"مسلم لیگ ن کو دو کشتیوں کی سواری لے ڈوبی"

"مسلم لیگ ن کو دو کشتیوں کی سواری لے ڈوبی"

  

ریاست آزاد کشمیر کے الیکشن میں مسلم لیگ ن وہاں پر بڑے بڑے جلسے کرنے کے باوجود بری طرح ناکام ہوگئی ہے. مسلم لیگ ن پنجاب کی سب سے زیادہ پاپولر جماعت ہونے کے باوجود پنجاب کے اضلاع میں بھی آزاد جموں و کشمیر کی سیٹوں سے ہاتھ دھو بیٹھی ہے. گوجرانولہ، سیالکوٹ اور نارووال جو مسلم لیگ ن کا قلعہ سمجھے جانے والے اضلاع ہیں وہاں پر پاکستان تحریک انصاف کے امیدواروں کی کامیابی  "غیر معمولی"  ہے .

آزاد کشمیر کی تاریخ یہی ہےکہ وہاں وہی جماعت حکومت بناتی ہےجس کی اسلام آباد میں حکومت ہوتی ہے . اس دفعہ وہاں پر الیکشن کمپین میں بالکل پاکستان کی الیکشن کمپین والا ماحول نظر آیا، جس کہ وجہ "سوشل میڈیا" ہے، جس نے پورے خطے کو ایک "گلوبل ویلیج" میں تبدیل کردیا ہے. اب آزاد کشمیر کے لوگ بھی حالات سے اتنے ہی واقف ہیں جتنے "لاہور" اور "اسلام آباد" کے لوگ.

آزاد کشمیر میں الیکشن کمپین میں قدرے تبدیلی کے باوجود مگر آزاد کشمیر میں الیکشن کے نتائج وہی حاصل ہوئے ہیں کو پرانی روایت ہے. پاکستان میں درجن بھر ضمنی انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کو شکست کے باوجود آزاد کشمیر سے بھاری اکثریت سے کامیابی مل گئی ہے. نارووال اور گوجرانوالہ سے کبھی پاکستان تحریک انصاف کو کوئی سیٹ نہیں ملی. پی ٹی آئی نے اپنے کیرئیر میں ان دو اضلاع سے پہلی دفعہ سیٹیں حاصل کیں ہیں.یہ اعزازان کو صرف کشمیر کےریاستی الیکشن تک ہی حاصل رہے گایاعام انتخابات میں بھی پاکستان تحریک انصاف یہ اعزاز اپنے نام کرپائے گی؟ ابھی اس پر کچھ نہیں کہا جاسکتا.

گوجرانولہ میں مسلم لیگ ن کے امیدوار اسماعیل گجر کی انتہائی غیر ذمہ دارانہ گفتگو بھی موضوع بحث بنی رہی. مسلم لیگ ن کے رہنماء جاوید لطیف صاحب نے اس پر انہیں "آڑے ہاتھوں" لیا اور کہا کہ وہ اگر مر بھی جاتا تو بھی اسے یہ بات نہیں کرنی چاہئے تھی. مسلم لیگ ن کو بطور پارٹی بھی چاہئے کہ ایسے آدمی کو فی الفور اپنی پارٹی نے نکال باہر پھینکے.

آزاد کشمیر کے الیکشن میں کل رجسٹرڈ ووٹ 32 لاکھ سے کچھ زائد ہیں جن میں ساڑھے 17 لاکھ مرد اور ساڑھے 14 لاکھ خواتین شامل ہیں. 44 حلقوں میں ٹوٹل 6139 پولنگ اسٹیشنز ہیں. آزاد کشمیر کے الیکشن میں کل 707 امیدواروں نے حصہ لیا جن میں پی ٹی آئی نے 25،پی پی نے 11، مسلم لیگ ن نے 6،مسلم کانفرنس نے ایک  اور جموں کشمیر پی پی نے بھی ایک  نشست حاصل کی ،جبکہ ایک حلقے میں لڑائی جھگڑوں کے باعث چند پولنگ سٹیشنز پر دوبارہ پولنگ  کا عمل ہوگا اور اس کا نتیجہ بعد میں آئے گا.

پاکستان تحریک انصاف نے وہاں  6 لاکھ، جبکہ مسلم لیگ ن؟نے تقریباً 5 لاکھ ووٹ حاصل کیے.اس الیکشن میں حکومتی وزراء کے ساتھ ساتھ وزیراعظم عمران خان صاحب بھی خاصا متحرک نظر آئے اور انہوں نے کشمیر میں خود جاکر جلسے کیے.وزیرامور کشمیر جناب علی امین گنڈا پور کی نفرت آمیز تقاریر اور ضابطہ اخلاق کی مسلسل خلاف ورزی کی وجہ سے ان پر شدید تنقید بھی ہوتی رہی.

چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر جناب عبدالرشید سلہریا صاحب کو انہیں کشمیر چھوڑنےکا حکم بھی دینا پڑا مگر وزیراعظم صاحب انہیں دوبارہ اپنے ساتھ لے کر کشمیر کمپین میں گئے جو آزاد کشمیر الیکشن کمیشن کی آزادی اور خودمختاری پر سوالیہ نشان ہے.مسلم لیگ ن کی "ضمنی انتخابات" میں شاندار کارکردگی کے بعد اپنے قلعوں میں ہی ان نشستوں سے ہاتھ دھو بیٹھنا ان کے لیے نہایت "پریشان کن" ہے.

مسلم لیگ ن نے ان نتائج کو مسترد کردیا ہے اور جلد احتجاجی تحریک چلانے کا بھی عندیہ دیا ہے مگر مسلم لیگ ن کو اب دو کشتیوں کی سواری سے اتر کر "مفاہمت" یا "مزاحمت" کا کوئی ایک بیانیہ اپنانا پڑے گا. دو طرح کی طرز سیاست سے مسلم لیگ ن کا ووٹر بددل ہورہا ہے. ہمارے ہاں ایک بہت بڑی تعداد صرف اس لیے ووٹ دیتی ہے کہ ان کے خیال سے ان کے امیدوار نے جیت جانا ہوتا ہے. اب مسلم لیگ ن کا ووٹر اس شش و پنج میں مبتلا ہوتا جارہا ہے کہ ہم جتنے مرضی مسلم لیگ ن کو ووٹ ڈال لیں ان کو حکومت نہیں بنانے دی جائے گی. جس کی وجہ سے ووٹر کنفیوژ ہورہا ہے.

پی ڈی ایم کی گزشتہ تحریک میں یہ تینوں جماعتوں نے جب بڑی شدت سے "مزاحمت" کا بیانیہ اپنا کر جلسے شروع کیے  تو اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف صاحب نے ضمانت کینسل کروا کر جیل میں جانے میں ہی عافیت جانی. جب پی ڈی ایم اپنے جلسے کر کے آپس میں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی  تو میاں صاحب ضمانت کروا کر لمحوں می‌ں باہر تشریف لائے اور "راتوں رات" بھائی کو منانے کی غرض سے لندن جانے کی کوشش کی ، جب حکومت نے ان کو نہیں جانے دیا تو وہ دوبارہ ملکی سیاست میں متحرک ہوئے مگر مریم نواز اور ان کا بیانیہ کسی ایک روز بھی ایک نظر نا آسکا.؎

مریم نواز اور شہباز شریف صاحب ہر جگہ آپس کے اختلافات کی تردید کرتے ہیں جو یقینا حقیقت ہوگی مگر رائے کا اختلاف بھی ایک حقیقت ہے جس کا کسی صورت انکار نہیں کیا جاسکتا. کشمیر کی پوری الیکشن کمپین میں جہاں وزیراعظم عمران خان صاحب خود کمپین کررہے تھے اس اہم ترین مرحلے میں میاں شہباز شریف صاحب کا اپوزیشن لیڈر و پارٹی صدر ہونے اور حمزہ شہباز شریف صاحب کا اپوزیشن لیڈر پنجاب و پارٹی نائب صدر ہونے کے باوجود کوئی کردار ادا نا کرنا بہت سارے سوالوں کو جنم دیتا ہے. کیا مزاحمت کا بیانیہ یا الیکشن کمپین کرنا صرف اکیلی مریم نواز کا کام ہے؟ مسلم لیگ ن جتنی جلدی کسی ایک بیانیہ کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنالے گی اس کے لیے اتنا بہتر ہے ورنہ آنے والے الیکشن میں اس کے لیے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں.

نارووال میں دونوں قومی اسمبلی کے حلقوں  اور تمام صوبائی حلقوں (ماسوائے ایک) حلقوں میں مسلم لیگ ن نے 2018 کے الیکشن میں شاندار کامیابی حاصل کی. جس صوبائی نشست پر مسلم لیگ ن کو کامیابی نا مل سکی اس پر آزاد امیدوار کامیاب ہوا پی ٹی آئی کو اس جگہ بھی جیت حاصل نا ہوسکی اور نا کہیں بہت زیادہ سخت مقابلہ کرسکی.

ریاستی الیکشن 2021 میں یہاں بہت سخت مقابلے ہوا مگر 312 ووٹوں کے مارجن سے تحریک انصاف کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے.مسلم لیگ ن کی طرف سے اس الیکشن کی شفافیت پر بہت سارے سوالات اٹھائے جارہے ہیں مگر مسلم لیگ ن نارووال کی طرف سے ریاستی الیکشن کمپین میں الیکشن کو پی ٹی آئی اور ن لیگ کا مقابلہ بنا کر پیش کرنے کہ بجائے ذات، برادری، دھڑے بازی اور گروپ بندی کے ساتھ ساتھ بدزبانی اور بدتمیزی والی تقاریر نے بہت نقصان پہنچایا ہے.

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -