چھ ہزار پاکستانی طالبان افغانستان میں روپوش، داعش کے اتحادی بن چکے: اقوام متحدہ

چھ ہزار پاکستانی طالبان افغانستان میں روپوش، داعش کے اتحادی بن چکے: اقوام ...

  

واشنگٹن (اظہر زمان، بیورو چیف) اس وقت چھ ہزار سے زائد تحریک طالبان پاکستان کے جنگجو شمالی علاقوں میں پاک فوج کے آپریشنز سے بچنے کیلئے فرار ہوکر افغانستان میں جا چھپے ہیں۔ اقوام متحدہ کی ایک تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان پاکستان مخالف عناصر نے افغانستان میں داعش کے جنگجوؤں سے اتحاد کرلیا ہے۔ یاد رہے کہ افغان طالبان کابل انتظامیہ اور امریکی و یورپی اتحاد تمام داعش مخا لف ہیں جو مشرق وسطی سے پسپا ہوکر افغانستان کی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر یہاں قدم جمانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مبصرین کا خیال ہے داعش کے یہ جنگجو پاکستان کے بھی مخالف ہیں جس نے ان کی پاکستان سے بھرتی یا فنڈز ریزنگ کی شدید مزاحمت کی تھی۔ اب اگر یہ دونوں گروہ افغانستان میں بیٹھ کر باہمی اتحاد کرکے پاکستان مخالف محاذ کھول لیتے ہیں تو یہ پاکستان کیلئے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق پاکستان میں عدم تحفظ کے باعث بعض پاکستانی طالبان باقاعدہ داعش میں شامل ہوگئے ہیں جنہوں نے مشرقی افغا نستان میں پاکستان کی سرحد کے قریب خفیہ کیمپ لگائے ہوئے ہیں۔ اس وقت اس علاقے میں موجود داعش کے جنگجوؤں کی تعداد 2200بتائی جاتی ہے اس کے لیڈروں میں شامی نسل کا ابوسعید محمد خراسانی بھی شامل ہے۔ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ داعش کے دو سینئر لیڈرز ابوقطبہ اور ابوحجار خراسانی ابھی حال ہی میں مشرق وسطی سے یہاں پہنچے ہیں۔

اقوام متحدہ

مزید :

صفحہ اول -