نورمقدم قتل کیس، ظاہر جعفر کے والدین اور ملازمین کو جیل بھیج دیا گیا، ملزم کا موبائل برآمد

    نورمقدم قتل کیس، ظاہر جعفر کے والدین اور ملازمین کو جیل بھیج دیا گیا، ...

  

  اسلام آباد (این این آئی)اسلام آباد سیشن کورٹ نے نور مقدم قتل کیس کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے والدین اور ملازمین کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوادیا۔منگل کونورمقدم قتل کیس کے ملزم ظاہر جعفر کے والدین اور 2 ملازمین کو جوڈیشل مجسٹریٹ شعیب اختر کی عدالت میں پیش کیا گیا۔چاروں ملزمان کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوادیا گیا، عدالت نے ملزمان کو 10 اگست کو دوبارہ عدالت کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔جج نے مدعی کے وکلاء سے استفسار کیا کہ پولیس نے جوڈیشل ریمانڈ کی استدعا کی، کیا آپ دلائل دیں گے، وکلاء نے جواب دیا کہ نہیں اگر جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج رہے ہیں تو ہم کوئی دلائل نہیں دیں گے۔ملزم کے والد ذاکر جعفر اور والدہ عصمت کے وکیل راجا رضوان عباسی عدالت میں پیش ہوئے اور اپنے موکلان سے ملاقات کرنے کی اجازت کی استدعا کی۔عدالت نے وکیل راجا رضوان عباسی کی استدعا منظور کرتے ہوئے ملزمان کو دوبارہ کمرہ عدالت میں بلالیا گیا۔ دوسری طرف اسلام آباد پولیس نے نور مقدم قتل کیس کے ملزم ظاہر جعفر کا موبائل فون برآمد کر لیا ہے جس کے ڈیٹا سے اہم انکشافات ہوئے ہیں موبائل ڈیٹا سے انکشاف ہوا کہ نور مقدم کے قتل کے روز ملزم ظاہر جعفر نے اپنے والد سے پانچ بار رابطہ کیا۔ ملزم ظاہرجعفر19 اور20جولائی کومتعدد بار اپنے والد سے رابطے میں رہا، ملزم نے 19جولائی کو اپنے والدسے4باربات کی جس کادورانیہ32منٹ بنتاہے جبکہ وقوعہ کے دن 20 جولائی کو ملزم کا اپنے والد سے 5 بار  رابطہ ہواجس کا دورانیہ31 منٹ بنتاہے۔ذرائع نے بتایا کہ ملزم نے اپنے والدکو 46سیکنڈ دورانیے کی آخری کال وقوعہ والی شام7 بج کر29 منٹ پر کی  جس پر تحقیقاتی اداروں کوشبہ ہے کہ ملزم نیاپنے والدکو آخری کال قتل کرنے کے بعد کی۔دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس نے ملزم کی نشاندہی پر 3 لاکھ روپے برآمد کرلیے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ ملزم ظاہر جعفر نے نورمقدم کویرغمال بناکر 7لاکھ روپے گھر سے منگوانے کا کہا تھا جو نورمقدم نے قتل سے ایک دن قبل ڈرائیور سے 3  لاکھ روپے ظاہر جعفر کے گھر منگوائے تھے۔ملزم ظاہر جعفر جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہے، پولیس تاحال ملزم کا دفعہ 164 کا بیان ریکارڈ نہیں کرا سکی ہے۔قانون کے مطابق 164 کا اقرارِ جرم کا بیان مجسٹریٹ کے سامنے دینا ضروری ہے۔اس حوالے سے ماہرینِ قانون نے بتایاکہ ملزم کے پولیس حراست میں اقرارِ جرم کی کوئی قانونی حیثیت نہیں  ملزم ظاہر جعفرانٹرنیشنل کالج کنسلٹنٹ نامی فرم کا مالک تھا اور ملزم طلبہ کو بیرون ملک اسٹڈیز کیلئے معاونت فراہم کرتا تھا جب کہ ملزم ظاہر جعفر کو یہ کمپنی اس کے والد ذاکر جعفر نے بنا کر دی تھی اور اس کی کمپنی کا انٹرنیشنل بزنس اسکول آف ہنگری کے ساتھ معاہدہ تھا۔ذرائع نے بتایا کہ ملزم ظاہر جعفر طلبہ کو ہنگری تعلیم کے لیے بھجواتا تھا، ملزم 2017 سے اس کمپنی کو چلا رہا تھا اور وہ دیگر ممالک میں بھی طلبہ کو معاونت فراہم کرتا رہا ہے۔

نور مقدم کیس

مزید :

صفحہ اول -