سونے کی قیمت میں اضافہ عالمی بحران کی ابتدائی علامت ہے، میاں زاہد حسین

  سونے کی قیمت میں اضافہ عالمی بحران کی ابتدائی علامت ہے، میاں زاہد حسین

  

کراچی (اکنامک رپورٹر) پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر، ایف پی سی سی آئی میں بزنس مین پینل کے سینئر وائس چیئرمین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں مسلسل اضافہ ایک خوفناک عالمی بحران کی ابتداء ہے۔دنیا بھر میں کرونا وائرس کی وجہ سے شرح سودمیں کمی کی گئی ہے جس نے سونے کی اہمیت بڑھا دی مگر وباء سے نمٹنے کے لئے دنیا بھر کے مرکزی بینکوں، عالمی اداروں اور طاقتور ممالک نے ناکافی اقدامات کئے جس کے نتائج ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ میاں زاہد حسین نے بزنس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ تمام اہم ممالک نے وائرس سے نمٹنے کیلئے شرح سود، قرضے معاف یا موخر کرنے، بیل آؤٹ پیکیج اور عوام کو نقدامداد دینا کافی سمجھا جو انکی غلطی تھی۔وباء سے قبل عالمی منڈی میں سونے کی قیمت مسلسل گر رہی تھی جس میں چند ماہ میں 30 فیصد اضافہ ہو چکا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ عوام اور بزنس مین اپنے اثاثوں کی حفاظت کو سرمایہ کاری پر ترجیح دے رہے ہیں اور ڈالر سمیت اہم کرنسیوں پر انکا اعتماد کم ہو رہا ہے تاہم یورو اور ین کی حالت ڈالر کے مقابلے میں قدرے بہتر ہے تاہم یہ حقیقت ہے کہ کرنسی کی قدر میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے مگر سونے میں سرمایہ کاری کو سب سے محفوظ سمجھا جاتا ہے۔انھوں نے کہا کہ وائرس سے نمٹنے کے لئے مختلف حکومتوں کو بھاری اخراجات کرنا پڑ رہے ہیں جس کا واحد راستہ ضرورت سے زیادہ نوٹ چھاپنا رہ گیا ہے جبکہ امریکہ اور چین کی کشیدگی ختم ہونے میں نہیں آ رہی ہے جس نے درجنوں ممالک اور ہزاروں بڑے سرمایہ کاروں کو سراسیمہ کر رکھا ہے جو عالمی اقتصادی نظام کے لئے نقصان دہ ہے۔امریکہ میں الیکشن تک اسکی چین سے تجارتی کشمکش میں کمی کا امکان کم ہے جو عالمی معیشت کے سنبھلنے میں رکاوٹ ہے۔بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ پیداوار میں جمود اور مہنگائی میں اضافہ کے بعد عالمی کساد بازاری سے بچنے کے لئے اہم ممالک کے مرکزی بینک شرح سود مزید کم کریں گے جو سونے کی اہمیت اور قیمت کو مزید بڑھا دے گا۔

مزید :

صفحہ آخر -