اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور ترقی، خوشحالی کے نئے سفر پر رواں دواں 

اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور ترقی، خوشحالی کے نئے سفر پر رواں دواں 

  

بہاولپور(ڈسٹرکٹ رپورٹر، بیورو رپورٹ) گزشتہ روز پروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب وائس چانسلر کو اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کی ذمہ داریاں سنبھالے ہوئے 2برس مکمل ہوگئے۔ ان دو برسوں میں یونیورسٹی نے ہر شعبے میں فقید المثال ترقی کی جس کی مثال ماضی میں ملنا (بقیہ نمبر7صفحہ6پر)

مشکل ہے۔ 2برس قبل جب انہوں نے چارج سنبھالا تو یونیورسٹی کے حالات زبوں حالی کا شکار تھے۔ طلبہ و طالبا ت کی تعداد صرف 13ہزار رہ گئی تھی اور یونیورسٹی کو مالی لحاظ سے چلانا ایک بہت بڑا چیلنج بن گیا تھا۔ پروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب کی خداداد انتظامی حلاحیتوں اور قوت فیصلہ کی بدولت یونیورسٹی نے 2برسوں میں ہی تمام تر مشکلات پر قابو پا کر ایک عالمی یونیورسٹی کے طور پر ترقی اور خوشحالی کے نئے سفر کا آغاز کر دیا ہے۔یونیورسٹی کو عالمی تقاضوں کے مطابق جدید اور فعال بنانے کے لیے 14فیکلیٹز میں تقسیم کر دیا گیا اور شعبہ جات کی تعداد 48سے بڑھ کر 129ہو گئی ہے۔ جنوبی پنجاب اور ملک بھر کے ہزاروں فرسٹ کلاس قابلیت کے حامل طلبہ و طالبات کے لیے انڈرگریجویٹ، ماسٹر، ایم فل اور پی ایچ ڈی لیول کے داخلوں میں غیر معمولی اضافہ کرتے ہوئے طلباہ وطالبات کی تعداد 42ہزار تک بڑھا دی گئی ہے۔ ایک منظم اور شفاف داخلہ پالیسی کے باعث اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور مقامی اور غیر مقامی نوجوانوں کے لیے ایک بہترین تعلیمی منزل بن گئی ہے۔ فیکلٹی کی تعداد میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوااور پروفیسرز کی تعداد 18 سے بڑھ کر43 ہو گئی۔ اسی طرح ایک ہزار سے زائد پارٹ ٹائم فیکلٹی کی بجائے ایسوسی ایٹ لیکچرار کی تعیناتی عمل میں لائی گی۔ مجموعی طور پر فیکلٹی کی تعداد 550سے بڑھ کر 1000سے تجاوز کر گئی۔ ایڈمنسٹریشن کے شعبہ میں بھی یونیورسٹی کے بڑھتے ہوئے حجم کے مطابق نئی آسامیاں پیدا کی گئی جن پر سلیکشن بورڈ کے تحت تعیناتی ہوئی۔ دس سال کے طویل عرصے کے بعد رجسٹرار اور کنٹرولر امتحانات کی باقاعدہ تقرری ہوئی۔ پروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب کے ذمہ داریاں سنبھالنے کے وقت یونیورسٹی کا بجٹ 3.8ارب روپے تھا جو آج بڑھ کر 7.2ارب روپے ہو گیا ہے۔ اسی طرح ترقیاتی بجٹ پونے ایک ارب روپے سے بڑھ کر 3.5ارب روپے ہو چکا ہے۔ یونیورسٹی کے مجموعی بجٹ کی مالیت 10ارب روپے سے تجاوز کر چکی ہے جو ایک ریکارڈ ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کی مد میں یونیورسٹی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ حکومت نے 4ارب روپے سے زائد کا میگا ڈویلپمنٹ پروجیکٹ منظور کیا جس میں احمد پور شرقیہ کے کیمپس کا قیام بھی شامل ہے اس کے علاوہ یونیورسٹی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت بھی 3ارب روپے مالیت سے زائد کے بڑے تدریسی بلاک تعمیر کر رہی ہے۔ فیکلٹی آف مینجمنٹ سائنسز اور نرسنگ کالج کے لیے نئے تدریسی بلاک فعال کیے گئے۔ 1000طلباء و طالبات کے لیے نئے 4 ہاسٹل فعال ہوئے۔ 22سے زائد نئی بسیں یونیورسٹی فلیٹ میں شامل ہوئیں جس سے 60کلومیٹر کے فاصلے پر واقع قصبات کے طلباء وطالبات کے لیے خصوصی بس سروس کا آغاز کیا۔ اس سہولت سے خصوصا ًطالبات کے ہاسٹل اخراجات بچ گئے اور آرام دہ و محفوظ سفر کے بعد شام کو اپنے گھر پہنچ جاتی ہیں۔ تحقیق کے شعبہ میں یونیورسٹی نے غیر معمولی کارکردگی دکھائی اس مقصد کے لیے یونیورسٹی نے اپنے ذرائع سے 100ملین روپے مختص کیے۔ کپاس کے بیجوں کی مارکیٹنگ سے ہرسال 100ملین روپے کی آمدنی حاصل ہو گئی۔ اس کے علاوہ کٹ فلاور، ویجیٹیبل اور فروٹ سنٹرکی بدولت تمام قسم کے پھول، سبزیاں اور پھل ملکی اور غیر ملکی مارکیٹ کے لیے دستیاب ہوں گے۔ یونیورسٹی نے نئی ٹیسٹنگ سروس کا آغاز کیا جو کروڑوں روپے کی آمدنی کا باعث بنے گی۔ یونیورسٹی پہلی مرتبہ عالمی افق پر چمکتی دکھائی دی اور ٹائم ہائر ایجوکیشن کی رینکنگ کے مطابق ایشیاء کی 500پہلی  جامعات میں شامل ہو گئی۔ ادبی و علمی سرگرمیوں کا آغاز ہوا۔ طلبہ کے لیے 19سے زائد سوسائٹیز قائم کی گئی۔ جنوبی پنجاب کی تاریخ کے پہلے ادبی اور ثقافتی میلے کا آغاز ہوا اور خواجہ غلام فرید کانفرنس منعقد کی گئی۔ اسی طرح مقامی شاعروں اور ادیبوں کی قلمی کاشوں کو عملی شکل دینے کے لیے یونیورسٹی نے ان کی کتابوں کو شائع کیا اور رونمائی کا اہتما م کیا۔خواجہ غلام فرید اور سر صادق محمد خان چیئر مینجمنٹ کمیٹیاں تشکیل دی گئی۔ کووڈ 19کے دوران اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور ایک فعال جامعہ کے طور پر سامنے آئی جہاں تعلیمی سرگرمیاں فزیکل اور آن لائن بلاتعطل جاری رہیں اور کمیونٹی سروس میں بھی بہت کام کیا گیا۔ سیاحت کے شعبہ کے فروغ کے لیے ڈائریکٹوریٹ قائم کیا گیا اور چولستان جیب ریلی اور بہاولپور تجارتی میلے کا آغاز ہوا۔ یونیورسٹی نے 300سے زائد صحافیوں کی ٹریننگ کا بندوبست کیا جن کا تعلق بہاولپور، لودھراں اور رحیم یارخان سے ہے۔ چین اور مصر کی جامعات سے تعلقات کو فروغ دیکر سی پیک منصوبے میں سیچوان اور جامعہ اسلامیہ کا انٹرکراپنک مکئی اور سویابین منصوبہ شامل ہوا۔ یونیورسٹی کے 20طلبا ء وطالبات ہر سال چین جاکر پی ایچ ڈی کریں گے۔ پنجاب حکومت کا 2.5میگاواٹ کا شمسی توانائی کا منصوبہ پائیہ تکمیل کو پہنچاا وراب چپ ڈیزائن مرکز قائم کیا جا رہا ہے۔ وفاقی حکومت جامعہ میں کامیاب جوان مرکز قائم کرر ہی ہے۔ اسی طرح آئی ٹی کا بڑا مرکز اور ای روزگار مرکز کا قیام ممکن ہوا۔ صحت کے شعبہ پر خصوصی توجہ دی گئی اور 22ہزار سے زائد طلباء وطالبات کی ہیپاٹائٹس ویکسینیشن کی گئی۔ یونیورسٹی میں ہیپاٹائٹس اور کووڈ 19ویکسینیشن سنٹر قائم ہوئے۔ کھیلوں کی سہولیات میں اضافے کی بدولت ان ڈور کھیلوں کی سہولیات جم اور نئے کرکٹ سٹیڈیم کی تعمیر شامل ہے۔

اطہر محبوب

مزید :

ملتان صفحہ آخر -