کراچی کی تباہی اور بربادی میں سب نے اپنا حصہ ڈالا ہے، مصطفی کمال

کراچی کی تباہی اور بربادی میں سب نے اپنا حصہ ڈالا ہے، مصطفی کمال

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفی کمال نے کہا ہے کہ کراچی کی تباہی اور بربادی میں سب نے اپنا حصہ ڈالا ہے، اہلیانِ کراچی نے ایم کیو ایم سے علاج کرایا انہوں نے شہر کے گردے فیل کردیئے، پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت علاج کرنے کے لیے ہی تیار نہیں جبکہ تحریک انصاف کی حکومت نے شہر کو آئی سی یو میں ہی ڈال دیا ہے جس کے بعد اگلی منزل قبر کی بچی ہے۔ اس شہر کو اچھے طبیب کی ضرورت ہے اور ہم سے بہتر اس شہر کی نبض پر کسی کی گرفت نہیں، شہر کے مسائل کا ادراک ہے اور ہم ہی اسے بہتر بنا سکتے ہیں۔ پیپلز پارٹی سندھ کی تقسیم کے خلاف نعرہ لگاتی ہے لیکن قبضے کی جنگ میں اس کے دارالخلافہ کو چھ ڈسٹرکٹ میں تقسیم کر دیا ہے۔ جس طرح سندھ کی تقسیم نامنظور ہے اسی طرح کراچی کی تقسیم بھی نامنظور ہے۔ کراچی تباہ ہو رہا ہے جسکا مطلب پاکستان تباہ ہو رہا ہے۔ بلدیاتی حکومت جھوٹ بول رہی ہے کہ ہمارے پاس اختیارات نہیں، ڈسٹرکٹ اے ڈی پی میں پندرہ ارب روپے انکے پاس آئے ہیں، اس حساب سے سات سو پراجیکٹس بننے چاہیے تھے۔ بلدیاتی حکومت میں بڑے پیمانے پر کرپشن ہوئی ہے، اسکا احتساب ہونا چاہیے اور بلدیاتی حکومت کے تمام کرتا دھرتاں کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈال کر تحقیقات ہونی چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار سید مصطفی کمال نے نیب کورٹ کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک شخص کو مارنے والا دہشتگردی کے نام پر پکڑ لیا جاتا ہے لیکن نسلوں کا خون کرنے والے حکومتوں کے نمائندے جمہوری دہشتگردی کر کے بھی پروٹوکول کے مزے لے رہے ہیں۔ حکومتوں سے امیدیں ختم ہوچکی ہیں، ریاستی اداروں سے کہتا ہوں کہ عوام کو مزید کتنا دیوار سے لگایا جائے گا، کراچی والوں کی روداد کوئی ملک کا ہی ادارہ سنے گا یا پھر اقوامِ عالم میں جاکر اپنے مسئلے حل کرانے ہونگے۔ کراچی والوں کیلئے نہ بجلی، نہ پانی اور نہ گیس ہے۔ زرا سی بارش میں شہر تباہ حال ہوگیا۔ کوئی پرسانِ حال نہیں، وفاقی، صوبائی اور شہری حکومتوں میں سے کوئی ذمہ داری لینے کیلئے تیار نہیں ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -