سابق مس امریکہ کا شرمناک راز بے نقاب ہوگیا، عائلی زندگی بھی تباہ ہونے کا خطرہ

سابق مس امریکہ کا شرمناک راز بے نقاب ہوگیا، عائلی زندگی بھی تباہ ہونے کا خطرہ
سابق مس امریکہ کا شرمناک راز بے نقاب ہوگیا، عائلی زندگی بھی تباہ ہونے کا خطرہ

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) 32سالہ سابق مس امریکہ ریجینا ٹرنر کا ایک ایسا شرمناک راز منظرعام پر آ گیا کہ شوہر طلاق لینے کے لیے عدالت پہنچ گیا۔ ڈیلی سٹار کے مطابق ریجینا ٹرنر اور 41سالہ ڈاکٹر ہین جو کم نے 2015ءمیں شادی کی تھی۔ ریجینا ٹرنر نے 2011ءمیں ’مس کنیکٹیکٹ یو ایس اے‘ کا تاج اپنے سر پر سجایا تھا۔ شادی کے 6سال بعد ڈاکٹر ہین پر منکشف ہوا کہ اس کی بیوی مس امریکہ بننے کے بعد سے اب تک جسم فروشی کا دھندہ کرتی آ رہی تھی۔ 

ڈاکٹر ہین نے ریجینا کے کمپیوٹر پر اس کے گاہکوں کے پیغامات پڑھ لیے تھے۔ اس انکشاف پر ڈاکٹر ہین نے طلاق کے لیے عدالت سے رجوع کر لیا۔ ڈاکٹر ہین نے عدالت میں دی گئی درخواست میں کہا ہے کہ اس کی بیوی امیر طبقے کے مردوں کے لیے بطور کال گرل کام کر رہی تھی۔ ڈاکٹر ہین کو اس نے بتا رکھا تھا کہ اس نے ایک ایپلی کیشن بنا رکھی ہے اور یہ آمدنی اس ایپلی کیشن سے آ رہی ہے۔ حالانکہ دراصل یہ اس کے جسم فروشی کے دھندے سے آنے والی رقم ہوتی تھی۔ 

ڈاکٹر ہین نے بتایا کہ 2015ءکے بعد سے اب تک ریجینا نے جسم فروشی کرکے 7لاکھ ڈالر کی رقم کمائی۔ تاہم وہ شادی سے پہلے بھی یہی دھندہ کر رہی تھی۔ریجینا کے بینک اکاﺅنٹ میں آنے والی رقوم سے پتا چلتا ہے کہ اس کے گاہکوں میں نیو جرسی رئیل سٹیٹ ایگزیکٹو اور دیگر ایسے امیر لوگ شامل تھے۔ میں نے اس سے ایک بار پوچھا تھا کہ وہ شادی سے پہلے اپنے لگژری لائف سٹائل کا خرچ کیسے اٹھاتی تھی تو اس نے مجھے کہا تھا کہ میری دادی نے ترکے میں میرے لیے 6لاکھ ڈالر چھوڑے تھے۔ میں انہیں خرچ کرتی رہی تھی۔ اس کے علاوہ اس نے تعلیم کے متعلق بھی مجھ سے جھوٹ بولا۔ اس نے مجھے بتا رکھا تھا کہ اس نے یونیورسٹی آف کنیکٹیکٹ سے کیمسٹری میں ڈگری لے رکھی ہے، مگر حقیقت میں وہ ہائی سکول سے گریجوایٹ بھی نہ تھی۔“

مزید :

ڈیلی بائیٹس -