سکون اور آرام حاصل کرنے کا بہترین فارمولا

سکون اور آرام حاصل کرنے کا بہترین فارمولا
سکون اور آرام حاصل کرنے کا بہترین فارمولا

  

اس دنیا میں زیادہ تر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ذہنی سکون، پریشانی اور ذہنی دبا کی عدم موجودگی کا نام ہے۔آرام اور سکون دونوں الفاظ ہمیشہ ایک ساتھ بولے جاتے ہیں،حالانکہ دونوں مختلف ہیں۔ آرام کا تعلق آپ کے ہارڈ ویئر، یعنی جسم سے ہے اور سکون کو سافٹ ویئر یعنی روح کہا جاتا ہے۔ پرانے دور کے انسان کو دیکھا جائے تو اس کے پاس سکون تھا، مگر آرام کے لئے آسائشات نہیں تھیں،آج کل کے دور میں انسان اپنے آرام کے لئے اچھا گھر بناتا ہے، نرم بستر پر لیٹتا ہے،لگژری دفتر ہے، مہنگی گاڑی ہے اور بہت ساری آسائشیں حاصل کر لیتا ہے اس کے باوجود اسے دلی سکون میسر نہیں آتا اور اضطراب میں مبتلا رہتا ہے اس کے برعکس پرانے زمانے میں یہ تمام وسائل اور سہولتیں نہیں تھیں،مگر اس کے باوجود انسان دلی سکون کا حامل تھا۔ اس کے چہرے پہ اطمینان نظر آتا تھا۔ آج کے انسان کے پاس دلی سکون و اطمینان نہیں۔ زیادہ سے زیادہ پیسے کمانے کی جستجو میں انسان ہر وقت دولت کے پیچھے بھاگ رہا ہے۔ اگر کسی کے پاس لاکھوں ہیں تو وہ کروڑوں کے چکر میں ہے، اگر کروڑوں ہیں تو وہ اربوں کے چکر میں ہے۔ رشوت اور چور بازاری کا بازار گرم ہے بے ایمانی فریب جھوٹ عام ہے۔یہ لوگ دولت تو اکٹھی کر لیتے ہیں مگرمیں نے اکثر یہ دیکھا اور سنا ہے کہ دولت مند لوگ سونے کے لئے نیند کی دوائیوں کا استعمال کرتے ہیں۔معاشرے میں ڈپریشن بہت زیادہ پھیل گیا ہے۔ ہم سب اپنے آرام، یعنی مادی چیز کی طرف دوڑ رہے ہیں، لیکن سکون روح کی غذا ہے اور اسے غیر مادی کہا جاتا ہے اور ہم سکون کو تلاش نہیں کر پا رہے۔

حضرت محمدؐ نے سادہ زندگی گزاری، جس میں سکون تھا کم سے کم کھانا، سادہ لباس پہننا اور بستر کوئی خاص آرام دہ نہیں تھا۔ لوگوں کی ہمیشہ مدد کی اپنے پاس جو کچھ ہوتا ضرورت مندوں  میں بانٹ دیتے تھے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آرام میں سکون نہیں ہے،بلکہ سکون  میں آرام ہے سکون ایسے نہیں ملتا، بلکہ کسی کو کھلانے سے ملتا ہے، کسی کی مدد کرنے سے ملتا ہے۔ہم اپنی زندگی کو سادہ بنا کر اور دوسروں کی مدد کرکے سکون حاصل کر سکتے ہیں اور ڈپریشن سے باہر نکل سکتے ہیں۔انسان اپنے جسم کو خوراک پہنچانے کی جدوجہد کرتا ہے اور جسم کو آرام دینے کے لئے طرح طرح کی آسائشیں تلاش کرتا ہے، لیکن وہ بھول جاتا ہے کہ اس جسم کے اندر ایک روح بھی ہے،جو اس کے جسم کی رگ رگ میں دوڑ رہی ہے اور اس روح کی بھی ایک غذا ہے اور جب تک اس روح کو غذا نہیں ملے گی،تب تک جسم کو آرام پہنچانے کی ہر کوشش بے کار ثابت ہوجائے گی،جس کا مشاہدہ ہر کوئی باآسانی کرسکتا ہے کہ انسان نفس کی تسکین کے لئے جتنی جدوجہد کیوں نہ کرلے، وہ سکون و آرام سے اتنا ہی دور ہوتا چلا جاتاہے، لیکن جب انسان رب کی تابعداری شروع کردیتا ہے تو اس کی روح کو اتنا ہی چین و قرار آتا چلاجاتا ہے۔

پھر ایسے شخص کے سامنے بظاہر حالات کیسے بھی ہوں،چاہے وہ تکلیف میں ہو یا راحت میں، چاہے وہ روکھی سوکھی کھاتا ہویا مرغن، چاہے اس کا بسترنرم ہو یا سخت پتھریلی چٹان ہو۔چاہے دولت مند ہو یا فقیر ہو، بیمار ی میں ہو یا صحت میں،رب کی تابعداری کرنے والے کی زندگی ایسے حقیقی سکون سے بھر جاتی ہے، جو دولت کے انبار لٹا کر بھی حاصل نہیں ہوتا۔ اس کا مال و متاع اولاد بیوی بچے،عزیز رشتہ دار،گھر بار،دکان کاروبار ہر ہر چیز اس کے لئے باعث تسکین ہوجائے گی۔دنیا میں لوگ اپنے جسمانی سکون کی تلاش میں جستجو کرتے ہیں جبکہ انسان کے حقیقی سکون کی اصل حقیقت روح کے سکون میں ہے، لہٰذا جب روح کو سکون مل جائے تو جسمانی جیسی بھی کیفیت ہو، لیکن ایسا شخص ہر حال میں اطمینان محسوس کرتا ہے۔بصورت دیگر سکون حاصل کرنے کے لئے کتنی ہی جدوجہد کرلی جائے، کتنی ہی خواہشات پوری کرلی جائیں، کتنی ہی آسائشیں اکٹھی کرلی جائیں، لیکن جب تک روح کو سکون میسر نہ ہوگا تب تک انسان کی ہر کوشش بے کار ثابت ہوگی اور ایسا شخص تمام تر آسائشوں اور خواہشات کی تکمیل کے باوجود بھی بے چین اور بے قرار رہے گا۔جو ہر شخص اپنے آس پاس بلکہ اپنی زندگی کو بھی اپنے سامنے رکھ کر غور کر سکتا ہے۔

یہاں اس بات کا ذکر بھی ضروری ہے کہ آج کل ہمارے معاشرے میں اس حد تک بگاڑ پیدا ہوچکا ہے کہ سرکاری محکموں میں کوئی بھی کام رشوت کے بغیر نہیں ہوتا،سائل اپنے جائز کاموں کے لئے دھکے کھانے پر مجبور ہیں۔آخر میں سائل تھک ہار کر اپنے جائز کام بھی پیسے دے کر کرواتے ہیں، ہمارے ہاں دھوکہ دہی، جھوٹ، فریب اور بے ایمانی ہر جگہ پر موجود ہے۔ کسی نے اپنا بجلی کا کنکشن لگوانا ہے تو اس کو بجلی کے دفتر کے کئی چکر لگانے پڑیں گے اور اگر وہ اسی وقت پیسوں کی ادائیگی، یعنی رشوت دے تو اس کا کام گھر بیٹھے ہی ہوجائے گا ورنہ خواری اس کا مقدر ٹھہرے گی اسی طرح تمام محکموں کا حال ہے۔ کاروبار میں بھی بڑی چور بازاری  ہے اشیائے خوردونوش میں ملاوٹ ملے گی۔ شیر خوار کے لئے دودھ ہو، یا کھانے کی اشیا ہوں، دالوں میں کنکر ملائے جاتے ہیں، آٹے میں ملاوٹ ہے،ہمیں کوئی بھی شے خالص نہیں ملتی، تو ایسے میں انسان کو سکون کیسے مل سکتا ہے، بلکہ انسان ہر وقت ذہنی کوفت میں مبتلا رہتا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھالی جاتی ہیں۔ ایسی صورتحال میں سکون ملنا تو درکنار، اس کا سوچا بھی نہیں جا سکتا۔

آخر میں یہ بات کہنا چاہوں گا کہ سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ نے روح کا سکون فلاحی کاموں اور انسانیت کی بھلائی میں رکھا ہے، جو قلبی سکون اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے ملتا ہے یا دوسروں کی مدد کرکے حاصل کیاجا سکتا ہے، وہ کسی اور طریقے سے نہیں مل سکتا۔ خدمت خلق انسانی اقدار کی بلند ترین صفات کا حصہ ہے۔ اسلام نے انسانیت کی مدد کرنے کا درس دیا ہے۔ دکھی انسانیت کی مدد کرنا بہت عظیم کام ہے۔ اپنی ذات کی فلاح و بہبود کے لئے تو ہر آدمی کام کرتا ہے، لیکن وہ انسان بہت عظیم ہوتے ہیں جو اپنی زندگی دوسروں کے لئے وقف کر دیتے ہیں۔ مثالی معاشرہ وہی ہے، جس میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے اور حاجت مندوں کی ضروریات کو پورا کرتے زندگی گزارنے کو فرض سمجھا جائے۔ دین اسلام انسانیت کی فلاح کا مذہب ہے۔ آگے بڑھیں اور انسانیت کی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں۔بے ایمانی کو چھوڑ کر دوسروں کی راحت کا باعث بنیں۔یہ ہی سکون اور آرام حاصل کر نے بہترین فارمولا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -