عید الاضحی بخیر و خوبی گزر گئی، محرم کے لئے سخت ترین سیکیورٹی انتظامات کا آغاز

عید الاضحی بخیر و خوبی گزر گئی، محرم کے لئے سخت ترین سیکیورٹی انتظامات کا ...

  

رب ذوالجلال کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ عیدالاضحی خیر یت سے گزر گئی،اہل خیبر نے سنت ابراہیمی مذہبی جوش و خروش کے ساتھ ادا کی اور صوبے کے کسی حصے سے کسی بھی ناخوشگوار اطلاع نہیں ملی یوں عید کے تینوں ایام پُرسکون گزر گئے۔چند روز بعد محرم الحرام کی آمد آمد ہے تو کے پی میں سیکیورٹی کے غیر معمولی اقدامات کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، پولیس سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعلیٰ حکام نے اس حوالے سے خصوصی میٹنگز کا آغاز کر دیا ہے اور صوبائی دارلحکومت پشاور سمیت درجن سے زائد حساس اضلاع میں خصوصی انتظامات بھی زیر غور ہیں۔ عشرہ محرم کے دوران مجالس عزا اور جلوسوں کے منتظمین نے امام بارگاہوں، عزا خانوں کی تزین و آرائش   بھی شروع کر دی ہے، مختلف مقامات پر مجالس کے انعقاد کے اعلانات پر مشتمل اشتہارات، فلیکس اور بینرز بھی آویزاں کئے جا رہے ہیں، تھانوں کی سطح پر قائم امن کمیٹیوں کے اجلاس بھی جاری ہیں جبکہ جلوسوں کے روٹس پر سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب اور ”روف ڈیوٹی“ کے شیڈول  بھی تیاری کے مراحل میں ہیں۔  وزیراعلیٰ محمود خان دیگر اراکین کابینہ کے ساتھ کئی روز سے اس حوالے سے سر جوڑ کر بیٹھے ہوئے ہیں اور رواں ہفتے کے دوران ہی تفصیلی ”کانٹنجینسی پلان“ بھی جاری کر دیا جائے گا۔ 

جہاں تک صوبائی حکومت کی کارکردگی کا تعلق ہے تو یہ بات واضح ہے کہ وزیر اعظم عمران خان خود اس کی باریک بینی سے مانیٹرنگ کر رہے ہیں جبکہ وزیر اعلیٰ اس حوالے سے اپنے ساتھی وزراء کے پیچھے لٹھ لے کر پڑے ہوئے ہیں۔ ابھی دو روز قبل انہوں نے ناقص کارکردگی کی بنا پر  صوبائی کابینہ کے دو ارکان کو ان کے عہدوں سے فارغ کردیا جن میں صوبائی وزیر سماجی بہبود ہشام انعام اللہ اور وزیر اعلی کے مشیر برائے مال حاجی قلندر لودھی شامل ہیں جبکہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ خیبر کابینہ میں مزید دروبدل کا بھی امکان ہے۔سننے میں آ رہا ہے کہ دو تین مزید وزراء وزیر اعلیٰ کے ریڈار پر ہیں اور انہیں وارننگ دی گئی ہے کہ اگر کارکردگی بہتر نہ ہوئی تو ماہ اگست میں انہیں بھی وزارت سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔دو تین وزراء کے محکمے بھی تبدیل ہو سکتے ہیں، کے پی کی موجودہ حکومت نے اڑھائی سال کے دوران درجن سے زائد بار کابینہ میں اکھاڑ پچھاڑ ضرورکی ہے اس تبدیلی کے مثبت اثرات برآمد ہوئے اور وزراء نے اپنی کارکردگی بہتر بھی بنائی۔

افغانستان کی اندرونی  صورت حال  کے اثرات بھی سرحد پار بڑھتے جا رہے ہیں جو اب تشویش ناک حدوں کو چھوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ گزشتہ روز نوشہرہ کے  علاقے ڈاک اسماعیل خیل میں جائیداد کے تنازع پر خون کی ہولی کے دوران تین افراد کے  لرزہ خیز قتل  سے  خوف و ہراس پھیل گیا۔ جلوزئی پولیس نے قتل اقدام قتل کے جرم میں مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی تاہم ملزمان موقع سے  فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے،پولیس نے فریقین کی جانب سے مقدمہ درج کرکے ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارنا شروع کر دیئے۔ دو کنال اراضی کے اس  تنازعے نے تین افراد کی جان لے لی، جن میں سو یڈن کا شہری بھی شامل ہے۔گرمی کی شدت میں اضافے کے بعد صوبے کے دیگر شہروں میں بھی  اس قسم کے واقعات رونما ہو رہے ہیں جن پر فوری حفاظتی تدابیر ضروری ہیں۔مردان میں دو روز قبل پولیس وین پر گرنیڈ حملہ بھی تشویش ناک تھا جس کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی یہ بھی بڑا الارمنگ ہے۔ ویسے تو افغانستان میں تحریک طالبان کے سربراہ نور ولی محسود نے جو انٹرویو دیا وہ بھی ہر انداز سے خطرناک ہے جس میں پاکستانی پوسٹ پر حملے کا واضح اعلان کیا گیا۔ یہ اعلان کس نے کروایا اور موجودہ حالات میں اس کی ضرورت کیوں پیش آئی، کون سی طاقت ٹی ٹی پی کو تقویت دے رہی ہے، یہ وہ سوالات ہیں جن کا فوری تدارک ضروری ہے۔ یہ بھی سننے میں آ رہا ہے کہ پاکستان اور چین اس حوالے سے مشترکہ کارروائی پر غور کر رہے ہیں اور اس امر کا غالب امکان ہے کہ اس سلسلے میں جلد آپریشن شروع کر دیا  جائے۔ 

پہلی دفعہ امریکی نشریاتی ادارے کو انٹر ویو دیتے ہوئے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ  نے برملا کہا  تھا کہ ہماری جنگ پاکستان اور پاکستان کے سیکیورٹی اداروں سے ہے،یہ وقت ہی واضح کرے گا کہ افغان طالبان کی کامیابی کا ہمیں کوئی فائد ہ ہوگا یا نہیں تاہم ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان کے قبائلی علاقہ جات کا کنٹر ول حاصل کرکے انہیں آزاد کروائیں۔ واضح رہے کہ نور ولی محسود 2018میں ملا فضل اللہ کے انتقال کے بعد کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا سربراہ بنے تھے   اور ان کا  کسی ابلاغی ادارے کو یہ  پہلا انٹر ویو ہے۔ جہاں تک افغانستان کی تازہ ترین صورت حال کا تعلق ہے تو یہ بات واضح ہے کہ اسے کسی طور تسلی بخش قرار نہیں دیا جا سکتا، امریکی فوجی انخلاء کے بعد طالبان کی پیش قدمی نے اسے مزید گھمبیر بنا دیا گیا ہے اور شاید کوئی دن جاتا ہو کہ امن دشمن کارروائی دیکھنے کو نہ ملے۔   افغان طالبان کے زیرقبضہ اضلا ع کی تعداد بھی اڑھائی سو تک پہنچنے والی ہے تاہم  افغان حکومت کے مطابق کئی اضلاع کا قبضہ واپس لینے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

اس کارروائی کو زبردست تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ طالبان نے امریکی فوج کیلئے مترجم کا کام سرانجام دینے والے افغان شہری کا سرقلم کردیا۔افغان شہری سہیل پردیسی جو امریکی فوج کے مترجم کے طور پر کام کرتا تھا، عید کی چھٹیوں کے موقع پر اپنی بہن کو لینے گھر جارہا تھا کہ راستے میں طالبان نے گاڑی روک کر سر قلم کردیا۔ یہ خوش آئند امر ہے کہ  پاک فوج نے افغان نیشنل آرمی کی درخواست پر افغانستان کے 5 افسران سمیت 46فوجی اہلکاروں کو پاکستان میں پناہ  یا محفوظ راستہ فراہم کیا۔ یہ اہلکار افغانستان میں سیکورٹی کی بدلتی ہوئی صورتحال کی وجہ سے پاک افغان بین الاقوامی سرحد کے ساتھ اپنی فوجی پوسٹوں کو چھوڑنے اور پاکستان آنے پر مجبور ہوئے۔پاک فوج کے ترجمان کے مطابق چترال کے ارندو سیکٹر میں پاکستانی فوج سے محفوظ راستہ مانگا جو دیدیا گیا۔ بعد ازاں پاکستان آنیوالے افغان نیشنل آرمی کے 5 افسروں اور 41 جوانوں کو رات گئے افغان حکومت کے حوالے کر دیا گیا۔ ان افغان فوجیوں کو رات 12بجکر 35منٹ پر باجوڑ بارڈر پر حوالے کیا گیا۔

ناقص کارکردگی پر  دو اراکین کابینہ فارغ، کئی اور بھی ریڈار پر ہیں 

تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ کا انتباہی انٹرویونہایت خطرناک ہے

پاکستان میں پناہ لینے والے افغان فوجی افسر، اہلکارواپس  افغان حکومت کے حوالے

مزید :

ایڈیشن 1 -