خطے میں جنگ کے ابھرتے خطرات

خطے میں جنگ کے ابھرتے خطرات
خطے میں جنگ کے ابھرتے خطرات

  

پاکستان کے خلاف، بھارت کا اسرائیلی سافٹ وئیر پیگاسس استعمال کر کے حساس معلومات حاصل کرنے کا انکشاف ہوا ہے ہمارے وزراء اور وزراء مملکت اس حوالے سے بلند آہنگ میں بھارت کے خلاف باتیں کر رہے ہیں۔ فواد چودھری صاحب نے تو اقوام متحدہ سے تحقیقات کرنے کا مطالبہ بھی کر دیا ہے۔ اسرائیل کا بنایا گیا یہ سافٹ وئیر، اسرائیلی مرضی کے مطابق ہی کسی ملک کو دیا جاتا ہے اسے کوئی بھی مملکت،اپنے طور پر خرید نہیں سکتی۔ یہ سافٹ وئیر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو بھی دے دیا گیا ہے۔پاکستان کے خلاف بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ کوئی نئی بات نہیں ہے پاکستان کے خلاف کئی بھارتی سازشوں میں اسرائیل برابر کا شریک رہا ہے۔ سقوط مشرقی پاکستان میں اسرائیلی جنرل جیکب کا بھارتی ملٹری کمانڈ کے ساتھ بطور مشیر شریک ہونا تاریخ کا حصہ ہے۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں کہوٹہ ایٹمی پلانٹ کو تباہ کرنے کے لئے بھارت،اسرائیل مشترکہ آپریشن کی یاد بھی ہماری قومی یاداشت میں واضح ہے۔ 

امریکہ نے افغانستان سے رخصتی کے دوران اس بات کا بالخصوص اہتمام کیا ہے کہ یہاں طالبان کی حکومت قائم نہ  ہو، کیونکہ افغانستان میں امن و امان کا مطلب خطے میں امن ہو گا اور اس طرح سی پیک کے اثرات خطے میں ظاہر ہونگے تو چینی بالادستی کے امکانات پیدا ہونگے۔ امریکہ خطے میں اپنی بالادستی کے لئے ہندوستان کو بھی شہ دے رہا ہے ایک طرف اسکی معاشی تعمیر و ترقی کے سامان کئے جا رہے ہیں دوسری طرف اسے اعلیٰ سول نیو کلیئر ٹیکنالوجی سے لیس کیا جا رہا ہے بھارت نے امریکی شہ پر لداخ میں چین کے ساتھ جھڑپ کر کے دیکھ لیا ہے کہ چین کسی طور پر بھی کوئی شرارت ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کر ے گا۔ امریکہ نے 20 سالوں کے دوران بھارت کو افغانستان میں پاکستان کے خلاف مورچہ زن ہونے کی کھلی چھٹی دے رکھی تھی اس دوران بھارت نے پاکستان میں دہشت گردی کی خوب پرورش کی۔ہمارے 70 ہزار سے زائد شہری بشمول فوجی افسران اور جوان شہید ہوئے ہماری معیشت نے 100 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان اٹھایا۔ دہشت گردی کی اس فضا کے معاشرتی اثرات بھی مرتب ہوئے ہیں۔ 

امریکہ افغانستان سے رخصتی کے بعد خطے میں اپنی موجودگی کو یقینی بنانے کے کے لئے پر عزم ہے طالبان کے خلاف فی الحال افغان حکومت کھڑی ہے بھارت سرکار اسے اسلحی مدد بھی فراہم کر رہی ہے۔ افغان حکمران ہندوستان فو ج کو بلانے کی دھمکی بھی دے چکے ہیں۔ ہم نے امریکہ کو ناں کر دی ہے اڈے بھی نہیں دینے ہیں اور خطے میں کسی محاذ آرائی میں اس کا مدد گار نہیں بننا ہے۔

ہماری معیشت شدید مشکلات کا شکار ہے ورلڈ بینک، آئی ایم ایف اور دیگر عالمی زری و مالیاتی اداروں نے ہم پر شکنجہ کسا ہو ا ہے جس کے باعث ہماری معاشی مشکلات میں اضافہ ہی ہوتا چلا جا رہا ہے۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ایک  تھانیدار کے طور پر ہم پر مسلط ہے آئے روز نئی نئی شرائط پوری کرنے ورنہ بلیک لسٹ کرنے کی دھمکیاں لگا رہا ہے۔ ہماری عالمی سفارتی پوزیشن بھی انتہائی کمزور ہے۔ شرقاً غرباً اور شمالاً جنوباً، ہر طرف ہمارے دشمن ممالک ہم پر حملہ آور ہو چکے ہیں۔

ایران ہمارا ہمسایہ ملک ہے لیکن وہ بھی کسی اہم معاملے میں ہم پر اعتبار کرنے کے لئے تیار نہیں،گیس پائپ لائن معاہدے پر عمل در آمد کے حوالے سے ہم نے جو طرزِ عمل اختیار کیا وہ ایران کو پسند نہیں آیا۔امریکی دباؤ کے تحت ہم ایران کے ساتھ اپنے تعلقات آگے نہیں بڑھا سکے۔ چین کے ساتھ 400 ارب ڈالر کا معاہدہ ایرانی سفارتی و معاشی حکمت عملی کا شاندار مظاہرہ ہے پھر بھارت کی بجائے چین کو چاہ بہار میں شامل کرنا بھی ایرانی حکمت عملی کا حصہ ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے ہم کہاں کھڑے ہیں۔ افغانستان کے 5 ہمسایہ ممالک میں صرف ہمیں ہی کیوں خطرات کا سامنا ہے، افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا اور طالبان کی پیش قدمی سے ہم کیوں پریشان ہیں ہم نے اپنی مسلح افواج بھی پاک افغان سرحدوں پر بھجوا دی ہیں اندرون ملک سیکیورٹی بھی ہائی الرٹ ہے اندرون ملک دہشت گردی نے بھی سر اٹھانا شروع کر دیا ہے۔ کیا ہم نے ابھرتے ہوئے خطرات کا مقابلہ کرنے کی کوئی حکمت عملی تیار کر لی ہے۔ کیا افغانستان میں خانہ جنگی کی صورت میں، یہاں پیدا ہونے والے ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لئے تیار ہیں؟ اب  جنگ روایتی انداز میں نہیں لڑی جانی ہے سائبر وار،  ہائیبرڈ وار بھی آپشنز ہیں جن پر دشمن عمل پیرا ہو چکا ہے۔ کیا ہم ایسی جنگ کے لئے تیار ہیں؟ہماری سیاسی قیاد ت مار پھٹول میں بری طرح الجھی ہوئی ہے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے مقابلہ بازی جاری ہے۔ حکومت قومی معاملات کو موثر انداز میں آگے بڑھانے میں کامیاب نظر نہیں آرہی ہے نظریاتی طور پر بھی ہم منتشر ہیں اور عملی طور پر بھی۔ دیکھنا یہ ہے کہ فکری و عملی طور پر انتشار کے ساتھ کیا ہم جنگ کے ابھرتے ہوئے امکانات سے کما حقہ نمٹنے کے لئے تیار ہیں۔ 

مزید :

رائے -کالم -