کی اجازت دی جائے بصورت دیگر احتجاج پر مجبور ہونگے جبکہ مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے لائحہ عمل انے کی بعد مرکزی تنظیم پاکستان کے سربراہ اجمل بلوچ کی کال پر لبیک کرینگے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -