لاہور ہائیکورٹ: کوآرڈنیشن کمیٹیوں کو مؤثر، علاقہ مجسٹریٹس کے سپروائزی کردار کو متحرک کرنے کی ہدایات 

لاہور ہائیکورٹ: کوآرڈنیشن کمیٹیوں کو مؤثر، علاقہ مجسٹریٹس کے سپروائزی ...

  

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)کریمینل جسٹس کوآرڈنیشن کمیٹیوں کو مؤثراور علاقہ مجسٹریٹس کے سپروائزی کردار کو دوبارہ متحرک کرنے کیلئے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے ہدایات جاری کردی گئیں صوبہ پنجاب رواں سال کی دوسری سماہی کے دوران درج ہونے والی ایف آئی آرز کے چالان عدالتوں میں داخل ہونے کے حوالے سے رپورٹ کا جائز ہ لینے کے بعد چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس محمد امیر بھٹی نے قراردیا کہ فوجداری مقدمات میں چالان جمع کروانے سے متعلق ضابطہ فوجداری کی دفعہ173 میں متعین وقت اور ہدایات پر عملدرآمد نہیں کیا جارہا ہے اور ہزاروں کی تعداد میں مقدمات کے مکمل، نامکمل اور عبوری چالان مہینوں اور سالوں گزرنے کے باوجود بھی التوا کا شکار ہیں چیف جسٹس کا مزید کہنا ہے کہ قانون پر عدم عمل درآمد کریمینل جسٹس کوآرڈنیشن کمیٹیوں کے ماہانہ اجلاس کے موثر ہونے پر بڑا سوال پیدا ہو گیا یہ فوجداری مقدمات کے چالان میں التواء سے تاثر سامنے آتا ہے کہ علاقہ مجسٹریٹس اپنا سپروائزری کردار مناسب انداز میں ادا نہیں کررہے ہیں جس کی وجہ سے عدالتو ں میں فوجداری ٹرائلز تعطل کا شکار ہیں اس ضمن میں چیف جسٹس کی ہدایت پر ڈائریکٹر جنرل ڈائریکٹوریٹ آف ڈسٹرکٹ جوڈیشری مسعود ارشد کی جانب سے صوبہ بھر کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کو مراسلہ جاری کردیا گیا مراسلہ میں کہا گیا ہے کہ فوجداری مقدمات میں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 173 کے تحت رپورٹس (چالان) کو مقررہ مدت میں لازمی جمع کروانے میں کریمینل جسٹس رابطہ کمیٹی کا اہم کردار ہے غیر ضروری التواء کے ذمہ داران کو مناسب ہدایات جاری کرنا بھی رابطہ کمیٹیوں کی ذمہ داریوں میں شامل ہے،مراسلہ میں کہا گیاہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 173 کے تحت رپورٹس(چالان) میں تاخیر دراصل شفاف ٹرائل اور شہادتوں کیلئے خطرہ ثابت ہو سکتا ہے جو کہ فوری و معیاری انصاف کی فراہمی میں بڑی رکاؤٹ کا باعث بھی ہے فوجداری مقدمات میں چالان اور تفتیش میں تاخیر کو ختم کیا جائے اور یقینی بنایا جائے کہ تمام فوجداری مقدمات میں چالان مقررہ مدت کے اندر جمع کروائے جائیں متعلقہ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کو بھی اس معاملے کی حساسیت کا احساس دلایا جائے اور جو ایس ایچ او مقررہ مدت میں چالان جمع نہ کروائے اس کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔ ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکوٹر اس امر کو یقینی بنائے کہ کسی بھی ڈپٹی ڈسڑکٹ اور اسسٹنٹ ڈسرکٹ پبلک پراسیکوٹر کے پاس کوئی چالان رپورٹ غیر ضروری التوا ء کا شکار نہ ہو۔عبوری و بعد از گر فتاری درخواست ضمانت کے فیصلہ میں غیر ضروری التوا ء نہ ہوگا  عدم تکمیل تفتیش مقدمہ در خواست ضمانت کے فیصلہ میں رکاوٹ نہ تصور ہوگی بلکہ درخواست ضمانت کا میرٹ پر فیصلہ کیا جائیگا مزید برآں چیف جسٹس محمد امیر بھٹی کی جانب سے جوڈیشل مجسٹریٹس اور ٹرائل کورٹس کو ہدایات جاری کی گئیں کہ علاقہ مجسٹریٹ مقدمہ کے اندراج، ملزم کو جیل بھیجنے اور چالان جمع کروانے کی مقررہ تاریخ کا مکمل رجسٹر بنائے علاقہ مجسٹریٹ کو بطور سپروائزری اختیار ہے کہ وہ کسی بھی فوجداری کیس کا جائزہ لے اور اس میں دفعہ 173 کے رپورٹس کو جمع نہ کروانے پر ضابطہ فوجداری کی خلاف ورزی کی نشاندہی کرے مرا سلہ میں شناخت پریڈ میں تاخیر بھی مکمل چالان کے ادخال میں رکاوٹ قرار دیا گیا  مجسٹریٹس اس حوالے سے سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے جاری ہدایات پر عملدرآمد یقینی بنائیں اور مقررہ مدت میں شناخت پریڈ مکمل کی جائے ججز صاحبان اس امر کو یقینی بنائے کہ کوئی مثل چالان کسی عدالتی اہلکار کے غیر ضروری قبضہ میں نہ رہے بلکہ فوری طور پر عدالتی پیشی کا حصہ بنایا جائے چیف جسٹس محمد امیر بھٹی کی جانب سے فوجداری مقدمات کے ٹرائلز کو جلد مکمل کرنے کے لئے تمام ہدایات پر مکمل اور من و عن عملدرآمد کی بھی ہدایت کی گئی۔

لاہور ہائیکورٹ 

مزید :

صفحہ آخر -