محکمہ اینٹی کرپشن بدعنوان عناصر کے خلاف کارروائی تیز کرے، اکرام اللہ دھاریجو

  محکمہ اینٹی کرپشن بدعنوان عناصر کے خلاف کارروائی تیز کرے، اکرام اللہ ...

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر) صوبائی وزیر برائے صنعت و تجارت اور انسداد بدعنوانی و محکمہ امداد باہمی جام اکرام اللہ دھاریجو نے محکمہ اینٹی کرپشن کے افسران کو ہدایت دی ہے کہ وہ صوبے سے کرپشن کے خاتمے کے لئے بدعنوان عناصر کے خلاف اپنی کاروائیاں تیز کریں کیونکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سخت ہدایات ہیں کہ صوبے سے کرپشن جلد از جلد خاتمہ کیا جائے۔ یہ بات انہوں نے اپنے دفتر میں محکمہ اینٹی کرپشن سندھ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں سئنیر ڈائریکٹر سہیل احمد قریشی، اسپیشل سیکریٹری انجم اقبال اور دیگر افسران نے بھی شرکت کی۔ اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے ڈائریکٹر اینٹی کرپشن سہیل احمد قریشی نے بتاہا کہ 30 جون تک جو درخواستیں محکمہ اینٹی کرپشن سندھ کو موصول ہوئی ہیں ان کی مجموعی تعداد 851 ہے۔ کراچی ساتھ زون میں 112, ویسٹ زون میں 19,ایسٹ زون میں 36, حیدرآباد میں 433, جامشورو میں 116, میرپور خاص میں 31, شہید بے نظیر آباد میں 21,, سکھر میں 21 اور لاڑکانہ میں 35 شکایات موصول ہوئیں۔ 19 اچانک دورے کئے گئے جبکہ 9 چھاپے مارے گئے۔ اس وقت مجموعی طور پر 585 اوپن انکوائریاں ہیں جن میں سے 126 انکوائریاں فائنل کی جاچکی ہیں اور 459 انکوائریاں زیر التوا ہیں۔ انہوں نے مذید بتایا کہ 30 جون تک مجموعی طور پر 87 ایف آئی آرز درج کی گئیں ہیں جبکہ کرپشن کے الزامات میں 17 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ کرپشن میں ملوث افراد کے خلاف مجموعی طور پر 1493 چالان جمع کروائے جاچکے ہیں اور مفررو ملزمان کی تعداد 1025 ہے جن کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن معاشرے کو دیمک کی طرح متاثر کرتی ہے اور کرپشن کے باعث ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل بھی نہیں ہوتی اور ان منصوبوں کے ثمرات بھی عام آدمی تک نہیں پہنچ پاتے۔ انہوں نے مذید کہا کہ اس وقت کرپشن کے جو کیسز زیر التوا ہیں ان کو فوری طور پر ان کے منطقی انجام تک پہنچایا جائے اور کرپشن میں ملوث عناصر کو قرار واقعی سزا دلوائی جائے تاکہ کسی کو کرپشن کرنے کی ہمت نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ وقت کے ساتھ ساتھ بدعنوان عناصر جدید تقاضوں کو اپناتے ہوئے کرپشن کے نئے نئے طریقے استعمال کررہے ہیں اور ہمیں ان کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے اپنے افسران کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہوگا ورنہ ہم مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کرسکیں گے۔

مزید :

صفحہ آخر -