جین مندر کی بحالی کے بعد علاقہ کی خوبصورتی کو چار چاند لگ گئے

جین مندر کی بحالی کے بعد علاقہ کی خوبصورتی کو چار چاند لگ گئے

  

لاہور(عامر بٹ سے)6 دسمبر 1992کی خوفناک صبح کو جب بھارت میں ہزاروں لوگ ایودھیا کی تاریخی بابری مسجد کے گرد جمع ہوئے اور اْس پر دھاوا بولا تو چند گھنٹوں کے اندر ہندو جنونیوں نے اْسے شہید کر دیا۔ ہم آج بھی اْن انتہا پسند ہندوؤں کو جنونی ہندو کہتے اور لکھتے ہیں۔ لاہور کے علاقے انارکلی میں واقع جین مندر کو 1992 میں بابری مسجد کے واقعے کے بعد توڑ دیا گیا تھا۔ پنجاب حکومت نے لاہور کے اکلوتے جین مندر کو تین دہائیاں گزرنے کے بعد بالآخر  دوبارہ بحال کر دیا ہے۔ ماہر تعمیر نے اس مندر کی عمارت کو اس خوبصورت ڈیزائن اور انداز سے تعمیر کیا ہے کہ خوبصورتی باہر سے ہی چھلکتی ہے۔ خاص طور پر جب رات کے اوقات یہاں سے گزر ہوتا ہے تو اس کا منظر ہی نرالہ ہوتا ہے۔ ایک طرف پھلوں کی ریڑھیاں جو روشنیوں میں نہلائی لگتی ہیں تو وہیں دوسری طرف میٹرو بس اور میٹروٹرین کا منظر اس مندر کی عمارت کو اور خوبصورت بنا دیتا ہے۔ اور بہت سے لوگ رات کے اوقات تو اس تاریخی مندر کی عمارت کے ساتھ تصاویر بناتے بھی دکھائی دیتے ہیں۔ یہاں سے گزرنے والے شہریوں نے روزنامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس مندر کی دوبارہ تعمیر کے بعد اسکی عمارت خوبصورتی دور سے ہی چھلکتی ہے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -