لارڈ میو، لارڈ رپن اور لارڈ کرزن نے ہندوستان میں تعلیم کے حوالے سے بہت کام کیا

لارڈ میو، لارڈ رپن اور لارڈ کرزن نے ہندوستان میں تعلیم کے حوالے سے بہت کام کیا
لارڈ میو، لارڈ رپن اور لارڈ کرزن نے ہندوستان میں تعلیم کے حوالے سے بہت کام کیا

  

مصنف : ای مارسڈن 

تعلیم:

 ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان میں کوئی سرکاری مدرسہ موجود نہیں پایا۔ 1871ءمیں وارن ہیسٹنگز نے مسلمانوں کے لیے کلکتہ میں ایک مدرسہ قائم کیا۔ 10 سال بعد لارڈ کارنوالس نے ہندوﺅں کے واسطے بنارس میں ایک کالج کھولا بعدازاں وقتاً فوقتاً مدرسے اور کالج کھلتے رہے۔ سالِ غدر یعنی 1857ءمیں کلکتہ مدراس کی یونیورسٹیاں قائم ہوئیں۔

 اسی زمانے کے قریب قریب سررشتۂ تعلیم کے محکمے بنائے گئے اور نئے مدرسے کھولنے اور ان کی نسبت رپورٹ کرنے کے واسطے انسپکٹر مقرر کیے گئے۔ جب 1858ءمیں ملکہ وکٹوریہ نے یہاں کی سلطنت اپنے ہاتھ میں لی تو ہندوستان بھر میں کل 13 کالج تھے اور مدراس میں کوئی 40 ہزار طالب علم۔

 گزشتہ 50سال میں بہت کچھ ترقی ہو گئی ہے۔ لارڈ میو، لارڈ رپن اور لارڈ کرزن نے بالخصوص تعلیم کے بارے میں بہت کچھ کیا۔ 1909ءمیں 22 کالج تھے جن میں 25 ہزار طلبہ تعلیم پاتے تھے اور 1 لاکھ 68 ہزار مدرسے تھے جن کے طالب علم 60 لاکھ تھے۔ اس سال میں 6 کروڑ 7 لاکھ روپے تعلیم پر خرچ ہوئے۔ مدرسوں کی کئی قسمیں ہیں جن میں سے پرائمری سکول سب سے ادنیٰ درجے کے ہیں۔ ان میں لکھنا پڑھنا سکھایا جاتا ہے اور ایسے بہت سے مضامین کی بھی تعلیم ہوتی ہے جو زمینداروں کے لیے مفید ہیں۔ مثلاً حساب، کسی قدر جغرافیہ، ابتدائی مساحت و زراعت، کاغذات دیہی اور عام اشیائ، کل تعداد طلبہ کا 5/6 حصہ پرائمری سکولوں میں زیر تعلیم ہے۔

 ان سے اوپر کے درجے کے سیکنڈری (وسطی) مدارس ہیں جن میں یا تو انگریزی بھی پڑھائی جاتی ہے یا صرف ورنیکلر مضامین، مڈل سکولوں میں زبانِ صرف و نحو، حساب الجبرا، جیومیٹری، تاریخِ ہند، جغرافیہ، ابتدائی سائنس اور فنِ زراعت کی تعلیم دی جاتی ہے۔ ہائی سکولوں میں بھی یہی مضامین پڑھائے جاتے ہیں مگر مڈل سے زیادہ۔

 کالجوں میں صرف وہی طالب علم داخل ہو سکتے ہیں جنہوں نے یونیورسٹی کا امتحان میڈیکویشن (داخلہ) پاس کیا ہو۔ طلبہ، زبان، ریاضی، تاریخ یا کسی اور ایسے مضمون میں ڈگری حاصل کرنے کے لیے تعلیم پاتے ہیں جو کالج میں پڑھایا جاتا ہو۔ ان کالجوں میں لائق اور فاضل پروفیسر وہ تمام علوم و فنون سکھاتے ہیں جن کا یورپ میں چرچا ہے۔

 علاوہ ازیں کئی ایک خاص مدرسے بھی ہیں۔ بعض دستکاری کے ہیں جہاں بڑھئی، لوہار، موچی، درزی، جلاہے، ٹھٹھیرے ،دری باف اور باغبان کا کام اور پیشے سکھائے جاتے ہیں۔ آرٹ سکولوں میں نقشہ کشی، منبت کاری، بوتہ سازی، نقاشی اور سنگ تراشی سکھاتے ہیں۔ انجینئرنگ کالجوں میں ہر ایک قسم کے انجینئری کام کی تعلیم دیتے اور طلبہ کو محکمہ تعمیرات عامہ کےلئے تیار کراتے ہیں۔ زراعتی اور فنِ طب مویشی کے مدرسے بھی ہیں۔ جن میں زمین کی کاشت اور مویشی کی نگہداشت کے متعلق سب باتیں بتائی جاتی ہیں۔ میڈیکل سکول اور کالج بھی ہیں جن میں فن طبابت اور جراحی کے استاد ہیں۔ قانونی کالجوں اور سکولوں میں قانون کی سب شاخوں کی تعلیم ہوتی ہے اور ٹریننگ کالجوں اور نارمل سکولوں میں معلموں کو علم و فن سکھایا جاتا ہے۔(جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -