" ڈی جی آئی ایس آئی بن کر خواتین ارکان پارلیمنٹ کو فون کئے جاتے ہیں اور پھر مسجد کیلئے چندہ مانگا جاتا ہے، یوٹیوب پر ضرورت رشتہ کے۔۔۔ " اراکین قائمہ کمیٹی کا ایسا انکشاف کہ یقین کرنا مشکل

" ڈی جی آئی ایس آئی بن کر خواتین ارکان پارلیمنٹ کو فون کئے جاتے ہیں اور پھر ...

  

اسلام آباد (ویب ڈیسک ) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں ارکان نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر ہم جیسے لوگ بھی محفوظ نہیں ، خواتین ارکان اسمبلی کی یوٹیوب پر ضرورت رشتہ کی تصاویر لگا رکھی ہیں،ہمارا یہ حال ہے تو عام لوگوں کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہوگا، آج کل ڈی جی آئی ایس آئی بن کر خواتین ارکان پارلیمنٹ کو فون کئے جاتے ہیں اور پھر مسجد کیلئے چندہ مانگا جاتا ہے،سائبر کرائم کو روکنے کیلئے سخت سزاﺅں کے قوانین بنانا ہونگے،ایف آئی اے کو بااختیار بنانا ہوگا،کمیٹی نے پی ایم پورٹل طرح کے ڈیش بورڈ کی سفارش کر دی جہاں شہری سائبر کرائمز کے بارے میں شکایات درج کراسکیں ، قائمہ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین علی خان جدون کی زیرصدارت ہوا۔

روزنامہ جنگ کے مطابق وفاقی سیکرٹری آئی ٹی شعیب صدیقی نے بتایا کہ سٹیزن پروٹیکشن (اگینسٹ آن لائن ہارم) رولز2020ءبنائے گئے، ان پر اعتراض ہوا لیکن وقت انہیں ٹھیک ثابت کررہا ہے، چیئرمین پی ٹی اے کی سربراہی میں سٹیک ہولڈرز وغیرہ سے مشاورت کیلئے کمیٹی بنائی گئی تھی، اس نے اپنی سفارشات 2 ماہ میں دیدی تھی، وزیر اعظم سے 10 ہفتےکی مہلت لے لی ہے ،رپورٹ اس کے بعد دینگے ،اراکین قائمہ کمیٹی بھی ان رولز میں اپنی تجاویز دے سکتے ہیں، ممبر پی ٹی اے ڈاکٹر خاور کھوکھر نے بتایا کہ رولز کو اپ ڈیٹ کرکے مشاورتی کمیٹی کو منظوری کیلئے واپس بھجوایا ہے، اگست کے وسط تک امید ہے رولز تیار کرلئے جائیں گے۔

چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ سوال یہ ہے کہ ان رولز پر عملدرآمد ہو سکے گا، پی ٹی اے حکام نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر ہمارے قانون کا اطلاق نہیں ہوتا، ٹیوٹر ہمارے کہنے پر بھی بہت سارے کیسز پر مواد نہیں ہٹاتا، فیس بک اور یوٹیوب تعاون کر رہا ہے ، میوچل ٹریٹی ہو جائے تو ہم ان کو ریگولیٹ کر سکتے ہیں فی الحال ہم شق 37 اے کے تحت ہم مواد ہٹا سکتے ہیںجو مواد پاکستان سے چلتا ہے، لیکن بیرون ملک کا مواد ٹریٹی کے بغیر ممکن نہیں،وفاقی سیکرٹری آئی ٹی نے کہا کہ سوشل میڈیا فورم کا نمائندہ آفس پاکستان میں ہونا چاہئے ، پی ٹی اے حکام نے کہا کہ سوشل میڈیا والے متاثرہ لوگوں کو جلدی جواب دیتے ہیں، ممبر کمیٹی شمیم آراءنے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے پیسوں کے اکثر پیغامات موصول ہوتے رہتے ہیںجو یہ میسج کرتے ہیں وہ لوگوں سے پیسے بٹورتے ہیں، پی ٹی اے ایسے میسجز کو روکنے میں کیوں ناکام ہے؟ ممبر پی ٹی اے نے کہا کہ بینظیر سپورٹ پروگرام کے میسجز انفرادی نمبروں سے کئے جاتے ہیں،ایسے نمبروں کو بلاک کر دیا جاتا ہے،تحقیق کرنا ایف آئی اے کا کام ہے ، پی ٹی اے کسی کو ڈیٹا نہیں دیتا ۔

ممبر کمیٹی محمد اسلم نے کہا کہ سوشل میڈیا پر مواد ڈال دیا جاتا ہے اور بدنامی کی جاتی ہے، سخت جرمانوں کی سزائیں ہونی چاہئیں، انہوں نے کہا کہ میری فیملی کے ساتھ کیا ہوا ، اس کے بعد پراسس بہت آہستہ ہے ، عام لوگوں کے ساتھ کیا کچھ نہیں ہوتا ہو گا، ایف آئی اے کو زیادہ بااختیار بنانے کی ضرورت ہے، ممبر پی ٹی اے کہا کہ پی ٹی اے نےسکیورٹی وجوہات کی وجہ سے ٹرو کالر بلاک کیا، ممبر کمیٹی زین قریشی نے کہا کہ پی ایم پورٹل کی طرح کا ڈیش بورڈ ہونا چاہئے جہاں شہری سائبر کرائم شکایات درج کراسکیں ، ممبر پی ٹی اے ڈاکٹر خاور نے کہا جب کرائم ہو جاتا ہے تو پھر ایف آئی اے کا کام شروع ہو جاتا ہے ، پی ٹی اے صرف تفصیلات فراہم کر سکتا ہے ۔

رومینہ خورشید عالم نے کہا کہ آئندہ سب سے بڑا کرائم سائبر کرائم ہو گا ہمیں ایف آئی اے کو بااختیار بنانا ہو گا، کنول شوزب نے کہا کہ میرے ساتھ بھی ایڈونچر ہوا تین دفعہ فون آیا کہ ڈی جی آئی ایس آئی آپ سے بات کریں گے ، میں لان میں کام کر رہی تھی، رنبہ پھینکا اور سلیوٹ کیا ، تو آگے سے بات کرنے والے شخص ڈی جی نے کہا کہ سرگودھا میں مسجد بنا رہے ہیں آپ کتنا حصہ ڈالیں گے پھر پتہ چلا لوکل ڈی جی بات کر رہے ہیں ، تین دفعہ انٹرنیشنل نمبر سے کال آئی پیسے مانگ رہے تھے ، زین قریشی نے جملہ کسا کہ اگلا فون آرمی چیف سے نہ آجائے کہ مدرسہ بنا رہے ہیں، کنول شوزب نے کہا میری تصویر یوٹیوب پر ضرورت رشتہ پر لگائی ہوئی ہے، 7 دیگر اراکین بھی ہیں جنکی تصاویر یوٹیوب پر لگائی گئی ہیں، پوچھنے والا کوئی نہیں، پی ٹی اے کیا کررہا ہے؟

رومینہ خورشید عالم نے کہا کہ مصر اور دیگر ممالک کے نمبروں سے کالز آتی ہیں مسجد کا چندہ مانگا جاتا ہے، تین چار پارلیمنٹیرنز کو بھی فون آئے ، ایک خاتون نے ایک لاکھ روپے بھجوا بھی دیئے معاملہ پر پی ٹی اے نے ہاتھ کھڑے کردیئے، پی ٹی اے حکام نے کہا کہ آپ نمبر دیدیں ہم صرف نمبر بلاک کرسکتے ہیں، سیکرٹری آئی ٹی نے کہا کہ ایف ائی اے کی کارگردگی کا بہتر بنانا ضروری ہے، بدھاپیسٹ ٹریٹی اور ایم ایل اے پر دفتر خارجہ کے نمائندے عاطف رضا نے بتایاکہ بدھا پیسٹ کنونشن ایک یورپی کنونشن ہے، ہمارے پاکستان میں ڈیٹا کے تحفظ کا کوئی قانون موجود نہیں،بدھا پیسٹ کنونشن سے ہمیں اپنا ڈیٹا دیگر ممالک سے شیئر کرنا پڑے گا، ہمیں سائبر کرائم سینٹر بنانے کی ضرورت ہے، سیکرٹری آئی ٹی نے کہاکہ سوشل میڈیا رولز میں تمام مسائل کا حل موجود ہے، ارکان کمیٹی نے کہا پراکسز لگا کر اب بھی پب جی گیم چل رہی ہے۔

پی ٹی اے حکام نے بتایاکہ چودہ ہزار پراکسیز بند کر چکے، بچوں کی خود کشی کے واقعے کی انکوئری رپورٹ آنے تک پب جی بند رہے گی ، ڈائریکٹر پی ٹی اے نثار احمد نے کہا کہ پولیس کی تحقیقات مکمل ہونے تک پب جی پر پابندی قائم رکھیں گے،سیکرٹری آئی ٹی نے کہا اگر پراکسی چل رہی ہے تو پب جی پر پابندی بے سود ہے۔

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -