عیدالالضحیٰ بھی گزر گئی، شہریوں کی طرف سے عدم تعاون کورونا حفاظتی اقدامات نظر انداز، مہنگائی بھی رہی

عیدالالضحیٰ بھی گزر گئی، شہریوں کی طرف سے عدم تعاون کورونا حفاظتی اقدامات ...

  

لاہور سے چودھری خادم حسین

عیدالالضحیٰ کے موقع پر سنت ابراہیمی کی ادائیگی کے دوران ہی آزاد جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کا سلسلہ بھی جاری رہا اور 23 جولائی کی شب تک انتخابی مہم کے جلسے بھی ہوتے چلے گئے۔ اس عرصہ میں عید آئی اور پھر گزر بھی گئی اس کے بعد 25 جولائی (اتوار) کا دن رائے شماری کا آ گیاا ور صبح 8 بجے سے سہ پہر 5 بجے تک یہ سلسلہ جاری رہا آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے لئے ان مہاجرین کی نشستیں بھی رکھی گئی ہیں جن کا تعلق جموں (مقبوضہ) اور کشمیر ویلی (مقبوضہ) سے تھا چھ نشستیں ویلی اور چھہ ہی جموں کے مہاجرین کے لئے مختص ہیں۔ ان میں سے دو نشستوں کے لئے لاہور میں بھی پولنگ ہوئی۔ ایل اے 41 (ویلی) 2 کی نشست پر مقابلہ دو سابقہ دوستوں کے درمیان تھا غلام محی الدین دیوان اور ان کے پرانے حصہ دار دوست عباس میر کے صاحبزادے شبیر عباس کے درمیان تھا دوسری نشست ایل - اے 34 جموں 1 کے زیادہ ووٹروں کا تعلق لاہور سے تھا۔ یہ دونوں نشستیں تحریک انصاف نے جیتی ہیں، اگرچہ جموں والی نشست کے ووٹر کراچی اور سندھ کے بعض شہروں میں بھی ہیں۔

دیوان غلام محی الدین پہلے بھی یہ نشست جیتتے رہے اور آزاد کشمیر کے وزیر بھی رہے ہیں، عباس میر اور وہ شمالی لاہور کے رہائشی اور دوست تھے اور دونوں کا تعلق پیپلزپارٹی ہی سے تھا دیوان پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر بھی جیتے اور جب بیرسٹر سلطان محمود نے پیپلزپارٹی میں اپنی جماعت ضم کر کے انتخابات میں حصہ لیا اور جیت کر وزیر اعظم بنے تو غلام محی الدین دیوان ان کے گروپ میں شامل ہو گئے۔ جب بیرسٹر پیپلزپارٹی سے الگ ہوئے تو دیوان بھی انہی کے ساتھ گئے اور تحریک انصاف میں شمولیت بھی مل کر کی، عباس میر اور دیوان میں اختلاف اسی نشست پر ہوا اور عباس میر نے پیپلزپارٹی سے الگ ہو کر مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لیا اور ایک بار کے الیکشن کا نتیجہ ہی لٹکا رہا تھا اور عباس میر مسلم لیگ (ن) کا تعلق نبھاتے رہے، اب وہ واپس پیپلزپارٹی میں آ گئے تھے اور امیدوار ان کے صاحبزادے شبیر عباس تھے۔ جو اب ہار گئے ہیں تاہم ان کی طرف سے بد انتظامی اور دھاندلی کے الزام لگائے گئے۔ مسلم لیگ (ن) کی طرف سے بھی شکایات کی گئیں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی شکائت تھی کہ غلام محی الدین دیوان مسلح ٹائیگر اور سرکاری گاڑیوں سمیت صوبائی اور وفاقی حکومت کی امداد سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔ پیپلزپارٹی نے پولیس پر پولنگ کیمپ اکھاڑنے کا الزام لگایا تو مسلم لیگ (ن) کی شکایت تھی کہ ان کے پولنگ ایجنٹ پولنگ سٹیشنوں سے نکال دیئے گئے۔ شبیر عباس نے ووٹروں کی فہرستوں پر بھی اعتراض کئے۔ بہر حال الیکشن تو ہو گیا تحریک انصاف جیت بھی گئی۔ الزام اور جوابی الزام کا سلسلہ جاری اور یہ رہے گا۔

ان انتخابات سے قبل بدھ 21 جولائی کو عیدالالضحیٰ کا دینی تہوار تھا، یہ سنت ابراہیمی کی ادائیگی کے لئے مختص اور قربانی تین روز تک جاری رہتی ہے۔ اگرچہ مجموعی طور پر پہلے روز اور پھر دوسرے دن نوے فیصد سے زیادہ جانور قربان کر دیئے جاتے ہیں۔ اس لئے زیادہ زور دو دنوں پر ہی ہوتا ہے تیسرے دن بہت کم لوگ یہ سنت ادا کرتے ہیں۔ عیدالالضحیٰ سے قبل کورونا وبا میں بہت کمی آئی اور حالات بہتر ہو گئے تھے۔ این سی او سی کی سفارش پر پابندیاں نرم تر کر دی گئی تھیں اور یہ ہدایت کی گئی کہ عیدالالضحیٰ کے موقع پر کورونا ایس او پیز (حفاظتی اقدامات) کا مکمل خیال رکھا جائے۔ تاہم ایسا نہیں ہوا اور شہریوں نے تمام ضابطوں کو ہوا میں اڑا دیا اور عیدالالضحیٰ کا تہوار ایسے گزارا جیسے یہ وباء (کورونا) کبھی تھی ہی نہیں۔ ماسک نہ پہنے گئے اور سماجی فاصلہ بھی نہ رکھا گیا۔ یہ سلسلہ تا حال جاری ہے حالانکہ کورونا متاثرین کی تعداد بڑھ گئی اور مزید پھیلنے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، ویکسی نیشن کا عمل جاری ہے اور شہریوں سے کہا بھی جا رہا ہے کہ ویکسین لگوائی جائے تاکہ حالات معمول پر آ سکیں، تاہم لوگوں کا رجحان کم ہو چکا۔ اب حکومت پنجاب نے پولیو کے قطروں والی مہم کی طرح گھر گھر ویکسین لگانے کی مہم شروع کی ہے، تاکہ زیادہ سے زیادہ شہریوں کوتحفظ دیا جا سکے۔

عیدالالضحیٰ دینی تہوار ہے تاہم شہری اسے اپنے ہی انداز سے مناتے ہیں۔ اس سال بھی مہنگائی کے حوالے سے زیادہ تر بڑے جانور (گائے+ بیل وغیرہ) ذبح کئے گئے صفائی کے حوالے سے حکومت کے انتظامات پہلے سے بہتر تھے۔ تاہم شہریوں سے تعاون حاصل نہ کیا جا سکا جس کی وجہ سے شکایات بھی رہیں بہرحال اب تک کوڑا اٹھانے اور صفائی کا یہ سلسلہ جاری ہے۔

مہنگائی کے حوالے سے بات کرنا اب خود کو تسلی دینے والی بات ہے کہ اشیاء ضروریہ اب تک معمول کے نرخوں تک نہیں آ سکیں۔ عید کے دنوں میں سبزیاں زیادہ مہنگی بکیں البتہ مرغی کا گوشت 200 سے 210 روپے فی کلو تک آ گیا ہے۔

اس اثناء میں سابق صدر مملکت پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری 66برس کے ہو گئے،جیالوں نے غنیمت جان کر ان کی بھی سالگرہ منا ڈالی اور کیک کاٹے وسطی پنجاب کے دفتر اور الحاج عزیز الرحمن چن کی رہائش گاہ پر تقریبات ہوئیں۔

آصف علی زرداری66برس کے،جیالوں نے سالگرہ منا ڈالی

 لاہور کی دونوں نشستیں تحریک انصاف کو ملیں، دیوان غلام محی الدین نے سابقہ دوست کے بیٹے کو ہرایا

مزید :

ایڈیشن 1 -