دہلی بس سروس بند، دفتر کا سامان بھی نیلام ، پاک چائنہ بس سروس کا مستقبل بھی خطرے میں پڑ گیا کیونکہ۔۔۔

دہلی بس سروس بند، دفتر کا سامان بھی نیلام ، پاک چائنہ بس سروس کا مستقبل بھی ...
دہلی بس سروس بند، دفتر کا سامان بھی نیلام ، پاک چائنہ بس سروس کا مستقبل بھی خطرے میں پڑ گیا کیونکہ۔۔۔

  

راولپنڈی ( ویب ڈیسک) پی ٹی ڈی سی کے ذیلی اداروں کو بند کرنے کا نوٹیفکیشن یکم جولائی 2020 کو جاری کیا گیا تھا جس کے تحت جہاں پورے ملک میں موٹلز اور ہوٹلز کو بند کیا گیا تھا،اس کیساتھ ساتھ معاہدہ کے تحت چلائی جانے والی لاہور دہلی بس سروس کو بھی بند کر دیا گیا۔ یہ بس سروس پاکستان اور اور انڈیا کے درمیان باہمی معاہدہ کے تحت چلائی جارہی تھی جس کے آپریشنز کچھ عرصے سے التوا کا شکار تھے۔

دونوں حکومتوں کی طرف سے باقاعدہ ختم کرنے کا کوئی بھی نوٹیفکیشن سامنے نہیں آیا مگر پی ٹی ڈی سی انتظامیہ کی جانب سے بس سروس کے گلبرگ لاہور میں آفس کو خالی کیا جا رہا ہے کچھ سامان نیلام کیا جا چکا ہے۔بس سروس کے اخراجات حکومت برداشت کرتی تھی کیونکہ اس کا مقصد منافع کمانا نہیں بلکہ دونوں ملکوں کے درمیان معاہدہ کو پایہ تکمیل تک پہنچانا تھا۔

علاوہ ازیں پاکستان ٹورز لمیٹڈ کے بند ہونے کی وجہ سے پاک چائنہ بس سروس کا مستقبل بھی تاریک ہے جو سست بارڈر سے چلائی جا رہی تھی، پی ٹی ڈی سی کی موجودہ انتظامیہ کی طرف سے عجلت میں اٹھائے جانیوالے اقدامات میں ایسی حساس چیزوں پر غور ہی نہیں کیا گیا۔پاکستان ٹورز لمیٹڈ کے تمام مستقل ملازمین کو فارغ کر کے بسوں کو راولپنڈی میں منگوایا جا رہا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ حساس شعبے بھی پرائیویٹ لوگوں کے حوالے کر دیئے جائینگے یا انکو مستقل طور پر بند کیا جا رہا ہے اور کیا حکومت سے ان اقدامات کی منظوری لی جا چکی ہے کیونکہ بظاہر ایسے کسی اقدام کو گورنمنٹ سے منظور نہیں کرایا گیا تو پی ٹی ڈی سی انتظامیہ اتنے انتہائی حساس اور اہم فیصلے کیسے لے سکتی ہے جس نے دو ملکوں کے درمیان باہمی تعلقات شامل ہوں،ایسے فیصلوں میں وزارت خارجہ کو شامل کرنا بھی ضروری ہے مگر یہ تمام فیصلے پی ٹی ڈی سی کی انتظامیہ نے اپنے طور پر ہی کر لئے ہیں۔

پاک چائنہ بس سروس اور لاہور دہلی بس سروس کیلئے رواں مالی سال کا بجٹ منظور کیا جا چکا ہے تو ملازمین کو کورونا یا مالی نقصانات کا بہانہ بنا کر کیسے فارغ کیا جا سکتا ہے۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -راولپنڈی -