مناسب احتیاطی تدابیر کے ذریعے ہیپاٹائٹس سے بچنا ممکن ہے ڈاکٹرشاہانہ شاہد‘

  مناسب احتیاطی تدابیر کے ذریعے ہیپاٹائٹس سے بچنا ممکن ہے ڈاکٹرشاہانہ شاہد‘

  

لاہور(پ ر)دنیا بھر میں اس سال ہیپا ٹائیٹس سے آگاہی کا دن 'ہیپاٹائٹس سے پاک مستقبل'کے عنوان سے منایا جا رہا ہے۔ یہ ایک ایسی خاموش بیماری ہے جس میں مبتلا زیادہ تر افراد اس بات سے لاعلم رہتے ہیں کہ وہ اس خطرناک مرض کاشکار ہو چکے ہیں۔ ورلڈ ہپاٹائیٹس ڈے ایک ایسا موقع ہے جب ہمیں اس مرض کی تمام اقسام، علامات اور وجوہات کے بارے میں زیادہ سے زیادہ آگاہی حاصل کرنے اور پھیلانے کی ضرورت ہے تا کہ اس میں مبتلا فراد بروقت تشخیص و علاج کے مرحلے سے گزر کر ایک صحت مند زندگی کی طرف لوٹ سکیں۔ ان خیالات کا اظہار ڈاکٹرشاہانہ شاہد کنسلٹنٹ گیسٹرو انٹرولوجسٹ، شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اور ریسرچ سنٹر نے ورلڈ ہیپا ٹائیٹس ڈے کے موقع پرکیا۔ ڈاکٹرشاہانہ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں وائرل ہیپا ٹائیٹس تیزی سے پھیل رہا ہے اور ملک بھر میں اس وقت ڈیڑھ کروڑ افراد اس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ ہیپا ٹائٹس کی مختلف اقسام ہیں جن میں سے ہیپا ٹائیٹسA اورE آلودہ پانی کے استعمال سے پھیلتا ہے۔

، ہیپا ٹائیٹس کی یہ قسم خود کار طریقے سے ٹھیک بھی ہو جاتی ہے۔ ہیپا ٹائیٹسBاور C کا وائرس جسم میں کسی بھی زخم کے ذریعے داخل ہو سکتاہے۔ عموماً ان دونوں کے پھیلا ؤ کی زیا دہ تر وجوہ میں ایک سے زائد بار سرنج کا استعما ل، غیر مطہر آلات جراحی کا استعمال، غیر محفوظ انتقال خون، ایک ہی استرے یا بلیڈ سے حجامت بنوانا شامل ہیں۔ عام افراد کی نسبت سرنجکیذریعہ نشہ کرنے کے عادی اور تھیلیسیمیا کے مریضوں میں ہیپا ٹائیٹسBاور C بہت زیادہ پایا جاتاہے۔ علامات ظاہر ہونے کے بعد ہیپا ٹائیٹس BاورCتیزی سے جگر کو متائثر کرتے ہیں۔

ہپاٹائیٹس سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ سالانہ یا شش ماہی بنیادوں پر باقاعدگی سے اس کا ٹیسٹ کروا لیا جائے تا کہ اگر جسم میں اس مرض کے پائے جانے کا خدشہ ہو توبر وقت علاج کے ذریعے اس پر قابو پایا جاسکے۔ یاد رہے ہر قسم کے ٹیسٹ کیلیے ہمیشہ مستند لیبارٹری سے ہی رجوع کرنا چاہیے۔ پاکستان میں تشخیصی سہولیات فراہم کرنے والے بہت سے قابل اعتماد ادارے موجود ہیں لیکن شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اور ریسرچ سنٹرکے لیبارٹری کولیکشن سنٹرز بین لاقوامی معیار کی ڈائیگناسٹک سروسز کی فراہمی میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اور ریسرچ سنٹر میں زیر ِ علاج کینسر کے مریضوں کے لیے خون کا عطیہ دینے والے رضاکاروں کے لیے ہیپاٹائیٹس کے ٹیسٹ بلا معاوضہ کیے جاتے ہیں۔

ہیپا ٹائیٹس کی روک تھام کے سلسلے میں احتیاطی تدابیر کے حوالے سے آگاہی کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹرشاہانہ کا کہنا تھا کہ میڈیکل سٹاف، جیسا کہ ڈاکٹرز، نرسز اور دیگر ایسا عملہ جس کا مریض سے براہ راست تعلق ہو انہیں احتیاطی تدابیر کی مناسب ٹریننگ دی جانی چاہئیے۔ اسی طرح ہسپتالوں میں انجکشنز اور ڈرپس کے ذریعے علاج کو کم سے کم سطح پر لانے کی کوششیں بھی اچھے نتائج دے سکتی ہیں۔ مرد حضرات کو چاہیے کہ وہ خود گھر میں شیو کریں اور اگر حجام کے پاس جانا ہی پڑے تو اپنی شیونگ کٹ ساتھ لے کر جائیں۔ کھانے پینے میں احتیاط بھی ہیپاٹائیٹس سے بچنے میں مدد دے سکتی ہے، ہمیشہ صاف اور ابلا ہوا پانی استعمال کریں، کھانا اچھی طرح پکا ہوا اور تازہ کھائیں اور کھانے سے پہلے اچھی طرح ہاتھ دھوئیں۔ کبھی کسی حکیم یا جعلی ڈاکٹر کے پاس ہر گز نہ جائیں صرف ایسے ڈاکٹر یا ڈینٹسٹ کے پاس جائیں جہاں sterilized آلات استعمال کیے جاتے ہوں۔ گزشتہ چند سالوں میں ہیپا ٹائیٹس کے علاج میں خاطر خواہ ترقی ہوئی ہے، ہیپا ٹائیٹسB سے بچاؤ کے لیے حفاظتی ٹیکے اور مرض کو مزید بڑھنے سے روکنے کی تمام ادویات پاکستان میں بھی دستیاب ہے۔

یہ کہنا بالکل غلط نہ ہو گا کہ اگر وائرل ہیپا ٹائیٹسBاورCکا بروقت اور مناسب علاج نہ کروایا جائے تو یہ جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔پاکستان کوہیپاٹائیٹس سے پاک ملک بنانے کے لیے اس مرض کے انسداد کے لیے ہر سطح پر موئژ حکمت عملی ترتیب دے کر راہنما اصولوں پر سختی سے عمل درآمد کروایا جانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

مزید :

کامرس -