سندھ ہائی کورٹ نے خورشید شاہ  کی درخواست ضمانت مسترد کردی 

سندھ ہائی کورٹ نے خورشید شاہ  کی درخواست ضمانت مسترد کردی 

  

کراچی (سٹاف رپورٹر)سندھ ہائیکورٹ نے پیپلزپارٹی کے رہنما خورشید شاہ کی ضمانت ایک بار پھر مستردکرتے ہوئے تحریری فیصلہ جاری کردیا ہے۔ جسٹس محمد اقبال کلہوڑو اور جسٹس فہیم احمد صدیقی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے خورشید کی ضمانت سے متعلق محفوظ فیصلہ سنادیا۔ عدالت نے جیالے رہنما خورشید کی ضمانت بار مرتبہ پھر مسترد کردی۔ عدالت نے تحریری فیصلہ جاری کردیا۔ عدالت نے فیصلے میں ضمانت سے متعلق اہم ابزوریشن دیتے ہوئے کہا کہ حیران کن ہے، خورشید شاہ ایک دن بھی جیل کے اندر نہیں رہے۔خورشید شاہ کے سب جیل میں رہنا ہمارے نظام پر سوالیہ نشان ہے۔ 9 نومبر 2019 کو خورشید شاہ کا عدالتی ریمانڈ ہوا۔ اسی روز سندھ حکومت نے این آئی وی ڈی سکھر کو سب جیل قرار دے دیا۔ تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ خورشید شاہ سب جیل میں نارمل زندگی گزار رہے ہیں۔ خورشید شاہ کے وکیل نے کسی بیماری سے زندگی کو خطرے سے متعلق دلائل نہیں دیئے۔ مطلب، خورشید شاہ سب جیل میں تمام سہولیات لے رہے ہیں۔ سیاسی اثر رسوخ استعمال کرتے ہوئے تمام سہولیات لی جا رہی ہیں۔ تحریری فیصلے میں عدالت نے ٹرائل کورٹ کو 6 ماہ میں کیس مکمل کرنے کا حکم دیدیا۔ تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ملزمان کو شفاف ٹرائل کا پورا موقع دیا جائے۔ آئندہ سماعت ملتوی کرنے کی استدعا منظور نہ کی جائے۔ ٹرائل کورٹ دلائل سن کر میرٹ پر فیصلہ کرے۔ سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس شمس الدین عباسی اور جسٹس امجد علی سہتو نے خورشید شاہ کی ضمانت پر فیصلہ 12 جولائی کو محفوظ کیا تھا۔خورشید شاہ ایک سال گیارہ ماہ سے جیل میں ہیں۔ خورشیدہ شاہ کو 18 ستمبر 2019 کو گرفتار کیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ کے حکم پر خصوصی بینچ نے ازسر نو سماعت کی۔ نیب کے مطابق رہنما پیپلزپارٹی خورشید شاہ پر آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا الزام ہے۔ خورشید شاہ کیخلاف ریفرنس احتساب عدالت سکھر میں زیر سماعت ہے۔

مزید :

صفحہ اول -