ریلوے میں من پسند افراد کو نوازنے کیلئے تمام قواعد و ضوابط کی دھجیاں اڑا دی گئیں، نیا سکینڈل سامنے آگیا

ریلوے میں من پسند افراد کو نوازنے کیلئے تمام قواعد و ضوابط کی دھجیاں اڑا دی ...
ریلوے میں من پسند افراد کو نوازنے کیلئے تمام قواعد و ضوابط کی دھجیاں اڑا دی گئیں، نیا سکینڈل سامنے آگیا
سورس: Facebook

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم کے غیرملکی کمپنیوں کے پاکستان میں سرمایہ کاری کے وڑن کی تکمیل میں وزیرریلوے اور دیگر ریلوے حکام آڑے آگئے ، گزشتہ سال ٹینڈر جیتنے والی قطری کمپنی ’ الزاہد‘ کے کام میں نہ صرف روڑے اٹکائے گئے بلکہ وفاقی وزیر کے مبینہ فرنٹ مین کولاہور ڈرائی پورٹ کا ٹھیکہ دینے کی بھی ناکام کوشش کی گئی۔ اس حوالے سے معروف اینکر پرسن کامران شاہد نے اپنے پروگرام میں انکشاف کیا کہ گزشتہ سال حکومت نے ازاخیل ڈرائی پورٹ کے ٹھیکے کے لیے بڈنگ پراسیس کے ذریعے ایک کمپنی کو تین سال کا کنٹریکٹ دیا لیکن پھر اچانک حکومت نے نیا ٹینڈر جاری کردیا جو قوانین کی خلاف ورزی ہے کیونکہ تین سال تک نیا ٹینڈر جاری نہیں کیا جاسکتا ۔کامران شاہد نے بتا یا کہ مذکورہ کمپنی سے ایک کروڑ سے زائد کی رقم بھی وصول کی گئی دوسری طرف مبینہ طور پر لاہور کی ایک من پسند شخصیت کو ڈرائی پورٹ کا ٹھیکہ دیا گیا جس پر میڈ یا میں شور مچنے کے بعد مجبوراً ٹھیکہ واپس لینا پڑا ۔اینکر پرسن نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی تحقیقات ہونی چاہیے اور وزیر ریلوے اعظم سواتی کو بھی جواب دہ ہونا چاہیے ۔ 

۔۔۔۔ویڈیو دیکھیں ۔۔۔۔

تفصیل کے مطابق نو ماہ سے کراچی سے ازاخیل ڈرائی پورٹ تک سروس شروع نہ ہونے کی وجہ سے محکمہ ریلوے کو بھاری خسارہ برداشت کرنا پڑا، صرف یہی نہیں بلکہ یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ پہلی کمپنی سے ایک کروڑ روپے سے زائد کی رقم وصولی کے باوجود نیا ٹینڈر تیار کرلیا گیا جس کے خلاف ٹینڈر رکھنے والی کمپنی نے عدالت سے حکم امتناع لے لیا۔ ذرائع نے بتایا کہ پیپرا رولز کے مطابق بڈنگ پراسیس کے ذریعے قطر میں موجود کمپنی الزاہد نے 2020ءمیں ازاخیل ڈرائی پورٹ پر کرین ہینڈلنگ کا ٹینڈر جیتا تھا اورمذکورہ کمپنی ایک کروڑ دس لاکھ روپے باہمی شراکت داری کے اصول پر جمع کراچکی ہے۔ روزانہ کی کمائی میں سے 70 فیصد ریلوے اور 30 فیصد کمپنی نے لینا تھے، یہ مختلف کمپنیوں کی طرف سے آفر ہونیوالی سب سے زیادہ رقم تھی۔ 

 وزیر ریلوے نے چیف ٹریفک آفیسر ریلوے پر دباوڈالا کہ الزاہد کمپنی کا کنٹریکٹ منسوخ کریں لیکن انہوں نے ’حکم ‘کی تعمیل سے انکار کردیا۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ ریلوے کا نظام مربوط اور فعال بنانے کے نام پر ایک لیٹر جاری کیا گیا جس میں اختیارات متعلقہ ڈویڑنل سپریٹنڈنٹ کو سونپ دیے گئے۔ پھروزیرریلوے کے مبینہ فرنٹ مین عرفان اللہ اینڈ کمپنی کو لاہور میں ریلوے کنٹینرز کا ٹھیکہ دیدیا گیا۔ لاہور ڈرائی پورٹ کے ٹھیکے کےلیئے وفاقی وزیر کی طرف سے ایک لیٹر لکھے جانے کے بعد چیئرمین نے اس معاملے میں مداخلت کی کہ کنٹریکٹ کسی ایک فرد کو دینے کی بجائے ریلوے بولی کے لیے اس کا اشتہار کیوں جاری نہیں کرتی ؟ لاہور میں کنٹینرز کے ٹھیکے کے معاملے میں وفاقی وزیر کی اپنے مبینہ فرنٹ مین کیلئے فیور کی خبریں میڈیا میں آئیں تو ریلوے حکام نے عرفان اللہ کا لاہور ایوارڈ منسوخ کردیا اور اب وفاقی وزیر نے ازاخیل ڈرائی پورٹ کا ٹھیکہ اپنے آدمی کو دینے کی کوششیں شروع کر دیں۔

الزاہد ہیوی ایکوئپمنٹ کمپنی کوگزشتہ سال تین سال کا کنٹریکٹ دیئے جانے کے باوجود اب وزیرریلوے کی ذاتی ہدایات پراب ایک نیا ٹینڈر تیارکرلیا گیا ہے جس کے خلاف الزاہد کمپنی نے سول عدالت سے حکم امتناع بھی حاصل کرلیا۔ رولز کے مطابق ریلوے حکام پہلے سے موجود ٹینڈر کے تین سال مکمل ہونے کے بعد ہی نیا ٹینڈر آفر کرسکتے ہیں۔ الزاہد کمپنی کے ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ نو ماہ سے ریلوے ہیڈ کوارٹرز میں ہمارے خلاف کوئی انکوائری یا شکایت نہیں۔ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ لیبر کے ٹینڈر کو ابھی ایک سال ہوا ہے اور رولز کے مطابق تین سال تک نیا ٹینڈر آفر نہیں کیا جاسکتا لیکن اس حوالے سے بھی نیا ٹینڈر جاری کرنے کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔

مزید :

Breaking News -اہم خبریں -قومی -علاقائی -اسلام آباد -