ارسطو کا نظریۂ تعلیم

 ارسطو کا نظریۂ تعلیم
 ارسطو کا نظریۂ تعلیم

  

تحریر: ملک اشفاق

قسط: 27

 افلاطون کی طرح ارسطو بھی تعلیم کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہے۔ ارسطو کے تعلیمی نظریات اس کی مشہور تصانیف”سیاسیات“ اور ”اخلاقیات“ میں پائے جاتے ہیں۔ ارسطو نے اپنی مایہ ناز کتاب”اخلاقیات“ میں انسانی کردار کے اصولوں پر خوب روشنی ڈالی ہے۔ ارسطو کا خیال ہے کہ تعلیم مملکت کی اصلاح کے لیے بے حد ضروری ہے۔ اپنے تعلیمی نظریات کو واضح طور پر بیان کرنے کے لیے ارسطو نے انسانی روح کو 2 حصوں میں تقسیم کیا ہے۔

٭عقلِ فعال

٭ افعالی عقل

 بہترین تعلیم وہی تصور کی جاتی ہے جو روح، جسم، عقلِ فعال اور افعالی عقل کی تربیت پر مشتمل ہو۔ ارسطو کا خیال ہے کہ ورزش جسمانی تعلیم ہے۔ سائنس اور فلسفہ عقل فعال کےلئے بہت ضروری ہیں۔ افعالی عقل کےلئے موسیقی اور ادب کی تعلیم بے حد ضروری ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اخلاقی تعلیم افعالی عقل کےلئے کافی اہم ہے۔ ارسطو اپنے استاد افلاطون کی طرح جسمانی تعلیم پر زور دیتا ہے اور کہتا ہے کہ سب سے پہلے جسمانی تعلیم ملنی چاہیے۔ چونکہ بچوں کے کردار اور شخصیت کو بہتر بنانے کےلئے اخلاقی تعلیم بہت ضروری ہے لہٰذا اخلاقی تعلیم والدین اور حکومت دونوں کا فرض ہے۔ اخلاقی تعلیم بچوں کے کردار میں پختگی پیدا کرتی ہے۔ جبکہ جسمانی تعلیم ان کو بہادر اور نڈر بنانے میں مدد دیتی ہے۔ کیونکہ موسیقی روح کی غذا ہے لہٰذا اخلاق کی تعلیم میں موسیقی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ارسطو نے عورتوں کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے سے محروم رکھا ہے۔ اس نے اپنے نظامِ تعلیم میں سائنس، منطق، طبیعات اور علوم نجوم کی تعلیم پر بہت زور دیا ہے۔ وہ اس علم کو انسانی کردار اور اخلاق کی تعلیم کےلئے اہم قرار دیتا ہے۔

 ارسطو کا خیال ہے کہ اعلیٰ تعلیم کا انتظام کرنا ریاست کا اولین فرض ہے۔ کیونکہ ارسطو نے جسمانی اور دماغی صلاحیتوں کی بنیاد پر انسان میں تفریق کی ہے اس وجہ سے وہ کہتا ہے کہ صرف آزاد شہری ہی جو اعلیٰ دماغی صلاحیتوں کے مالک ہوتے ہیں اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔ تعلیم صلاحیتوں کے مطابق ہونی چاہیے۔ ارسطو مساوات کا قائل نہیں تھا اس لیے وہ کہتا ہے کہ غلاموں کو صرف دستکاری کی تعلیم ملنی چاہیے۔ لیکن آزاد شہری کا نظام اس کی فطرت اور بالیدگی کے عین مطابق ہونا چاہیے۔ افلاطون کی طرح ارسطو بھی تعلیم کو عمر کے لحاظ سے مختلف حصوں میں تقسیم کرتا ہے جوکہ مندرجہ ذیل ہے۔

 ارسطو کا طریقہ تعلیم

 ارسطو کا طریقہ تعلیم 3 حصوں پر مشتمل ہے۔

-1 پیدائش سے لے کر ساتویں سال کے آخری دن تک

-2 آٹھویں سال سے چودھویں سال تک

-3 چودھویں سال سے اکیسویں سال تک

 پہلا تعلیمی مرحلہ

 یہ مرحلہ روزِ پیدائش سے لے کر ساتویں سال کے آخری دن تک ہے۔ اس مرحلہ میں بچوں کو خوب خوراک دی جائے اور انہیں جسمانی ورزش کروائی جائے۔ صحت مند جسم کی بدولت صحت مند ذہن پیدا ہوتا ہے۔ بچوں کو برے قسم کے اثرات سے اپنی مدافعت کرنا بھی سکھایا جائے۔5 سال کی عمر تک انہیں صرف کھیلنے، کودنے دیا جائے۔ انہیں غیر مناسب کہانیاں پڑھنے اور مخرب اخلاق اشیاءکے مناظر سے بچایا جائے۔ یہ پہلا تعلیمی مرحلہ گھر ہی پر طے ہونا چاہیے۔

 دوسرا تعلیمی مرحلہ

8 سال سے 14 سال کی عمر تک بچوں کو عملی طور پر کام کرکے علم سیکھنا چاہیے اور بحث و تمحیص سے پرہیز کرنا چاہیے۔ جمناسٹک پر توجہ دی جائے اور موسیقی سکھائی جائے۔ اس مرحلے کی تعلیم کا مقصد انسانی جسم کی متناسب پرورش ہے۔ اس مرحلے میں علم ہندسہ، ریاضی اور علم نجوم کی تعلیم ہو۔

تیسرا تعلیمی مرحلہ

 یہ مرحلہ 14 سے 21 سال کی عمر تک ہے۔ اس مرحلے میں ان میں ریاستی خدمت کا جذبہ پیدا کیا جاتا ہے۔ انہیں سکھایا جاتا ہے کہ وہ جوانی میں ریاست کی اطاعت کریں اور بڑی عمر میں حکومت کریں۔ اس مرحلے میں ذہنی ارتقاءپر پوری توجہ دینی چاہیے۔ اس مرحلے میں فلسفہ، طبیعات اور دیگر سائنسی علوم کا آغاز ہو۔

 ارسطو ریاستی انتظام کے زیر سایہ ہونے والی تعلیم کا حامی ہے۔ اس کے مطابق تعلیم کا مقصد شہری کی ریاستی دستور کے مطابق تربیت کرنا ہے۔ تعلیم عوامی اور سب کےلئے برابر ہونی چاہیے۔ ارسطو چونکہ افلاطون کے نظریات سے بہت زیادہ متاثر ہوا تھا اس وجہ سے یہ نظامِ تعلیم افلاطون کے تعلیمی نظریات کے عین مطابق ہے۔ افلاطون کی طرح ارسطو کے نظریات نے بھی یورپ میں بہت گہری جڑیں پکڑ لی تھیں۔ اس کا نظامِ تعلیم انسان کی صلاحیتوں کی صحیح نشوونما کرتا ہے۔(جاری ہے )

نوٹ :یہ کتاب ” بک ہوم “ نے شائع کی ہے ، جملہ حقوق محفوظ ہیں (ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -