خواجہ سراء کو اغواء کرنے کے دوران ٹیکسی ڈرائیور اور خواجہ سراؤں کو زخمی کرنے والوں کی ضمانت منظور

خواجہ سراء کو اغواء کرنے کے دوران ٹیکسی ڈرائیور اور خواجہ سراؤں کو زخمی کرنے ...

  

پشاور(نیوزرپورٹر)پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس روح الامین نے مبینہ طور پر دوستی سے انکار کر نے پرخواجہ سرا کو اغوا کرنے کے دوران زخمی ہونے والے دو خواجہ سراؤں اور ٹیکسی ڈرائیور کو زخمی کرنیکے مقدمہ میں نامزد دو ملزمان کی ضمانت پر رہائی کے احکامات جاری کردیئے ملزمان محمد جہانگیر اور انعام اللہ کی جانب سے کیس کی پیروی علی زمان ایڈوکیٹ نے کی استغاثہ کے مطابق ملزمان پر الزام تھا کہ انہوں نے 13 جون 2020 کو پولیس اسٹیشن چمکنی کی حدود میں احمد عرف وڑا کو اغوا کرنے کی کوشش کی کیونکہ ایک ملزم انعام اللہ اور وڑا کے درمیان 3 سال سے دوستی تھی اور اب وڑا نے مزید دوستی جاری رکھنے سے انکار کردیا اسی وقوعہ کے دوران دو دیگر خواجہ سرا جس میں بلال عرف کونترا اور طاہر عرف کالجے ٹیکسی ڈرائیور محمد ادریس سمیت زخمی ہو گئے تھے ملزمان نے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ رات کا وقوعہ ہے اور صرف اس بنیاد پر کہ انعام اللہ اور وڑا کے درمیان دوستی نہ کرنے پر تنازعہ چل رہا تھا کو بنیاد بنا کر مقدمہ درج کیا ہے اور اس میں بھی کافی وقت گزارا گیا ہے جو کہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا ہے عدالت سے استدعا ہے کہ ملزمان کی ضمانت پر رہائی کی درخواست منظور کی جائے کیونکہ بہت سے قانونی تقاضوں کو پورا نہیں کیا گیا دوسری جانب مدعی مقدمہ کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ خواجہ سراوں کو زخمی کیا گیا ہے اور پولیس نے بھی اس حوالے سے تفتیش کے بعد ملزمان کو نامزد کیا عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر دونوں ملزمان کو دو لاکھ دو نفری کے عوض ضمانت پر رہا کرنے کے احکامات جاری کردیئے

مزید :

پشاورصفحہ آخر -