وزراء کی خیالی جنت

وزراء کی خیالی جنت
وزراء کی خیالی جنت

  

وفاقی وزراء کا بس چلے تو وہ تمام سیاسی جماعتوں کو دفن کر کے ان پر تحریک انصاف کا جھنڈا گاڑ دیں، اکثر وزیروں کی زبان پر یہی جملہ ہوتا ہے، اپوزیشن جماعتوں کی سیاست ختم ہو گئی ہے۔ یہ وزراء جب دوسری جماعتوں میں تھے تو یہی بات شاید عمران خان کے بارے میں بھی کہتے ہوں، کبھی کسی قومی جماعت کی سیاست بھی ختم ہو سکتی ہے۔ اب یہ کہا جا رہا ہے آزاد کشمیر میں عوام نے نواز شریف کے بیانیے کو دفن کر دیا ہے،اچھا دفن کیا ہے، اسے پانچ لاکھ سے کچھ ہی کم ووٹ ملے ہیں اور ووٹوں کے لحاظ سے مسلم لیگ(ن) دوسرے نمبر پر رہی ہے تحریک انصاف کو مسلم لیگ (ن) کی نسبت ایک لاکھ بائیس ہزار ووٹ زیادہ ملے ہیں۔تو گویا پانچ لاکھ کے لگ بھگ کشمیریوں نے نواز شریف کے بیانیے کی تائید میں ووٹ دیئے ہیں؟ کسی جماعت کا ایک حامی بھی موجود ہو تو وہ زندہ رہتی ہے،یہاں تو لاکھوں ووٹروں کا معاملہ ہے۔ شیخ رشید احمد جیسے وزراء لاکھ کہتے رہیں نواز شریف کی سیاست ختم ہو گئی ہے،اُن کی سیاست بھی زندہ ہے اور وہ خود بھی سیاسی حوالے سے ایک طاقتور کردار کی صورت موجود ہیں۔مَیں نے آج تک نہیں سنا کہ کبھی فوج کے ترجمان نے یہ کہا ہو،نواز شریف ہمارے ساتھ لڑائی کر کے آج اس کا نتیجہ بھگت رہے ہیں تو پھر یہ شیخ رشید احمد کیسے آئے روز پریس کانفرنس کر کے یہ درفنطنی چھوڑتے ہیں کہ نواز شریف نے فوج سے الجھ کر اپنی سیاست ختم کر لی ہے،یہ کہہ کر وہ کس کی خدمت کر رہے ہوتے ہیں، اس کا فائدہ نواز شریف کو ہوتا ہے یا فوج کو، ایسی بے بنیاد باتوں کے بعد فوج کو تو کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا، اُلٹا اس کی ساکھ اور غیر جانبداری متاثر ہوتی ہے۔ہاں اگر یہ بیان آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری کیا جائے تو اس کی اہمیت ہو گی اور سنجیدہ بھی لیا جائے گا۔

ادھر فواد چودھری کس سرخوشی میں یہ کہہ رہے ہیں سندھ میں پیپلزپارٹی کی آخری حکومت ہے، کیا انہیں الہام ہوا ہے یا پھر جھرلو پھیرنے والوں نے انہیں خبر دی ہے۔ پیپلزپارٹی کو سندھ میں شکست دینا اتنا آسان نہیں سوائے الیکشن میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کے،کراچی سے پی ٹی آئی نے عام انتخابات میں کلین سویپ کر لیا تھا،مگر اس کا مطلب یہ نہیں وہ پورے سندھ میں جیت جائے گی۔فیصل واوڈا کی چھوڑی ہوئی نشست پر تحریک انصاف کے امیدوار کا جو حشر ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔ یہ سیٹ بھی پیپلزپارٹی کے مندوخیل لے گئے ابھی انتخابات کو دو سال پڑے ہیں، ایسی پیش گوئیوں کا کیا فائدہ، پہلے ہی یہ تاثر عام ہوتا جا رہا ہے اسٹیبلشمنٹ کا حکومتیں بنانے گرانے میں کردار بہت بڑھ گیا ہے، الیکشن کی ساکھ بری طرح متاثر ہو چکی ہے۔آزاد کشمیر الیکشن کو آسانی سے کوئی بھی ہضم نہیں کر رہا،کیا فواد چودھری سندھ  میں پیپلز پارٹی کے اقتدار کی آخری منزل کا ذکر اسی لئے کر رہے ہیں کہ انہیں اسٹیبلشمنٹ کی کسی سکیم کا علم ہو گیا ہے۔وزراء ایسی باتیں کیوں کرتے ہیں، جن سے شکوک و شبہات جنم لیں۔ سندھ کے عوام اگر پیپلز پارٹی سے تنگ ہیں تو خودبخود اسے اگلے انتخابات میں رد کر دیں گے تاہم اس کے لئے زمین پر بھی تو کچھ ہونا چاہئے۔اندرون سندھ پیپلزپارٹی کا کوئی توڑ نہیں،سندھ کا جی ڈی اے اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود چند نشستوں سے زیادہ حاصل نہیں کر سکا۔ تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) کا اندرون سندھ اتنا بڑا ووٹ بنک نہیں، جو پیپلز پارٹی کے سحر کو  توڑ سکے۔ سندھ آج بھی بھٹو کے نام پر ووٹ دیتا ہے۔ یہ ایسی حقیقت ہے، جس سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا۔ کوئی بھی ایسا جھرلو نہیں پھیر سکتا کہ بھٹو مخالف ووٹ دینے پر لوگوں کو مجبور کر سکے۔

آزاد کشمیر الیکشن میں فتح کے بعد فواد چودھری اور علی امین گنڈا پور نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے اپوزیشن سے کہا کہ وہ اپنا طرزِ سیاست بدلے اپوزیشن اپنا طرزِ سیاست کیسے بدل سکتی ہے، جب وزراء صبح و شام اسے تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ پہلے تو وزراء کو اپنے رویوں میں تبدیلی لانی چاہئے۔ اگر آپ صبح سے شام تک نوازشریف کو غدار کہیں گے، انہیں لٹیرا، ڈاکو اور بھگوڑا قرار دیں گے۔ آصف علی زرداری پر خزانہ لوٹنے کا الزام دھریں گے اور بلاول بھٹو زرداری کو بچہ کہیں گے، نیز مریم نواز کو سخت جملوں کا نشانہ بنائیں گے اور جواب میں یہ توقع رکھیں گے۔ اپوزیشن حکومت پر تعریف کے ڈونگرے برسائے یا اپنی زبان چپ رکھے تو یہ حماقت کی انتہا ہی سمجھی جائے گی۔ مسلم لیگ (ن) ہو یا پیپلزپارٹی، یہ دونوں بڑی زمینی حقیقتیں ہیں۔ پنجاب میں آج بھی مسلم لیگ (ن) کا ووٹ بینک قائم ہے اور سندھ میں پیپلزپارٹی کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ نوازشریف کا بیانیہ جیسا بھی ہو، ان کی جماعت ساتھ کھڑی ہے، اب یہ کتنی احمقانہ بات ہے کہ آزاد کشمیر انتخابات میں شکست کے بعد فواد چودھری مریم نواز اور بلاول بھٹو سے یہ فرمائش کر رہے ہیں وہ اپنی پارٹی کے عہدوں سے مستعفی ہو جائیں۔ یہ مطالبہ کرتے ہوئے فواد چودھری اس بات کو بھول گئے ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف کو بار بار شکست ہوئی، حتیٰ کہ اپنی نشستیں بھی ہار گئی، مگر کسی عہدیدار نے استعفا نہیں دیا، جو فارمولا انہوں نے بیان کیا ہے اس کے مطابق تو عمران خان کو پارٹی چیئرمین کے عہدے سے مستعفی ہو جانا چاہئے تھا۔

ان شعبدہ بازیوں کی بجائے تحریک انصاف کے ذمہ داروں کو اپنی فکر کرنی چاہئے۔ ان کے پاس وقت بہت تھوڑا رہ گیا ہے۔ تحریک انصاف کی تین سالہ کارکردگی ایسی نہیں جس پر وہ یہ توقع کر سکے عوام 2023ء کے انتخابات میں بھی اسے جوق در جوق ووٹ ڈالنے جائیں گے۔ خواب و خیال کی دنیا میں رہنا اور بات ہے حقائق بہت مختلف ہیں۔ عام تاثر یہی ہے حکومت عوام کو ریلیف دینے میں ناکام رہی ہے۔ نئے پاکستان کی باتیں اب ایک اذیت ناک لطیفہ بن گئی ہیں۔ کئی شعبوں میں حکومت نام کی کوئی چیز کہیں نظر نہیں آتی، مہنگائی کا جِن عوام کی آرزوؤں، امیدوں اور حسرتوں کو نگل گیا ہے۔ ہر طرف مایوسی ہے، آزادکشمیر الیکشن میں جیت کے بعد یہ دعوے نہیں کئے جا سکتے کہ اب سندھ کو بھی فتح کر لیں گے یا سیاسی جماعتوں کا ملک سے صفایا ہو گیا ہے۔ پاکستان میں چھ لاکھ ووٹ تو ایک حلقہ ئ  انتخاب میں ہوتے ہیں۔ وزراء کو بڑھکیں مارنے کی بجائے کابینہ میں بیٹھ کے اپنے کپتان کو حقیقی صورتِ حال سے باخبر رکھنا چاہئے۔ جھوٹی تعریفوں کے ساتھ اپنی وزارت بچانے اور اپوزیشن پر الزامات لگانے سے بات نہیں بنے گی۔ عوام کو دیوار سے لگا کے یہ توقع رکھنا وہ ایک بار پھر کڑوا گھونٹ بھریں گے، ایک ایسی خواہش ہے، جو وزراء کی ہٹ دھرمی اور دیوانگی کا مظہر ہے۔

مزید :

رائے -کالم -