خفیہ ڈرون حملوں کا راز فاش کرنے والے امریکی انٹیلی جنس افسر کو قیدکی سزا

   خفیہ ڈرون حملوں کا راز فاش کرنے والے امریکی انٹیلی جنس افسر کو قیدکی سزا

  

 واشنگٹن (اظہر زمان، بیورو چیف) ایک امریکی انٹیلی جنس افسرڈینٹل ہیل نے یمن میں القاعدہ کے نہتے کارکنوں پر حملوں کو غلط سمجھ کر جذباتی ہوکر ایک رپورٹر کو ساری حساس معلومات دیدیں تھیں۔ واشنگٹن ڈی سی کے قریبی شہر الیگزینڈریا کے وفاقی جج ملزم کے اعتراف کے بعد منگل کے روز اسے پونے چارسال قید کی سزا سنا دی ہے۔ مسٹر ہیل نے جو بعد میں ریٹائر ہوگئے تھے 2013ء میں ڈی سی میں ایک امن کانفرنس میں شرکت کی جہاں ایک یمنی باشندے نے اپنی داستان سنائی کہ کسی طرح اس کے خاندان کے دو افراد کو اس کے ملک میں ڈرون حملوں کا نشانہ بناکر ہلاکردیا گیا تھا۔ اس نے روتے ہوئے بتایا تھا کہ اس کا خاندان نوجونوں کو القاعدہ کیلئے کام کرنیسے منع کرتا رہا ہے کیونکہ امریکی حملوں کا نشانہ بننے والے نہتے نوجوان القاعدہ سے وابستہ تھے۔ انٹیلی افسر ہیل نے اس کانفرنس میں یہ روداد میں بتایا تھا کہ اس نے ان حملوں کا براہ راست مشاہدہ یا تھا جسے اس وقت انٹیلی جنس کمیونٹی نے بڑی کامیابی قرار دیا تھا  لیکن اسے یہ تمام کارروائیاں بہت ہولناک لگتی ہیں اس موقع پر انٹیلی جنس افسر ہیل نے بعد میں ایک رپورٹر کو تمام حساس معلومات فراہم کردیں۔ جس کا قانون اسے اجازت نہیں دیتا تھا لیکن وہ اتنا جذباتی ہوگیا تھا کہ اسے اس بات کا احساس نہیں رہا۔ ڈینٹل ہیل نے عدالت کا بتایا کہ ”میرے خیال میں اس طرح کسی کو ہلاک کرنا غلط ہے خاص طورپر جب کوئی شخص نہتہ ہو۔ میں نے ان حملوں کا انکشاف اس لئے کیا کیونکہ میں ڈرون حملوں کا یہ جھوٹ بے نقاب کرنا چاہتا تھا کہ یہ حملے امریکی شہریوں کو محفوظ بنانے کیلئے کئے جاتے ہیں اور یہ کہ ہم امریکیوں کی زندگیاں ان نسانہ بننے والے افراد سے زیادہ قیمتی ہیں“۔ وفاقی جج لیام اوگریڈی نے اس جرم پر پونے چار سال قید کی سزا سناتے ہوئے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ ایک سرکاری افسر نے جاسوسی ایکٹ کی خلاف ورزی کی ہے۔ ڈرون حملوں پر اس کا جو ”جرات مندانہ اور اصولی موقف“ تھا حساس معلومات منکشف کرنیکا عمل اپنی ذمہ داریوں سے تجاوز تھا۔ وہ ان حملوں کی تفصیل بتائے بغیر بھی اپنا اعتراض سامنے لاسکتا تھا۔

امریکی سزا

مزید :

صفحہ اول -