سپریم کورٹ: ٹیچر کی تنخواہ روکنے پر محکمہ ایجوکیشن بلوچستان کے افسرپر 25ہزار جرمانہ 

  سپریم کورٹ: ٹیچر کی تنخواہ روکنے پر محکمہ ایجوکیشن بلوچستان کے افسرپر ...

  

ملتان (مانیٹرنگ ڈیسک)سپریم کورٹ نے خاتون ٹیچر قر العین کی تنخواہ روکنے پر محکمہ ایجوکیشن بلوچستان کے افسر کو 25 ہزار روپے جرمانہ کر دیا چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے (بقیہ نمبر47صفحہ7پر)

خاتون ٹیچر کی تنخواہ روکنے کیلئے محکمہ ایجوکیشن بلوچستان کی اپیل پر سماعت ہوئی  سپریم کورٹ نے خاتون ٹیچر قر العین کی تنخواہ روکنے والے افسر کو 25 ہزار روپے جرمانہ کر دیا عدالت نے 7 سال تک خاتون ٹیچر قر العین کی تنخواہ روکنے پر برہمی کا اظہار کیا جسٹس اعجاز الاحسن نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان سے کہا کہ اتنا عرصہ ایک خاتون ٹیچر کی تنخواہ کیسے روک سکتے ہیں 2014 میں بغیر معطل کئے قر العین کی تنخواہ کیسے بند کر دی گئی، قانون پر عملدرآمد کرانے کیلئے کس نے بلوچستان حکومت کے ہاتھ باندھ رکھے ہیں ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان نے بتایا کہ 2014 ء میں انکوائری کی گئی تو پتہ  چلا کہ قر العین کی بطور ٹیچر بھرتی بوگس ہے چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ جب پتا چل گیا کہ بھرتی بوگس ہے تو 7سال تک ٹیچر کو نکالا کیوں نہیں گیا عہدے سے ہٹائے بغیر سات سال تک کسی کی تنخواہ نہیں روک سکتے سپریم کورٹ نے بلوچستان حکومت کو خاتون ٹیچر کی تنخواہ کا معاملہ جلد حل کرنے کا حکم دیتے ہوئے بلوچستان ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف بلوچستان حکومت کی اپیل نمٹا دی۔

سپریم کورٹ

مزید :

ملتان صفحہ آخر -