مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر ہیومن رائٹس واچ کا اظہار تشویش

مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر ہیومن رائٹس واچ کا اظہار ...

  

 نیویارک (این این آئی)انسانی حقو ق کی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت سینکڑوں کشمیری نظربندوں کی حالت زار کا حوالہ دیتے ہوئے مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی ابتر صورتحال پر تشویش ظاہر کی ہے۔ اس کالے قانون کے تحت کسی بھی شخص کو عدالت میں پیش کئے بغیر دو برس تک جیل میں نظربند رکھا جاسکتا ہے۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ہیومن رائٹس واچ نے اپنی عالمی رپورٹ 2021میں بھارت سمیت سو سے زائد ممالک میں انسانی حقو ق کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں نافذ اس کالے قانون کے تحت بھارتی فورسز کے اہلکاروں کو انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں پر مسلسل استثنیٰ حاصل ہے۔گزشتہ سال جولائی میں بھارتی فورسز نے ضلع شوپیاں میں تین کشمیریوں کوعسکریت پسند قراردیتے ہوئے قتل کیا۔ تاہم ان کے اہلخانہ نے سوشل میڈیا پرجاری ہونے والی تصاویر کے ذریعے انکی شناخت کرتے ہوئے فورسز کے دعویٰ کو مستردکردیا ااور کہاکہ وہ محنت کش تھے۔ستمبر میں بھارتی فوج نے کہاتھا کہ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ فوجی اہلکار کالے قانون آر مڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ کے تحت حاصل اختیارات سے تجاوز کررہے ہیں اور انکے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی۔بھارتی فورسز مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے مسلسل مہلک پیلٹ گنز کا استعمال جاری رکھے ہوئے ہیں جسے سے لوگ شدید زخمی اور بصارت سے محروم ہو رہے ہیں۔ بھارت اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مظاہرین کے خلاف پیلٹ گنز کا استعمال مسلسل استعمال جاری رکھے ہوئے ہے۔مقبوضہ جموں وکشمیر میں ذرائع ابلاغ پر قدغن کے حوالے سے ہیومن رائٹس واچ نے اپنی رپورٹ میں کہاکہ جون میں بھارتی انتظامیہ نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں ایک نئی میڈیا پالیسی متعارف کرائی جس میں قابض حکام کوجعلی خبریں، سرقہ اور غیر اخلاقی یا ملک دشمن سرگرمیوں کا تعین کرنے اورمیڈیا گروپوں، صحافیوں اور ایڈیٹرز کے خلاف کارروائی کا اختیار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ بھارتی حکومت نے نقادوں، صحافیوں، اور انسانی حقوق کے کارکنوں پر بھی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ اگست2019سے مقبوضہ جموں وکشمیرمیں مواصلاتی نیٹ ورکس تک رسائی پرپابندی عائد ہے جس سے وادی کشمیر میں لوگوں کے روزگار خصوصا سیاحت کے شعبہ سے وابستہ افراد بری طرح متاثرہو رہے ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ نے کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کا حوالہ دیتے ہوئے کشمیری تاجروں کی مشکلات کواجاگر کیا۔ کشمیری تاجروں کو اگست2019کے بعد تین ماہ کے لاک ڈاؤن کے دوران تقریبا دو ارب چالیس کروڑ ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا تھا۔مارچ 2020میں بھارتی حکومت کی طرف سے کورونا وبا کی روک تھام کیلئے مزید پابندیاں نفاذ کی وجہ سے تاجروں کا نقصان دوگنا ہو گیا۔وبا کے دوران معلومات کے حصول، رابطے، تعلیم اور تجارت کیلئے انٹرنیٹ کی اہمیت بڑھ گئی اور بھارتی سپریم کورٹ کی طرف سے انٹرنیٹ تک رسائی کو بنیادی حق قراردینے کے باوجود بھارتی حکومت نے مقبوضہ علاقے میں تیز رفتار فور جی انٹرنیٹ کی بجائے سست رفتار ٹو جی موبائل انٹرنیٹ سروس فراہم کی جس کے باعث مقبوضہ علاقے میں ڈاکٹروں، طلباء اور تاجروں کو شدید مشکلات کاسامناکرناپڑا۔

ہیومن رائٹس واچ

مزید :

صفحہ اول -