کلبھوشن کو اپیل کا حق دینے سمیت 8آرڈیننس قومی اسمبلی میں پیش، سپیکر نے متعلقہ کمیٹیوں کے حوالے کر دیئے

  کلبھوشن کو اپیل کا حق دینے سمیت 8آرڈیننس قومی اسمبلی میں پیش، سپیکر نے ...

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)قومی اسمبلی میں بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو اسلام آبادہائی کورٹ میں اپیل کا حق دینے سے متعلق آرڈیننس سمیت8آرڈیننس پیش کر دئیے گئے۔ تمام آرڈیننس مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان نے پیش کئے۔ عالمی عدالت انصاف(نظرثانی و غور مکرر) آرڈیننس 2020 کے تحت غیر ملکی شہری فوجی عدالت کی جانب سے سزا پر نظر ثانی کیلئے ہائی کورٹ میں نظرثانی اپیل دائر کر سکے گا، ہائی کورٹ معائنہ کریگی کہ غیر ملکی کیساتھ اسکے اپنے حق دفاع،حق شہادت اور منصفانہ سماعت مقدمہ میں ویانا کنونشن برائے کونسلرریلیشن کے ضمن میں کوئی تعصب تو نہیں برتا گیا۔پیر کو قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر اسد قیصر کی کی زیر صدارت ہوا۔اجلاس میں عالمی عدالت انصاف(نظرثانی و غور مکرر) آرڈیننس 2020،کمپنیات (ترمیمی)آرڈیننس2020،کارپوریٹ ری سٹرکچرنگ کمپنیز(ترمیمی)آرڈیننس2020،کمپنیات (دوسری ترمیم)آرڈیننس2020اورپبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ اتھارٹی (ترمیمی)آرڈیننس2020پیش کر دئیے گئے۔تمام آرڈیننس مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان نے پیش کئے۔ عالمی عدالت انصاف(نظرثانی و غور مکرر) آرڈیننس 2020 کے تحت غیر ملکی شہری فوجی عدالت کی جانب سے سزا پر نظر ثانی کیلئے اپیل اپنے نمائندے یا اپنے ملک کے مشن کونسلر افسر کے توسط سے ہائی کورٹ کے روبرو دائر کر سکے گا،غیر ملکی شہری اپنی سزا کیخلاف60دن کے اندر نظرثانی کی اپیل دائر کر سکے گا۔آرڈیننس کے تحت ہائی کورٹ معائنہ کریگی کہ غیر ملکی کیساتھ اس کے اپنے حق دفاع،حق شہادت اور منصفانہ سماعت مقدمہ میں ویانا کنونشن برائے کونسلرریلیشن 1963 کی مطابقت میں قونصل رسائی کے انکار کی وجہ سے ضمن میں کوئی تعصب تو نہیں برتا گیا۔۔اس موقع پر پیپلز پارٹی کے سید نوید قمر نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن نے فیصلہ کیا ہے کہ تمام بل متفقہ طور پر منظور ہوں گے،ان بلز کی منظوری کا عمل روک دیا جائے۔اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ یہ بل یہاں پیش کئے گئے ہیں انھیں متعلقہ کمیٹی کے سپرد کیا جائے گا۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹوزرداری نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف اور نیشنل ایکشن پلان پر حکومت کی ضرورت پوری کریں گے،اپوزیشن اور حکومت کو اتفاق رائے سے قانون سازی کرنی ہوگی،قائمہ کمیٹیاں موجود ہیں جہاں اتفاق رائے پیدا ہوسکتا ہے،جب اتفاق رائے پیدا ہوتو قانون سازی کرلیں،بابر اعوان ہماری حکومت میں تھے اپوزیشن کیساتھ کام کرتے رہے ہیں،بابر اعوان کو پتا ہے،جب اپوزیشن اتفاق رائے سے بل پاس کروانا چاہتی ہے تو پھر حکومت کیوں ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کررہی ہے،ہم کہہ سکتے ہیں کہ حکومت قانون سازی میں اپوزیشن کو اہمیت نہیں دے رہی،درخواست ہے کہ قانون سازی سے متعلق کمیٹی میں ان بلز کو بھیج دیں۔مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے کہا کہ یہ بل ڈیڑھ سال سے زیرالتواء تھے،بلز کو کمیٹی میں بھیج دیں، منگل کو کمیٹی کا اجلاس بلا کر اس پر بات کر لیں گئے اور بدھ کو ایوان سے بل پاس کر لیں گے،حکومت بھی اپوزیشن سے اتفاق رائے کے ساتھ قانون سازی کرنا چاہتی ہے،قانونی طریقہ کار کو بھی اختیار کرنا ہے اس لیے بلز ایوان میں پیش کیے۔اس موقع پر سپیکر اسد قیصر نے تمام بل متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کو بھجوا دئیے۔دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ ترمیمی بل 2018، آئی سی ٹی معذور افراد کے حقوق کا بل،فن فساحت و نقشہ کشی ترمیمی بل 2020اور فیڈرل پبلک سروس کمیشن بل 2020منظوری کیلئے مشترکہ اجلاس کو ارسال کر دئیے گئے،مذکوز بلز قومی اسمبلی سے منظور ہوئے سینٹ نے مسترد کیے۔ دریں اثناقومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومت کی نجکاری پالیسی پر اپوزیشن نے کڑی تنقید کی، وفاقی وزیر مراد سعید اور احسن اقبال چکدرہ چترال موٹروے منصوبے پر آمنے سامنے آگئے،قادر پٹیل نے بھی اپنے منفرد انداز میں حکومت پر تنقید کے نشتر چلائے جبکہ وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید کا کہنا تھا کہ چکدرہ چترال سڑک سی پیک کا حصہ نہیں،تمام ریکارڈ ساتھ لایا ہوں جس کو شک ہے وہ دیکھ سکتا ہے،کوئی بھی چیز پاکستان میں بنے تو (ن)لیگ کہتی ہے نوازشریف نے بنائی، کیا پاکستان بنانے کا خواب بھی نواز شریف نے دیکھا تھا؟۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ ایک سابق وزیر نے کہا کہ چکدرہ چترال سڑک سی پیک کا حصہ تھا،یہ سڑک اور منصوبہ کبھی سی پیک کا حصہ نہیں تھا،پچھلے سال ہماری حکومت نے اس منصوبے کو سی پیک میں شامل کرنے کی تجویز بھیجی،چین کے جواب کا نتظار کر رہے ہیں،کہا جا رہا ہے اس منصوبے کا فنڈ یہاں سے اٹھا کر سوات موٹروے منصوبے میں ڈال دیا گیا،مارچ 2021 سے چکدرہ چترال سٹرک کو دو رویہ کرنے کا آغاز رہے ہیں،ہمیشہ محروم رہنے والے علاقوں کو توجہ دے رہے ہیں،سارا ریکارڈ لایا ہوں کوئی سوال ہے تو جواب دے دیتا ہوں،لوئر دیر،دیر،چکدرہ،چترال منصوبوں کو سی پیک میں ڈلنے پر غیور عوام کو مبارکباد دیتا ہوں۔میں نے پانچ سوال کئے تھے ایک کا بھی جواب نہیں آیا،دیر چکدرہ چترال موٹروے جے سی سی میں میرے دستخطوں سے گیا ان کے دور میں کیسے منظور ہوا تھا،احسن اقبال نے مجھ پر پچاس ارب ہتک عزت کا دعوی کیا یہ ایک بار بھی پیش نہیں ہوا،اس رکن نے سمجھا تھا میں بھاگ جاوں گا،میں بھاگنے والا نہیں،عدالت نے ان کا دعوی عدم پیروی پر خارج کردیا،یہ میں پھر سوال کررہا ہوں،سپیکر صاحب۔ قرضہ کمیشن کی رپورٹ منگوائیں۔ جاوید صادق کا نام ان کے فرنٹ مین کے طورپر سامنے نہ آئے تو پھر کہنا۔مراد سعید کے خطاب کے بعد مسلم لیگ(ن) کے رکن اسمبلی و سابق وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ یہ ایوان منتخب لوگوں کا ایوان ہے،وزیر مواصلات میرے بارے مسلسل غلط بیانی کرتے رہے ہیں،دیر چکدرہ سمیت دیگر علاقوں کو چھٹی جے سی سی میٹنگ میں شامل کرلیا گیا،جو جو دعوے وزیر مواصلات کررہے ہیں وہ ہمارے دور میں منصوبے شامل کرچکے ہیں،دیر چکدرہ چترال موٹروے منصوبہ پی ٹی آئی نے پلان سے نکالا،ڈیرہ اسماعیل خان ژوب موٹروے دوہزار اٹھارہ میں مکمل ہونا تھی مگر اب دوہزار بیس میں مکمل ہوگی،بیلا آواران موٹروے بنانا طے ہوچکا تھا،میرے اوپر پچاس ارب روپے کے کمیشن کا الزام وزیر مواصلات نے لگایا،سال دوہزار بیس مکمل ہونے کو ہے مگر جے آئی ٹی نہیں بنی،ملتان سکھر موٹروے پر اگر میں نے پانچ روپے کمیشن لیا ہو تو اللہ کے ناموں کے نیچے کھڑے ہوکر کہتا ہوں اللہ میری نسلوں کو غارت کردے،یہ وزیر بھی اللہ کے ناموں کے نیچے کھڑے ہوکر یہی الفاظ کہیں۔اگر تحقیقات کرنی ہے تو آئی ایس آئی آئی بی جس مرضی ایجنسی سے تحقیقات کرالیں۔احسن اقبال نے کہاکہ مراد سعید کو شاید میری زبان سمجھ نہیں آتی، انکو قادر پٹیل کی زبان سمجھ آتی ہے،۔ پیپلزپارٹی کے رکن قومی اسمبلی عبدالقادر پٹیل نے حکومت پراپنے منفرد انداز میں تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سب سے پہلے آپ نے گھبرانا نہیں ہے،میری پوری تقریر سننا ہے،آپ سارا ملک فروخت کردیں مگر ہمارے شہیدوں کی نشانیاں اپنے اے ٹی ایمز کو نہ بیچیں انہوں نے کہاکہ نجکاری گزشتہ ادوار میں بھی بڑا مسئلہ تھا،ہم نے تو چیزیں خریدنا تھیں بیچنا تو نہیں تھیں،ہم نے تو 100 ارب ڈالر واپس کرنا تھے،اسٹیل ملز کے باہر تو اسد عمر نے کہا تھا کہ ہم اسے چلائیں گے،خالی اسٹیل ملز نہیں ہے اسٹیل ملز کی 12 ہزار ایکڑ زمین بھی ہے،حکومت نے پی ٹی ڈی سی کے ملازمین کو فارغ کردیا۔انہوں نے کہاکہ ایک وزیر کے بیان پر پوری ائیر لائن بیٹھ گئی،مسائل کی جب بات کی جاتی ہے تو اس کا جواب نہیں ملتا،نجکاری مہنگائی پر بات ہیں نہیں ہوتی،ایف اے ٹی ایف نیشنل ایکشن پلان بین الاقوامی بات ہو تو آپ کراچی پہنچ جاتے ہیں،کراچی میں دس سالہ تاریخ کی ریکارڈ بارش ہوئی،کراچی سے تحریک انصاف کے 14 ممبران قومی اسمبلی ہیں،حکومت نے ان ممبران اسمبلی کو 14 کروڑ روپے تک فی ایم این اے دئیے ہیں،پتہ نہیں یہ پیسے کہاں لگائے ہیں،وقفہ سوالات کے دوران بتایا گیا کہ جموں وکشمیر کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی میں پارکس،مسجداور سکول کے پالاٹ بھی فروخت کر دئیے گئے اس حوالے سے 37انکوائریاں چل رہی ہیں جو بھی ملوث ہوگا اس کے خلاف کاروائی کی جائے گی،نادرا میں روزانہ کی بنیاد پر 1279 ملازمین کام کر رہے ہیں،ایف آئی اے کے کل 6102آسامیاں ہیں جن پر4162 ملازمین کام کر رہے ہیں،ایف آئی اے میں اب صرف پولیس سروس کے ملازمین ہی ڈیپوٹیشن پر آسکتے ہیں 6 بحری جہازوں کی تعمیر کے منصوبے پر کام جاری ہے

مزید :

صفحہ اول -