رائل پام لیز، ریلوے پر پوزل جائزہ رپورٹ طلب: کوئی سیاسی وباء برداشت نہیں کرینگے جسٹس اعجاز الاحسن

رائل پام لیز، ریلوے پر پوزل جائزہ رپورٹ طلب: کوئی سیاسی وباء برداشت نہیں ...

  

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ آف پاکستان نے رائل پام کی لیز سے متعلق کیس میں سرمایہ کاری بورڈ کی صلاحیت پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بی او آئی کو ریلوے پرپوزل کی جائزہ رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیدیا جبکہ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا ہے کہ لیز کے معاملے میں کوئی سیاسی دباؤ برداشت نہیں کرینگے،سیاسی دباؤ آئے تو عدالت کو آگاہ کریں۔پیر کو دور ان سماعت جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ بورڈ آف انویسٹمنٹ کو ریلوے کے پرپوزل کے تجزیے کا کہا تھاحکام بی او آئی کے مطابق سرمایہ کاری بورڈ کے پاس مالی پیشکش کا جائزہ لینے کی صلاحیت نہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ پیشکش کا جائزہ نہیں لے سکتے تو بی او آئی کا کام کیا ہے؟۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہاکہ سرمایہ کاری بورڈ کا بجٹ کتنا ہے؟۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹر بی او آئی کے مطابق سالانہ 270 ملین روپے کا بجٹ ملتا ہے۔ بی او آئی حکام کے مطابق بزنس پیشکش کے جائزہ کیلئے نجی کنسلٹنٹ کی خدمات لیتے ہیں۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ سارا کام نجی کنسلٹنٹ نے کرنا ہے تو 270 ملین کہاں خرچ ہوتا؟ بڑے بڑے ناموں والے حکومتی ادارے کوئی کام نہیں کرتے، بورڈ آف انویسٹمنٹ کا کام ہی سرمایہ کاری لانا ہے، ماہرین ہی نہیں تو بی او آئی کیا صرف ڈاکخانے کا کام کرتا ہے؟۔ پی ٹی ڈی سی کے تمام اثاثے بی او آئی نے تباہ کر دئیے۔ جسٹس اعجاز لاحسن نے کہاکہ شیخ رشید کہتے تھے لوگ سرمایہ کاری کیلئے دروازے توڑ رہے ہیں، دروازے توڑنے والے سرمایہ کار کہاں بھاگ گئے؟ لیز کے معاملے میں کوئی سیاسی دباؤ برداشت نہیں کرینگے۔

سیاسی دباؤ

مزید :

پشاورصفحہ آخر -