کراچی میں بھی موبائل ویکسی نیشن سروس شروع کریں 

کراچی میں بھی موبائل ویکسی نیشن سروس شروع کریں 

  

 پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا ہے کہ لاہور، راولپنڈی، ملتان، فیصل آباد اور گوجرانوالہ میں کورونا کے کیسز ہمیشہ زیادہ سامنے آتے ہیں،جہاں ویکسین زیادہ لگائی جا رہی ہے وہاں لوگوں کے متاثر ہونے کی شرح کم ہوتی جا رہی ہے،بہت سے لوگ جو  ویکسی نیشن سنٹروں پر نہیں جا پا رہے تھے اُنہیں گھروں میں ویکسین لگانے کا اہتمام کیا جا رہا ہے،جس کا آغاز ہو چکا ہے۔اب ٹیمیں منتخب علاقوں میں گھر گھر جا رہی ہیں، شہر کی دو سو بہترین یونین کونسلوں میں کیمپ لگائے جائیں گے، موبائل ویکسین یونٹس کو بھی بڑھا رہے ہیں، این سی او سی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ14اگست تک18سال سے زیادہ عمر کی40 فیصد آبادی کو ویکسینیٹ کریں گے۔اُن کا کہنا تھا کہ پنجاب میں باقی صوبوں کی نسبت ویکسین زیادہ لگ چکی ہے۔سب ٹیچنگ ہسپتالوں میں فائزر، موڈرنا اور ایسٹرا زینیکا موجود ہے۔

مقام اطمینان  ہے کہ پنجاب میں ویکسی نیشن کی وجہ سے متاثرین کی تعداد چوتھی لہر میں بھی محدود رہی اور اگر ویکسین مہم تیزی سے آگے بڑھے گی تو زیادہ بہتر اور مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔ اگر 14اگست تک 40فیصد آبادی کو ویکسین لگ جاتی ہے تو اس سے کورونا کے پھیلاؤ کی روک تھام میں بڑی مدد مل سکتی ہے۔ دوسری جانب کووِڈ ٹاسک فورس کے سربراہ ڈاکٹر عطا الرحمن کا خیال ہے کہ آنے والے دِنوں میں کورونا کیسوں میں اضافہ ہو سکتا ہے،صورتِ حال خطرناک ہے اور امکان ہے کہ کورونا ابھی پانچ سال تک رہے گا۔ڈیلٹا وائرس پرانے وائرس کی نسبت گیارہ سو گنا تیزی سے پھیلتا ہے،جو بہت خطرناک ہے۔ موجودہ وائرس کا آسانی کے ساتھ پتہ بھی نہیں چلتا، بڑی تیزی سے مریض کو نقصان پہنچاتا ہے،جن ممالک میں بھی یہ وائرس پھیلا وہاں بڑی تباہی ہوئی ہے،انڈونیشیا اور بنگلہ دیش میں خطرناک  حالات ہیں،امریکہ اور یورپ میں بھی ڈیلٹا وائرس تیزی سے پھیلا۔

ملک بھر میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں وائرس سے3752 نئے مریض متاثر ہوئے،جن میں سے تقریباً آدھے کیسز1750 صرف کراچی میں رپورٹ ہوئے، جو تشویشناک صورتِ حال کی عکاسی کرتا ہے، مثبت کیسز کی شرح7.5فیصد ہو گئی ہے۔ پورے سندھ میں نئے متاثرین کی تعداد2153 ہے اِس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ صوبے کے باقی اضلاع میں کورونا کا اتنا زور نہیں ہے جتنا کراچی میں ہے،ایسے میں ضرورت اِس بات کی ہے کہ سندھ حکومت فوری طور پر کراچی میں ویکسی نیشن مہم تیز تر کرے اور زیادہ سے زیادہ تعداد میں لوگوں کو ویکسینیٹ کیا جائے، اور پنجاب کی طرح کراچی میں بھی موبائل ویکسی نیشن سروس شروع کی جائے، کیونکہ پنجاب کی وزیر صحت کے  خیال میں ویکسی نیشن ہی کی وجہ سے اس صوبے میں کم لوگ متاثر ہو رہے ہیں،تو پھر یہی تجربہ کراچی میں کیا جانا چاہئے۔دوسری کوشش یہ ہونی چاہئے کہ یہاں سے وائرس صوبے اور ملک کے دوسرے علاقوں کو ”ایکسپورٹ“ نہ ہو، ویسے تو کراچی میں ہر طرح کی طبی سہولتیں دستیاب ہیں اور دیہی سندھ کی نسبت یہاں ہر کسی کو علاج معالجے کے لئے آسانیاں بھی حاصل ہیں، اِس لئے یہاں وائرس کا پھیلاؤ بظاہر حیران کن ہے۔ شاید گنجان آبادی اور سماجی فاصلے کا لحاظ نہ ہونے کی وجہ سے پھیلاؤ زیادہ ہے۔

کراچی میں اگر اسی شرح سے مثبت کیسز بڑھتے رہے تو نہ صرف شہر بُری طرح متاثر ہو گا،بلکہ صوبے اور ملک کے دوسرے مقامات بھی زد میں آ سکتے ہیں،اِس لئے کراچی میں ہنگامی صورتِ حال نافذ ہونی چاہئے،بڑھتے ہوئے کیسوں کی وجہ سے اِس امر کی بھی ضرورت ہے کہ سندھ کے لئے ویکسین کی مقدار بڑھائی جائے،چونکہ ویکسین کی صوبہ وار ڈسٹری بیوشن کے تمام تر انتظامات وفاقی حکومت ہی کر ر ہی ہے،اِس لئے جو بھی فارمولا طے کیا گیا ہے متاثرین کی بڑھتی تعداد کے پیش ِ نظر اس پر نظرثانی ہو سکتی ہے۔ویسے تو یہ اعلان بھی کیا جا رہا ہے کہ ملک میں کہیں بھی ویکسین کی قلت نہیں ہے اور ضرورت کے مطابق ہر صوبے میں دستیاب ہے،سندھ حکومت نے خود بھی ویکسین درآمد کرنے کا فیصلہ کیا تھا اس کے تحت معلوم نہیں کتنی ویکسین آئی،لیکن کراچی کے حالات کا تقاضا یہ ہے کہ اِس ضمن میں زیادہ سنجیدگی ظاہر کی جائے۔

کووِڈ ٹاسک فورس کے چیئرمین ڈاکٹر عطا الرحمن بار بار ڈیلٹا وائرس کی تباہ کاریوں کی نشاندہی کر رہے ہیں،دو ہفتے پہلے اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان کو وائرس سے نجات پانے میں ڈیڑھ سال لگ سکتا ہے اب انہوں نے کہا ہے کہ یہ عرصہ پانچ سال تک پھیل سکتا ہے،ان کا یہ اندازہ اگر درست ہے تو گہری توجہ کا محتاج ہے،کیونکہ اس ڈیلٹا وائرس کی جو تباہ کاریاں دنیا کے دوسرے ممالک میں دیکھی گئی ہیں اگر اُن کا عشرِ عشیر بھی پاکستان میں ہو گیا تو ہمارا صحت کا نظام اس کا متحمل نہیں ہو سکتا کورونا وائرس کی پہلی لہر کے دوران جب ہسپتالوں پر دباؤ بڑھا تھا تو ساری توجہ اسی پر مرکوز ہو کر رہ گئی تھی اور دوسرے امراض کے مریضوں کے لئے ہر قسم کی طبی امداد روک دی گئی تھی،ضرورت  مند مریضوں کے آپریشن بھی رک گئے تھے،اور عمومی علاج کے وارڈ بھی بند ہو گئے تھے۔صحت کا پورا شعبہ صرف کورونا  متاثرین کے علاج کے لئے وقف ہو کر رہ گیا تھا خدانخواستہ اگر ڈیلٹا وائرس کے مریض بڑھتے ہیں اور یہ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے تو اس کے مقابلے کے لئے جن وسائل کی ضرورت ہو گی اُن کے انتظامات آسان نہیں ہوں گے،اِس لئے تمام تر توجہ اِس بات پر مرکوز رہنی چاہئے کہ سب سے زیادہ نئے مریضوں والے شہر کراچی سے یہ وبا باہر نہ نکلنے پائے۔اس سلسلے میں سندھ حکومت کی ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں اور اسے اپنی توجہ اس پر مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -