سزا کی معطلی سے جرم ختم نہیں ہوتا، نیب کا مجرم سزا معطلی کے باوجود سرکاری عہدہ نہیں رکھ سکتا: سپریم کورٹ

سزا کی معطلی سے جرم ختم نہیں ہوتا، نیب کا مجرم سزا معطلی کے باوجود سرکاری ...

  

اسلام آباد (این این آئی) سپریم کورٹ آف پاکستان نے واضح کیا ہے کہ سزا معطل ہونے کا مطلب جرم ختم نہیں ہوتا،نیب مجرمان سزا معطل ہونے پر عہدے پر بحال نہیں ہو سکتے۔ پیر کو سپریم کور ٹ آف پاکستان نے نیب کے سزا یافتہ سرکاری افسر کی ملازمت پر بحالی کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ خلاف قانون قرار، حکومتی اپیل منظور کرلی۔ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہاکہ طاہر عتیق صدیقی ٹیلی فون انڈسٹریز میں ڈپٹی جنرل منیجر تھا، غیرقانونی ٹھیکہ دینے کے الزام میں پانچ سال قید بامشقت اور پچاس لاکھ جرمانہ ہوا، طاہر عتیق کو سزا ہونے پر محکمے نے برطرف کر دیا۔ سہیل محمود نے کہاکہ اپیل میں سزا معطل ہوئی تو ملزم نے عہدے پر بحالی کی درخواست دی، اسلام آباد ہائی کورٹ نے ملزم طاہر عتیق کی بحالی کا حکم دیا تھا۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہاکہ قانون کے مطابق سزا مکمل ہونے کے بعد مجرم دس سال عوامی عہدے کیلئے نااہل رہتا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ سزا معطل ہونے سے جرم ختم نہیں ہوتا، اپیل میں بری ہونے تک سرکاری و عوامی عہدے پر بحالی نہیں ہو سکتی۔دریں اثنا سپریم کورٹ نے ایک دن کے 14 لاکھ روپے تنخواہ وصول کرنے والے گریڈ 19 کے افسر کی پنشن سے متعلق درخواست مسترد کر دی۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے ایک دن میں 14 لاکھ روپے کی تنخواہ وصول کرنے والے 19 گریڈ کے افسر کی پنشن سے متعلق کیس کی سماعت کی۔اس موقع پر عدالت نے درخواست گزار بہادر نواب خٹک کی اپیل مسترد کرتے ہوئے برہمی کا اظہار کیا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایک دن کام کیا اور 14 لاکھ روپے تنخواہ لی، آپ کو پورے پاکستان کا خزانہ نہ دے دیں؟ ایک دن نوکری کر کے 14 لاکھ لیے، اس سے بڑھ کر ڈاکہ اور کیا ہو سکتا ہے؟۔دریں اثناسپریم کورٹ آف پاکستان نے رائل پام کی لیز سے متعلق کیس میں سرمایہ کاری بورڈ کی صلاحیت پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بی او آئی کو ریلوے پرپوزل کی جائزہ رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیدیا جبکہ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا ہے کہ لیز کے معاملے میں کوئی سیاسی دباؤ برداشت نہیں کرینگے،سیاسی دباؤ آئے تو عدالت کو آگاہ کریں۔پیر کو دور ان سماعت جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ بورڈ آف انویسٹمنٹ کو ریلوے کے پرپوزل کے تجزیے کا کہا تھاحکام بی او آئی کے مطابق سرمایہ کاری بورڈ کے پاس مالی پیشکش کا جائزہ لینے کی صلاحیت نہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ پیشکش کا جائزہ نہیں لے سکتے تو بی او آئی کا کام کیا ہے؟ بڑے بڑے ناموں والے حکومتی ادارے کوئی کام نہیں کرتے، بورڈ آف انویسٹمنٹ کا کام ہی سرمایہ کاری لانا ہے، ماہرین ہی نہیں تو بی او آئی کیا صرف ڈاکخانے کا کام کرتا ہے؟۔ پی ٹی ڈی سی کے تمام اثاثے بی او آئی نے تباہ کر دئیے۔ جسٹس اعجاز لاحسن نے کہاکہ شیخ رشید کہتے تھے لوگ سرمایہ کاری کیلئے دروازے توڑ رہے ہیں، دروازے توڑنے والے سرمایہ کار کہاں بھاگ گئے؟ لیز کے معاملے میں کوئی سیاسی دباؤ برداشت نہیں کرینگے۔

سپریم کورٹ

مزید :

صفحہ آخر -