سینیٹ، گھریلو تشدد، بے سہارا بچوں کی سزاؤں سمیت 4بل پیش

سینیٹ، گھریلو تشدد، بے سہارا بچوں کی سزاؤں سمیت 4بل پیش

  

اسلام آباد(آئی این پی) سینیٹ میں والدین کی جانب سے بچوں کو بے سہارا چھوڑنے پر سزائیں مقرر کرنے اور گھریلو تشدد سے تحفظ کے لئے قانون وضع کرنے کے بلوں سمیت چار نئے بل پیش کر دیئے گئے۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ترمیمی)بل، اسلام آباد ہائیکورٹ(ترمیمی) بل بھی شامل ہیں، چیئرمین سینیٹ نے تمام بلوں کو مزید غور کے لئے متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کے سپرد کر دیا، اگر کوئی شخص لاتعلق والدین بننے کے امر کو دہراتا ہے تو اس پر تین سال قید اور پچاس ہزار روپوں کا جرمانہ ہوگا۔ گھریلو تشدد (امتناع اور تحفظ) بل کے مطابق عبوری یا حفاظتی حکم کی خلاف ورزی کرنا جرم ہو گا جس پر کم از کم سزا چھ ماہ بمہ جرمانہ جو کم از کم ایک لاکھ تک ہو گا۔علاوہ ازیں سید علی گیلانی کی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے سینیٹ نے متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کے حق خود ارادیت کیلئے سید علی گیلانی کی بے لوث اور مسلسل جدوجہد اور قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ایوان نے ان کے غیر متزلزل عزم، جذبے، استقامت اور قیادت اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم، ظالمانہ اقدامات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بے نقاب کرنے میں ان کے کردار کو سراہا۔ایوان نے نوے سال کی ضعیف العمری میں سید علی شاہ گیلانی کی گھر میں بلا جواز نظر بندی پر بھی تشویش ظاہر کیا۔ قرارداد میں حکومت پر زور دیا کہ وہ اسلام آباد میں وزیراعظم ہاؤس کے قریب قائم کی جانے والی مجوزہ پاکستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اور ایمرجنگ ٹیکنالوجیز کا نام سید علی شاہ گیلانی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اورایمرجنگ ٹیکنالوجی رکھے۔

بل پیش

مزید :

صفحہ آخر -