وفاقی دارالحکومت میں آزاد کشمیر کے انتخابی عمل اور نتائج کے جھٹکے جاری ہیں!

وفاقی دارالحکومت میں آزاد کشمیر کے انتخابی عمل اور نتائج کے جھٹکے جاری ہیں!

  

وفاقی دارالحکومت میں آزادکشمیر کے انتخابی معرکے کی بازگشت جاری ہے۔ پاکستان مسلم لیگ(ن) کی نائب صدر مریم نوازشریف نے تو انتخابی نتائج یکسر مسترد کر دیئے ہیں، جبکہ انتخابات سے قبل مسلم لیگ(ن) کے قائد میاں محمد نوازشریف نے لندن سے ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے انتخابی نتائج چوری ہونے کے امکان کے حوالے سے آزادکشمیر میں اپنے حامیوں اور ووٹروں کو متنبہ بھی کیا تھاجبکہ پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرپرسن بلاول بھٹو زرداری نے بھی دھاندلی کے الزامات تو عائد کئے ہیں، لیکن انتخابی نتائج کو تسلیم کر لیا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے انتخابی جلسے تو دھواں دھار تھے بالخصوص مسلم لیگ (ن) کی قائد مریم نوازشریف کے جملے نہایت پرجوش اور جذبات سے معمور تھے، لیکن انتخابات سے قبل مسلم لیگ(ن)جوڑ توڑ مین شاید مہارت نہیں دکھا سکی۔ اسی وجہ سے پاکستان تحریک انصاف سے صرف  ایک لاکھ ووٹ کم لینے پر تیسرے نمبر پر کامیاب ہوئی،جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے حاصل کردہ ووٹ مسلم لیگ(ن) سے بھی کم رہے، لیکن یہ دوسرے نمبر پر اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہو سکی، اگرچہ تمام تجزیوں اور قیافوں میں پہلے ہی سے یہ اندازے سامنے آ رہے تھے کہ حسب ِ روایت مرکز میں حکمران جماعت ہی آزاد کشمیر میں ہمیشہ کامیاب و کامران ہوتی ہے۔ آزاد کشمیر کے عوام مرکزی حکومت پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں، جبکہ آزادکشمیر کی حکومت کا معاشی انحصار بھی مکمل طور پر مرکزی حکومت پر ہوتا ہے۔ مزید براں آزاد کشمیر کے الیکشن کمیشن کی تنبیہ کو نظر انداز کرکے وفاقی وزیر آزاد کشمیر علی امین گنڈا پور سمیت دیگر وفاقی وزرا نے بڑھ چڑھ کر انتخابی مہم جاری رکھی۔ وزیراعظم عمران خان نے بھی آزاد کشمیر میں جلسوں سے خطاب میں خوب زور بیان دکھایا،حتیٰ کہ انہوں نے مریم نواز شریف کے نواسے کے برطانیہ میں پولو میچ کھیلنے کو بھی ہدفِ تنقید بنایا، جس پر سوشل میڈیا پر خوب لے دے ہوئی معاملہ وزیراعظم عمران خان کی سابق اہلیہ جمائمہ خان اور ان کے بچوں تک پہنچ گیا۔ انتخابی مہم میں پی ٹی آئی کے سردار تنویر الیاس پر بھی پیسے کے بے دریغ استعمال کے الزامات لگے،یہ صرف اپوزیشن کی جانب سے ہی نہیں،بلکہ پی ٹی آئی کے کشمیری رہنما بیرسٹر سلطان محمود کے حلقوں کی جانب سے بھی سوالات اٹھائے گئے ان الزامات کے نتیجہ میں ایک حساس ادارے کے اعلیٰ افسر کا تبادلہ بھی ہوا، لیکن شاید تب تک جوڑ توڑ کا عمل مکمل ہو چکا تھا۔ انتخابی جائزے بھی یہی بتا رہے تھے کہ پی ٹی آئی ہی حکومت بنائے گی حتیٰ کہ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے بھی پیشگوئی کی تھی کہ پی ٹی آئی ہی حکومت بنائے گی خواہ ایک ووٹ سے ہی بنائے، لیکن شاید پی ٹی آئی کو حکومتی توقعات سے بھی زیادہ کامیابی نصیب ہوئی ہے، تاہم پاکستان پیپلزپارٹی نے ہمیشہ سے آزاد کشمیر بہت توجہ مرکز رکھی ہے۔ اس کا ایک نظریاتی ووٹ بھی ہے، جو پنجاب میں بھی تھا، لیکن کم ہوتا چلا جا رہا ہے، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کی آزادکشمیر میں کامیابی حاصل کرنے کی ایک وجہ اس کا نظریاتی ووٹ بینک اور دوسری اس کی سیاست میں عملیت پسندی  ہے جس کی داغ بیل سابق صدر آصف علی زرداری نے ڈالی۔تاہم وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے مسلم لیگ (ن) کی آزاد کشمیر الیکشن میں تیسری پوزیشن کی وجہ مریم نواز کا بیانیہ اور مسلم لیگ(ن) کے قائد نواز شریف کی لندن میں افغان سیکیورٹی ایڈوائزر سے ملاقات کو قرار دیا ہے۔ 

افغانستان کی داخلی صورت حال ایک گردباد کی صورت اختیار کرتی جا رہی ہے۔یہ گردباد پورے خطے یا بعض ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ پاکستان پر بھی افغانستان کی صورت حال کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔اگرچہ پاکستان کی عسکری قیادت خطے کی صورت حال کے حوالے سے نہ صرف مکمل ادراک کی حامل نظر آتی ہے،بلکہ چوکس بھی ہے۔پورے خطے میں ایک بھونچال جیسی صورت حال بن رہی ہے، خطے میں تمام عالمی قوتیں پوری طرح متحرک نظر آتی ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ بھارت کا انتہائی اہم دورہ کرنے آ رہے ہیں اس دورے کی ٹائمنگ افغان صورت حال سے ہی منسلک نظر آتی ہے ایسا لگتا ہے کہ امریکہ افغانستان سے شکست فاش سے دوچار ہو کر نکل گیا ہے، جس میں اس کے بحفاظت نکلنے میں پاکستان نے کلیدی کردار ادا کیا،لیکن امریکہ کا فطری رومانس بھارت سے ہی ہے،اس لئے امریکہ، افغان صورت حال میں بھارت کو اہم کردار دینے کے حوالے سے بضد نظر آتا ہے۔امریکہ چاہتا ہے کہ اس کے افغانستان سے نکلنے سے جو خلا پیدا ہوا ہے اسے کسی حد تک بھارت کی مدد سے پُر کیا جائے۔ دوسری جانب سعودی وزیر خارجہ پاکستان کے دورے پر ہیں یہاں ان کی میل ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات کے علاوہ افغان صورت حال بھی ایجنڈا کا حصہ ہو گی۔سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک بھی افغانستان کی صورت حال میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں جبکہ پاکستان کا دوست اور ابھرتی ہوئی دوسری بڑی عالمی قوت چین بھی افغان صورت حال میں ایک سٹیک ہولڈر کے طور موجود ہے۔ یہی حال روس اور وسطی ایشیائی ممالک سمیت ایران کا ہے۔یہی وجہ ہے کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے چین کا اہم دورہ کیا اور داسو ڈیم پر چینی ہلاکتوں اور افغان صورت حال پر چینی قیادت کو اعتماد میں لیا۔ شنید ہے کہ ڈی جی آئی ایس آئی امریکہ کا بھی ایک اہم دورہ کریں گے۔پاکستان کے لئے خارجی محاذ پر  اس وقت سنگین نوعیت کے چیلنجز سر اٹھا رہے ہیں، جبکہ اسی تناظر میں تحریک طالبان پاکستان بھی دوبارہ متحرک ہوتی نظر آ رہی ہے۔یہ کس حد تک پاکستان میں دوبارہ منظم ہوتی ہے یہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے ایک ایسے وقت میں جب پاکستان داخلی اور خارجی خطرات میں گھرتا ہوا نظر آتا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آزاد کشمیر میں انتخابات جیتنے کے بعد سندھ میں پیش قدمی کا اعلان کر رہی ہے،جس سے سیاسی تفریق میں اضافہ ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔

وفاقی دارالحکومت میں ایک سفارت کار کی بیٹی نور مقدم کے بہیمانہ قتل سے فضا سوگوار ہے۔ سول سوسائٹی مظاہرے کر رہی ہے،حکومت لواحقین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کر رہی ہے، لیکن سماج اور سیاست میں تفریق اور تشدد کی کوئی ذمہ داری لینے کو تیار ہے نہ ہی اس کا تدارک کرنے پر آمادہ نظر آ رہا ہے۔

مریم نواز شریف نے نتائج یکسر مسترد کر دیئے،بلاول بھٹو نے دھاندلی الزامات پر انحصار کیا!

افغانستان کی داخلی صورت حال،امریکی وزیر خارجہ کا بھارتی دورہ اہم ہو گا،سعودی وزیر خارجہ اسلام آباد میں ہیں!

اسلام آباد میں نور مقدم کا بہیمانہ قتل، فضا مسلسل سوگوار ہے!

مزید :

ایڈیشن 1 -