پٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس میں کمی، مگر؟

پٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس میں کمی، مگر؟

  

حکومت نے عوام کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے سہولت دینے کے لئے سیلز ٹیکس میں مزید کمی کر کے16.4فیصد کیا اور اب10.77فی صد کر دیا گیا ہے، حکومت نے شہریوں کی تسلی کے لئے یہ قدم اٹھایا اور اسے بہتر ہی قرار دیا جائے گا۔یہ فیصلہ پٹرولیم کی نئی قیمتوں کے تعین سے پانچ روز قبل کیا گیا،31جولائی کی شب نئے نرخ مقرر ہوں گے اور حکومتی اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس بار پھر نرخ بڑھیں گے اور شاید یکم جولائی والی قیمت سے کافی زیادہ ہوں۔ سابقہ پندھرواڑے میں پانچ روپے سے زیادہ فی لیٹر پٹرول کی قیمت بڑھی تھی، حکومت نے سیلز ٹیکس میں کمی فی صد کے تناسب سے 5.66 فی صد کی ہے،لیکن جب نرخ بڑھتے ہیں تو اس تناسب سے نہیں،بلکہ براہِ راست فی لیٹر کے حساب سے اضافہ ہوتا ہے۔ اس طرح یہ احساس اجاگر ہوتا ہے کہ اس بار اضافہ شاید دس گیارہ روپے فی لیٹر ہو۔ یوں یہ5.66فی صد کی نسبت  کہیں زیادہ ہو گا،حکومتی موقف ہے کہ عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق تو اوپیک سے منسلک ممالک نے عالمی ریلیف کے لئے  تیل کی پیداوار بڑھانے کا فیصلہ کر کے عمل بھی شروع کر دیا ہے اور اس سے عالمی مارکیٹ میں اضافے کا رجحان رک کر نرخوں میں کمی آئے گی، حکومت کو تمام امور کو زیر غور لا کر فیصلہ کرنا ہو گا کہ پٹرولیم کے نرخوں میں اضافہ مجموعی طور پر مقامی مارکیٹ کو متاثر کرتا ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -