سینٹ میں صوبوں کو آبادی کے لحاظ سے نمائندگی دی جائے راؤ خالد 

سینٹ میں صوبوں کو آبادی کے لحاظ سے نمائندگی دی جائے راؤ خالد 

  

لاہور  (پ ر)سیاسی و سماجی شخصیت راؤ محمد خالد نے کہا ہے کہ  1947 میں تقسیم ہند کے نتیجے میں انڈیا اور پاکستان کی آزاد ریاستیں وجود میں آئی دونوں ممالک میں وفاقی نظام ہے. انڈیا میں تمام صوبوں کو آبادی کے لحاظ سے سینٹ میں نمائندگی دی گئی جبکہ پاکستان میں  1973 کے آئین میں  پنجاب کی اکٹریت کو اقلیت میں بدل کر استحصال پنجاب کیا گیا، 62 فیصد آبادی والے پنجاب کو  23 سیٹ اور  38 فی صد والے تین صوبوں کو  69 سیٹیں سینٹ میں دے کر پنجاب کے ساتھ سراسر ناانصافی کی گئی کیونک پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس میں پنجاب کی اکٹریت کو اقلیت میں تبدیل کر دیا گیا۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ فاٹا کے خیبر پی کے میں انضمام کے وقت فاٹا کی سینٹ کی چار سیٹیں ختم کرنے کے بجائے 2024 تک خیبر پی کے کو دے کرخیبر پی کے کی سینٹ میں نمائندگی بلوچستان،سندھ اور پنجاب سے زیادہ کر دی گئی۔

 انہوں نے کہا کہ فاٹا خیبر پی کے میں ضم کیا چاسکتا ہے تو کشمیر کو پنجاب میں کیوں نہیں ضم کیا جا سکتا کشمیر کے پنجاب سے تاریخی و ٹقافتی رشتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہماری پاکستان بالخصوص پنجاب کے دانشوروں صحافیوں کالم نگاروں ایڈیٹرز،اراکین پنجاب اسمبلی سے اپیل ہے کہ استحصال پنجاب کے خاتمے کے لئے آواز بلند کریں۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -