پینے کے صاف پانی کی عدم فراہمی،جنوبی پنجاب میں ہیپاٹائٹس کا مرض بڑھنے لگا!

پینے کے صاف پانی کی عدم فراہمی،جنوبی پنجاب میں ہیپاٹائٹس کا مرض بڑھنے لگا!

  

غربت،بے روزگاری اور مہنگائی کی بڑھتی ہوئی شرح کے باوجود کشمیریوں نے عمران خان کے حق میں فیصلہ دے کر جہاں پر سب کو حیران کردیا ہے وہاں اپوزیشن جماعتوں کو بھی سوچنے پر مجبور  کر دیا ہے کہ آخر کن وجوہات کی بنا پر پاکستان تحریک انصاف آزاد کشمیر کا معرکہ سر کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔آزاد کشمیر اور ملک کے دیگر صوبوں کی طرح جنوبی پنجاب میں بھی کشمیریوں نے اپنے رائے حق رائے دہی کا استعمال کرتے ہوئے بلے کو کامیاب ٹھہرایا، جبکہ تیر و شیر کو یہاں  بھی ہار کا سامنا کرنا پڑا۔آزاد کشمیرالیکشن میں اپوزیشن جماعتوں کی شکست اور حکومتی جماعت کی فتح سے ایک بات تو واضع ہوگئی ہے کہ تمام تر مسائل میں اضافے کے باوجود عوام کے دلوں میں اب بھی وزیر اعظم عمران خان کی چاہت باقی ہے، مگر انتخابی مہم کے حوالے سے سیاسی جلسے جلوسوں میں دونوں طرف سے جس طرح کا رویہ اختیار کیا گیا وہ انتہائی افسوس ناک ہے، اپوزیشن پارٹیوں کی جانب سے حکمران جماعت کی کشمیر بارے ایسی ایسی پالیسیاں بیان کی گئیں، جن کا کوئی سر تھا نہ پیر فقط آپس کے اختلافات کی بنیاد پر ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالا جاتا رہا اور بات یہاں پر بھی ختم نہیں ہوئی بلکہ کشمیر کاز کو بنیاد بناتے ہوئے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ لفظی گولہ باری بھی کی گئی اور مخالف کو کشمیر دشمن ثابت کرنے کے لئے نا صرف ایڑی چوٹی کا زور لگایا گیا،بلکہ الیکشن چرانے اور الیکٹڈ و سلیکٹڈ کا شور کشمیر تک بھی پہنچا دیا گیا، سیاسی طاقت کا مظاہرہ کرنے والوں نے جہاں کشمیر کے حوالے سے اپنا سیاسی شعور دنیا کے سامنے ظاہر کیا، وہاں آزاد کشمیر  کو بھی نا صرف متنازعہ بنانے کی کوشش کی بلکہ اپنی تقاریر کے ذریعے ملک دشمن اداروں اور ممالک کو کشمیر اور پاکستان کے درمیان خلیج بڑھانے کے لئے نت نئے نکات بھی فراہم کرتے ہوئے یہ سمجھتے رہے کہ شاید ایسا کرکے یہ ایک دوسرے کی مقبولیت پر اثرانداز ہو جائیں گے، حالانکہ غیر جانبداری سے دیکھا جائے تو وہ تمام تر مہم میں فقط اپنا اپنا گراف ہی نیچا کرتے رہے ہیں۔اب الیکشن کمیشن پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ سالانہ و ضمنی انتخابات میں ایسا ضابطہ اخلاق متعارف کرائے کہ جس کی خلاف ورزی کے بارے میں کوئی سوچ بھی نہ سکے اگر یہ سارا نظام اسی طرح چلتا رہا تو نا صرف سیاستدان ایک دوسرے پر اسی طرح کیچڑ اچھالتے رہیں گے، بلکہ انتخابی عمل میں دھاندلی کا واویلا بھی بڑھتا رہے گا۔اس کے ساتھ ضرورت امر کی بھی ہے کہ کشمیر کے عوام نے جس طرح پاکستان تحریک انصاف پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے سابق حکمران جماعت مسلم لیگ(ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کو شکست سے دو چار کیا ہے،وزیراعظم عمران خان بھی کشمیر کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں بڑھتے ہوئے عوامی مسائل کے خاتمے کے لئے ہوا میں تیر چلانے کی بجائے حقیقی اقدامات کو یقینی بنائیں تاکہ عوامی پریشانی جو ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی جارہی ہے وہ کچھ کم ہوسکے۔

دوسری طرف ملک بھر کی طرح ملتان سمیت جنوبی پنجاب بھر کے عوام نے عید الاضحی مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ مناتے ہوئے سنت ابراہیمی ادا کی۔وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا نماز عید کے بعد میڈیا نمائندگان سے گفتگو میں کہنا تھا کہ بھارت افغانستان میں سپائیلرکا کردارادا کررہا ہے اس کا منفی رویہ خطے کے استحکام کے لئے مناسب نہیں اور یہ اپنے علاقائی مفادات کے لئے خطے کا امن خراب نہ کرے، بھارت امن کے عالمی ایجنڈے کی راہ میں رکاوٹ ہے، پاکستان ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے 27میں سے 26 نکات پر عمل کر چکا ہے۔ اس حوالے سے دنیا پاکستان کے کردار کی تائید کر رہی ہے، لیکن مودی سرکار رخنہ ڈال رہی ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر اعتراف کر چکے ہیں کہ ہم نے پاکستان کو فیٹف کی گرے لسٹ میں رکھوانے کی کوشش کی،لیکن بھارت کو عالمی سطح پرمسلسل ناکامی کا سامنا ہے۔

قائد حزب اختلاف سینیٹ و سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کا افغانستان مسئلے کے حوالے سے کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان جڑواں بھائی ہیں، ہم افغانستان میں جنگ کے روادار نہیں ہیں ہم چاہتے ہیں افغانستان میں امن قائم ہو، کابل کے حالات ٹھیک ہوں تو اسلام آباد کے حالات ٹھیک ہوں گے۔افغان امن کے لئے اگر حکومت کوشش کر رہی ہے تو ان کاوشوں میں مزید بہتری لائی جائے۔سید یوسف رضا گیلانی کا مہنگائی کے حوالے سے کہنا تھا کہ آئے روز منی بجٹ آرہے ہیں عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں حکومت چلانا عمران خان کے بس کی بات نہیں ہے۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج 28جولائی کو ورلڈ ہیپاٹائٹس ڈے منایا جا رہا ہے اگر ہم اس حوالے سے آبادی کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب کے خطہ جنوبی پنجاب کی بات کریں تو یہاں پر خاموش قاتل ہیپاٹائٹس کا مرض تیزی کے ساتھ بڑھ رہا ہے اس کی بنیادی وجہ یہاں کے افراد کو پانی کے صاف پانی کی عدم فراہمی اور صحت کی ناکافی سہولیات ہیں اور آرسینک زدہ پانی پینے کی وجہ سے جنوبی پنجاب کی کثیر آبادی کو یہ مر ض لاحق ہوچکا ہے اورسالانہ ہزاروں افراد اس موذی مرض کا شکار ہوکر ز ندگی کی باز ی ہارنے پر مجبور ہورہے ہیں۔اب حکومت پنجاب کی طرف سے آب پاک اتھارٹی کے قیام سے یہاں کے مکینوں میں بھی ایک امید پیدا ہوچکی ہے کہ انہیں بھی بلا تفریق پینے کا صاف پانی میسر ہوگا اگر آب پاک اتھارٹی کے قیام کا حال بھی مسلم لیگ (ن) کے دور اقتدار میں چلنے والے صاف پانی پراجیکٹ جیسا ہوا تو تین ڈویژنز پر مشتمل خطہ جنوبی پنجاب کے عوام میں زندہ رہنے کی جو آخری امید باقی ہے وہ بھی دم توڑ جائے گی۔ ادھر دربار حضرت موسیٰ پاک شہید سے وابستہ گیلانی خاندان کے بزرگ و ممتاز روحانی پیشوا مخدوم سید تجمل حسین گیلانی اور پاکستان پیپلز پارٹی شعبہ خواتین ملتان شہر کی سابق صدر وسینئر رہنما بیگم بی اے جگر طویل علالت کے بعد وفات پا گئیں، ان کی عمر 80سال تھی وہ بانی چیئرمین زوالفقار علی بھٹو شہید کے ساتھی بی اے جگر مرحوم کی اہلیہ تھیں۔مرحومہ کو یہ بھی اعزاز حاصل تھا کہ انہوں نے پارٹی کے قیام کے بعد ہر پارٹی چیئرمین کے ساتھ کام کیا جن میں ذوالفقار علی بھٹو،بیگم نصرت بھٹو،محترمہ بینظیر بھٹو اور اب بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ کام کررہی تھیں۔ 

٭٭٭

آزاد کشمیر الیکشن: جنوبی پنجاب میں بھی تحریک انصاف کا پلڑا بھاری!

 بھارت افغانستان میں سپائیلرکا کردارادا کررہا ہے:شاہ محمود قریشی،عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں:سید یوسف رضا گیلانی کا بیانیہ! 

  مخدوم سید تجمل حسین گیلانی و بیگم بی اے جگر اللہ کو پیاری ہوگئیں،نماز جنازہ میں سیاسی و سماجی افراد کی شرکت!

مزید :

ایڈیشن 1 -