افغانستان کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں نئے تجارتی راستے نہیں کھول سکتے: وازرت داخلہ

  افغانستان کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں نئے تجارتی راستے نہیں کھول سکتے: ...

  

 اسلام آباد (آئی این پی) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے سرحدی امور کو بریفنگ دیتے ہوئے وزارت داخلہ کے حکام نے بتایا  ہے کہ افغانستان کی موجودہ  صورتحال کے تناظر  میں نئے تجارتی  راستے نہیں کھول سکتے،  پہلے سے کھلے راستے بھی  افغانستان  کی صورت حال  کی وجہ سے  بند کر دئیے گئے  ہیں۔ کمیٹی نے سفارش کی تھی کہ قبائلی علاقوں  کے عوام کے درمیان تجارت کو فروغ دینے  کے لئے نوا پاس اور گورسل پوائنٹ کھولے جائیں۔ منگل کے روز قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے سیفران کا اجلاس چیئرمین کمیٹی ساجد خان کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں متعلقہ وزارتوں کے حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں ہائیر ایجوکیشن کے حکام نے بتایا کہ سابقہ فاٹا کے تیرہ طلبہ کو وظائف  دئیے جا رہے ہیں  کسی طالب علم کا وظیفہ نہیں روکا گیا۔ رکن قومی اسمبلی گل داد خان  کی جانب سے سابقہ قبائلی علاقوں کے لوگوں کی افغانستان  کے ساتھ تجارت کو فروغ دینے اور نوا پاس اور گورسل پوائنٹ کھول دینے کے توجہ دلاو نوٹس کے جواب میں وزارت داخلہ کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ افغانستان کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر  نئے تجارتی راستے نہیں کھولے جا سکتے  اس صورت حال میں پہلے سے کھولے گئے راستے بھی بند کر دئیے گئے  ہیں، اراکین کمیٹی کا کہنا تھا کہ حالات بہتر ہوتے ہی ان پوائنٹس کو کھولے جائیں  تاکہ علاقے میں تجارت کو فروغ حاصل ہو اور روزگار کے مواقع فراہم ہوں۔ 

وزارت داخلہ 

مزید :

صفحہ اول -