لمز کاگریجویشن کرنے والے طلباء کو خراج تحسین

      لمز کاگریجویشن کرنے والے طلباء کو خراج تحسین

  

لاہور(پ ر)COVID-19 وباء کے دوران لمز نے اپنی پہلی ورچوئل کانووکیشن تقریب 2020ء کی فیس بک پر میزبانی کی جس سے نوبل انعام یافتہ مس ملالہ یوسف زئی نے کلیدی خطاب کیا۔ یونیورسٹی کی قیادت بشمول ریکٹر لمز شاہد حسین، بانی پرو چانسلر سید بابر علی، پرو چانسلر عبدالرزاق داؤد اور وائس چانسلر ڈاکٹر ارشد احمد نے گریجویشن کرنے والے 1092 طلباء کو تہنیتی پیغامات دیئے۔ گریجویشن کرنے والے طلباء کے والدین، لمز فیکلٹی اور اسٹاف ممبران نے بھی ورچوئل تقریب میں شرکت کی۔ تقریب کا آغاز رجسٹرار کے خطبہ استقبالیہ سے ہوا جس کے بعد قومی ترانہ پیش کیا گیا۔ اس کے بعد ٹوپی ایک دوسرے کو آگے بڑھانے کی رسم بھی کی گئی جس میں 2020ء کی کلاس نے اکٹھے رہنے کے جذبہ کا اظہار کیا۔ اس کے بعد گریجویٹس اور اسٹوڈنٹ کونسل کے صدر کے پیغامات آئے اور پھر الوداع کے عنوان سے گریجویشن کرنے والی کلاس کو ایک ویڈیو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ ڈاکٹر ارشد احمد نے طلباء کو مبارکباد دی اور ان پر زور دیا کہ وہ معاشرے کی خدمت کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہ وقت ہے جب مدد کی اپیل زور پکڑ رہی ہے، جب معیشت اور ذاتی نقصان زیادہ دکھائی دے رہا ہے اور جب سماجی دباؤ اور عدم مساوات نے نئے معنی اختیار کرلئے ہیں۔ لہذا یہ آپ کا لمحہ اور آپ کا موقع بھی ہو سکتا ہے اور پہلے سے کہیں زیادہ ضروری کسی نیک سماجی وژن پر غور کے لئے ذاتی خواہش سے قطع نظر آپ کا لمحہ ہو سکتا ہے۔

اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے مس ملالہ یوسف زئی نے کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی کے سفر سے سیکھا کہ تبدیلی خود سے نہیں آتی، اس کیلئے آگے بڑھنے، بولنے اور کچھ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

انہوں نے طلباء پر زور دیا کہ وہ معیاری تعلیم میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کیلئے حکومت کی حوصلہ افزائی کریں کیونکہ میرا یقین ہے کہ یہ ہمارے ملک کی بہت ہی اہم سرمایہ کاری ہے۔ گریجویٹس سے مخاطب ہوتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ صنفی امتیاز اور نقصان دہ سماجی اقدار کے خلاف آواز بلند کریں۔ گھر، کلاس روم اور وسیع تر معاشرے میں اپنی زندگیوں اور اپنے مستقبل کے بارے میں معاشرتی اقدار لڑکیوں اور لڑکوں کے خیالات کو متاثر کرتے ہیں۔ سماجی اقدار تبدیل ہو سکتی ہیں اور آپ ملک بھر کے معاشروں میں لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے اپنی آواز بلند کرتے ہوئے انہیں تبدیل کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔ لمز کے ریکٹر شاہد حسین نے گریجویٹس کو مسائل کے لئے تخلیقی حل تلاش کرنے کا مشورہ دیا اور طلباء کے لئے اپنی نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ آپ لوگوں نے جس طرح چیلنج کا مقابلہ کیا اور غیر معمولی پختگی، لچک اور عزم کا مظاہرہ کیا، اس پر مجھے فخر ہے۔ انہوں نے نیشنل مینجمنٹ فاؤنڈیشن ایوارڈ جیتنے والوں کا بھی اعلان کیا۔ پرو چانسلر عبدالرزاق داؤد نے لیڈرز کی نیکسٹ جنریشن کے طور پر گریجویٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ COVID-19 کے اثرات سے پوری دنیا بحال ہوئی ہے، وہ ہمیں مقصد، امید اور آگے بڑھنے کا راستہ فراہم کرنے کے لئے آپ کی جانب دیکھے گی۔ بانی پرو چانسلر سید بابر علی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ گریجویٹس کس طرح آگے بڑھنے کا راستہ اختیار کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ حقیقی دنیا میں داخل ہو رہے ہیں۔ ڈگری یا سرٹیفیکیٹ جو آپ یہاں سے حاصل کریں گے، آپ کے اگلے کیریئر یا آپ کے اگلے پیشہ کیلئے صرف انٹری پاس ہے۔ اس کے بعد آپ کا موازنہ کیا جائے گا کہ آپ نے اپنی کوشش سے کتنی سخت محنت کی۔ جیسے کہ لمز میں قیام کے دوران آپ پر دباؤ تھا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آپ کو اپنی سچائی، دیانتداری اور عاجزی کے ذریعے آزمایا جائے گا کہ آپ اپنے ساتھ کس طرح کا برتاؤ کرتے ہیں۔ ورچوئل کانووکیشن میں لمز کے سابق طلباء نے اپنے گذرے وقت اور اپنی زندگیوں پر اس کے دوررس اثرات کے حوالے سے یادگار لمحات کا بھی تبادلہ کیا۔ ان کے ساتھ مختلف اسکولوں کے ڈینز بھی موجود تھے جنہوں نے سبکدوش ہونے والے طلباء کو مبارکباد دی اور ان کے مستقبل میں کامیابی کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ گریجویشن کرنے والے طلباء کو آن لائن ڈگریاں دی گئیں اور میڈلز جیتنے والوں اور ڈینز آنرز لسٹ میں شامل طلباء کو ان کی کارکردگی پر سراہا گیا۔

مزید :

کامرس -