باخبر صحافی عارف نظامی اعتدال اور استدلال سے بات کرنے پر قادر تھے: تعزیتی ریفرنس 

باخبر صحافی عارف نظامی اعتدال اور استدلال سے بات کرنے پر قادر تھے: تعزیتی ...

  

لاہور(نمائندہ خصوصی) حمید نظامی کے فرزند عارف نظامی پاکستانی صحافت کا فخر وافتخار تھے۔ انہوں نے شعبہ صحافت میں جہد مسلسل سے منفرد مقام بنایا اور اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔عارف نظامی اعتدال اور استدلال سے بات کرنے پرقادر اور ایک باخبر صحافی تھے۔ وہ ایک ہی وقت میں مالک، ایڈیٹر اور رپورٹر کے طور پر کام کرتے تھے۔ عارف نظامی ایک نظریاتی انسان تھے جنہوں نے کبھی اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ ان خیالات کااظہار مقررین نے ایوان کارکنان تحریک پاکستان، لاہور میں ممتاز صحافی‘ دانشور اور تجزیہ نگار احمد عارف نظامی مرحوم کی وفات پر اظہار تعزیت اور مرحوم کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے منعقدہ تعزیتی ریفرنس کے دوران کیا۔ ریفرنس کا اہتمام نظریہ پاکستان ٹرسٹ نے تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے اشتراک سے کیا تھاجس کی صدارت روز نامہ پاکستان کے چیف ایڈیٹر مجیب الرحمن شامی نے کی جبکہ اس موقع پر مرحوم کے صاحبزادے اور ایڈیٹر روزنامہ پاکستان ٹوڈے یوسف نظامی، گروپ ایڈیٹر روزنامہ 92نیوز ارشاد احمد عارف، چیف ایڈیٹر روزنامہ جرات جمیل اطہر، ایگزیکٹو ایڈیٹر روزنامہ دنیا سلمان غنی،گروپ ایڈیٹر روزنامہ نئی بات عطاء الرحمن، انچارج روزنامہ جنگ اکنامک فورم سکندر حمید لودھی، کالم نگار ودانشور سجاد میر، ممتاز سیاسی و سماجی رہنما بیگم مہناز رفیع، سابق صوبائی وزیر تعلیم میاں عمران مسعود، ممتاز سیاسی رہنما منیر احمد خان، بیگم صفیہ اسحاق، لیاقت علی قریشی سمیت شعبہ صحافت سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد موجود تھی۔ پروگرام کے آغاز پر الحاج اختر حسین قریشی نے تلاوت کلام پاک اور نعت رسول مقبول ؐ سنانے کی سعادت حاصل کی۔ نظامت کے فرائض سیکرٹری نظریہ پاکستان ٹرسٹ شاہد رشید نے انجام دیے۔روز نامہ پاکستان کے چیف ایڈیٹرمجیب الرحمن شامی نے کہا کہ میں خود کئی سال نوائے وقت میں کالم لکھتا رہا مجید نظامی سے میرا گہرا قریبی تعلق رہاایڈیٹر دوست رفیق کے طور پر تعلق رہایہاں پر جمیل اطہر بیٹھے ہیں یہ بھی ایک تاریخ ہیں اور ہمیں ان پر بھی فخر ہے یہاں پر ارشاد عارف بھی موجود ہیں میں عارف نظامی اور ان کو عارف برادرز یا پھر عارفین بھی کہتا تھا اسی طرح سے جب ارشاد عارف نوائے وقت سے الگ ہوئے اور جنگ میں لکھنا شروع کیا تو عارف نظامی نے بھی جنگ میں لکھنا شروع کیاپھر جب ارشاد عارف 92نیوز چلے گئے تو عارف نظامی بھی ادھر چلے گئے پھر عارف نظامی کی موت کا سانحہ ہوالیکن 92نیوز نے ان کو بھرپور خراج عقیدت پیش کیا جس پر میں ان کا شکر گزار ہوں اس ادارے کی انتظامیہ نے ایک اچھی روائت قائم کی ہے وگرنہ تو لوگ چند سطریں خبر کی لگا کر بھول جاتے ہیں ان کے حوالے سے بہت سی باتیں کہی جا سکتی ہیں ان کی موت کا ہمیں دکھ ہے صدمہ ہے مجید نظامی اور عارف نظامی کے در میا ن علیحدگی ہوئی تو ہم عارف نظامی کے ساتھ کھڑے ہوئے کوشش کی کہ ایسا نہ ہو عارف نظامی بڑے باپ کے بڑے بیٹے تھے، صحافت انہوں نے وراثت میں پائی تھی، لیکن اس میں نام اور مقام اپنی محنت اورکوشش سے بنایا۔ میرا عارف نظامی سے دوستی کا تعلق کئی برسوں پر محیط ہے۔عارف نظامی ہماری صحافت کا افتخار تھے اور ہم ان پر فخر کیا کرتے تھے کہ انہوں نے ہمیں حمید نظامی سے جوڑ رکھا ہے۔ وہ آزادی صحافت کے ساتھ ساتھ ذمہ دارانہ صحافت کے علمبردار تھے۔ عارف نظامی بڑی اچھی اقداروروایات چھوڑ کر گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اختلاف رائے ہر جگہ ہوتا ہے لیکن جس خوبی اور استدلال سے عارف نظامی اختلافات کااظہار کرتے تھے ایسے لوگ اب بہت کم ہوتے جا رہے ہیں۔عارف نظامی نے دو انگریزی اخبارات نکالے اور انہیں کامیابی سے چلایا، بعدازاں انہوں نے اردو کالم نگاری میں بھی منفرد مقام بنایا۔اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور لواحقین کو ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔یہ بات تو طے ہے کہ جو دنیا میں آیا ہے اس نے رخصت ہونا ہے ہم سب نے بھی جانا ہے اس سے پہلے ہمارے بھائی ضیاء شاہد بھی اللہ کے پاس چلے گئے ہیں عارف نظامی ایک بہترین سوال کرنے والی شخصیت تھے بعض اوقات تو وہ ایوان اقتدار والوں سے ایسا سوال کر جاتے تھے کہ مجھے رشک آتا تھا کہ یہ سوال میں نے کیا ہوتا یہاں پر کسی نے حوالہ دیا کہ وہ حکمرانوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کیا کرتے تھے یہ بات سچ ہے مگر آج کے حکمرانوں کی تو آنکھیں ہی نہیں ہیں جیسے حکمران ہیں ویسی ہی صحافت ہو گئی ہے اللہ مرحوم عارف نظامی کے درجات کو بلند فرمائے۔ سنیئر صحافی جمیل اطہر نے کہا کہ عارف نظامی آزادی صحافت کے علمبردار تھے۔ اخباری مالکان کی تنظیموں اے پی این ایس اور سی پی این ای میں انہوں نے فعال کردار ادا کیا۔مرحوم کے صاحبزادے یوسف نظامی نے کہا کہ شعبہ صحافت میں ہونے کے باعث وہ چوبیس گھنٹے کام میں مگن رہنے کے باوجود وہ اپنی فیملی کو بھی پورا وقت دیتے تھے۔ وہ بے حد پیار کرنیوالے باپ تھے۔ انہوں نے کبھی ہم پر اپنی مرضی مسلط کرنے کی کوشش نہیں کی۔ ہم پوری کوشش کریں گے کہ انہوں نے جو میراث چھوڑی ہے اس کو جاری رکھیں۔سینئرصحافی سلمان غنی نے کہا کہ عارف نظامی ایک نفیس، شفیق اور ذہین انسان تھے۔ جو کوئی بھی ان سے ایک بار ملتا وہ ان کا گرویدہ ہو جاتا تھا۔ بیگم مہناز رفیع نے کہا کہ عارف نظامی ایک نڈر انسان تھے۔سابق صوبائی وزیر میاں عمران مسعود نے کہا کہ عارف نظامی ایک خوش لباس انسان تھے۔آخر میں شاہد رشید نے عارف نظامی کی مغفرت اور بلندی درجات کیلئے دعا کروائی۔جبکہ اس تعزیتی تقریب کے آغاز میں بھی نظریہ پاکستان کی روائت کے مطابق قومی ترانہ بھی لگایا گیا۔

تعزیتی ریفرنس

مزید :

صفحہ آخر -