پاکستان: عشاق رسول ؐ  کا مسکن

پاکستان: عشاق رسول ؐ  کا مسکن
پاکستان: عشاق رسول ؐ  کا مسکن

  

یہاں پر انسان نہیں بکتے، مجبوریاں بکتی ہیں، حالات سے مجبور لوگ،افلاس سے مجبور بکنے پر آمادہ ہوتے ہیں، تنگدستی کی مجبوریاں تہی دست و داماں بے بس مجبور لوگ جب بکتے ہیں تو اس کے پیچھے ان کی غربت کارفرماہوتی ہے، جو انہیں بکنے پر مجبور کرتی ہے، بعض اوقات تو مزدور،معذور، مجبور افراد بکتے ہیں، لیکن اکثر اوقات ضمیر بھی بکتے ہیں اور ضمیر فروشوں میں معذرت کے ساتھ ہمارے کچھ سیاست دان بھی شامل ہیں، حالانکہ کارزار سیاست میں قائد اعظم محمد علی جناح جیسی نعمت غیر مترقبہ کی حامل شخصیات بھی ہیں کہ جنہوں نے اپنی غیر معمولی صلاحیتوں سے حالات کا دھارا ہی بدل دیا۔ جب برصغیر کے مسلمان ظلم کی آگ میں جل رہے تھے اور انگریزوں کا ہرستم مسلمانوں پر ہی ٹوٹ رہا تھا، کیونکہ مسلمانوں کا فلسفہ آزادی ہندوؤں کے فلسفہ آزادی سے مختلف تھا۔ہندوؤں کو تو انگریز سرکار  بھی قبول تھی، لیکن نیچے وہ اپنی حکومت چاہتے تھے اور مسلمان انگریزی سرکار سے یکسر نجات چاہتے تھے۔یہی وجہ تھی کہ 1857ء کی جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد انگریزوں کا زیادہ قہر مسلمانوں پر ہی ٹوٹا۔ مسلمانان برصغیرنے قائد اعظمؒ کی ولولہ انگیز قیادت میں لازوال قربانیوں کے بعد مملکت خداداد پاکستان تو حاصل کر لی، مگر اسلام دشمن قوتوں کو پاکستان ایک آنکھ نہ بھایا۔بھارت کو بھی زعم تھا کہ یہ نوزائیدہ مملکت زیادہ دیر نہیں چلنے والی اور ایک دن پاکستان خدا نخواستہ ہندوستان میں ضم ہوجائے گا، مگر اللہ کے فضل وکرم سے پاکستان، جسے مَیں عشاق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مسکن کہتا ہوں روزبروز استحکام حاصل کرتا گیا، لیکن سیاست اور سازشوں کے جال بھی بنے جانے لگے۔ انہی سازشوں میں لیاقت علی خان کو شہید کیا گیا، ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی چڑھا دیا گیا، جنرل ضیاء الحق شہیدہوئے۔

پاکستان دشمن قوتیں اگرچہ اپنے مذموم ارادوں میں عارضی طور پر کامیاب تو ہوئیں، لیکن ویسے وہ نامراد ہی ٹھہرے، پھر پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر ایک طویل عرصہ حالات کے جبر کا سامنا رہا۔ اگرچہ آج بھی حالات کچھ مختلف نہیں، آج بھی بھارت،اسرائیل سمیت پاکستان اور اسلام دشمن طاقتیں پاکستان کے خلاف متحرک ہیں۔ پاکستان نے جب بھارت کی ہٹ دھرمی کے جواب میں ایٹمی دھماکے کرنے تھے تو پاکستان پر بہت دباؤ ڈالا گیا کہ  وہ دھماکے نہ کرے، مگر اللہ کے فضل سے پاکستان پہلی اسلامی ایٹمی قوت بن کر ابھرا۔ پاکستان میں سی پیک کی صورت میں معاشی دھماکے ہوئے تب بھی بھارت کو کسی کروٹ چین نہ آیا اور بھارت ہرطرح سے پاکستان کے خلاف برسرپیکار رہا۔اقتدار کے حصول کی خاطر ہماری سیاسی جماعتیں بھی ایک دوسرے کے خلاف سرگرم عمل رہی ہیں، جس سے کسی نہ کسی طرح پاکستان کی مخالف قوتوں کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے پچھلے دور حکومت میں جب چین کے صدر نے پاکستان کا دورہ کرنا تھا تو اس وقت عمران خان نے اپنے دھرنے ملتوی نہیں کئے تھے ایسی ہی کئی اور مثالیں موجود ہیں۔ ٹھیک ہے احتجاج دھرنے، جلسے جلوس سب کا حق ہے، لیکن اس کا کوئی سلیقہ بھی تو ہو، کسی کو پاکستان کی ترقی کے راستے میں حائل تو نہیں ہونا چاہئے۔

خیر جیسے تیسے عمران خان اقتدار میں تو آگئے، لیکن ان کے مسند نشیں ہوتے ہی پاکستان کے عوام مہنگائی سے بلبلا اٹھے، ہر چیز عوام کی دسترس سے باہر ہوگئی،مزدور سے لے کر ملازم پیشہ افراد تک سب نے سر پکڑ لئے کہ آخر مہنگائی کی اس شدت میں گذر بسر کیسے ہو؟جبکہ جناب عمران خان عوامی مسائل حل کرنے کی بجائے اپوزیشن کو زچ کرنے میں لگے رہے۔ عمران خان عوام سے کئے تمام وعدوں سے ایک ایک کر کے منحرف ہوتے ہیں اسے وہ ایک بڑا لیڈر ہونے سے تعبیر کرتے ہیں۔ عوام نوکریوں کے منتظر رہے، کھلے آسمان تلے سونے والے گھر کی چھت کو ترس گئے، لیکن کسی کو کوئی نوکری ملی نہ گھر،بلکہ عوام کو  تو تحریک انصاف کی حکومت میں الٹا لینے کے دینے پڑ گئے، امن و امان کی صورت حال بھی ابتر ہو گئی، پولیس ریفارمز تو کیا ہوتیں،دن کے اُجالے میں ہماری پولیس کے شیر جوان بے گناہ شہریوں کا قتل عام کرتے رہے، سانحہ ساہیوال سب کے سامنے ہے اور اگر کسی نے سانحہ ساہیوال کا ذکر بھی کیا تو اسے جواب میں ماڈل ٹاؤن کا حوالہ دے دیا گیا، گویا ماڈل ٹاؤن کا حوالہ دے کر تحریک انصاف کے وزیر مشیر بری الذمہ ہوگئے۔ شیخ رشید ریلوے حادثات سے ترقی پا کر وزیر داخلہ بن گئے،جہانگیر ترین خان، زلفی بخاری سمیت دیگر حکومت سے وابستہ افراد کو تمام تر  الزامات کے باوجود محفوظ راستے دے دئیے گئے۔

ایک طرف آزاد کشمیر کہ جس کا انتخاب بڑی اہمیت کا حامل ہوتا ہے،اس الیکشن میں بھی تمام جماعتوں کے رہنما ایک دوسرے کو لتاڑتے رہے، مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے کسی نے کوئی خاطر خواہ بیان جاری نہیں کیا، عمران خاں بھی جموں  وکشمیر کے بارے میں کچھ ایسا ارشاد نہ  فرما سکے کہ دنیا کو پتہ چلتا کہ وزیراعظم پاکستان کی آزاد کشمیر میں حکومت بننے جارہی ہے اور ایک مدت سے بھارتی مظالم کے شکار مقبوضہ کشمیر کے باسیوں کے دکھوں کا مداوا ہونے والا ہے۔ علی امین گنڈا پور سرعام خریدو فروخت کرتے دکھائی دئیے۔اب ایسے حالات میں کیا توقع رکھئے کہ کشمیریوں کے حقوق کی پاسداری کی جائے گی۔ آج عمران خان چین کی مثال دیتے ہوئے یہ بھول جاتے ہیں کہ اسی چین کے صدر کا ان کی وجہ سے دورہ موخر ہوا تھا، تاہم جو ہوا سو ہوا، آج آزاد کشمیر میں بھی تحریک انصاف کی حکومت بن رہی ہے تو ہم تمام تر اندیشوں کے باوجود امید کرتے ہیں کہ تحریک انصاف کی حکومت کشمیریوں کے ساتھ وہ سلوک نہیں کرے گی جو پاکستان کے عوام سے پچھلے تین برسوں سے روا  رکھا گیا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -