نرم، گرمد اخلت کے مطالبات کی بجائے سیاستدان آپس میں مکالمہ کریں: سراج الحق 

نرم، گرمد اخلت کے مطالبات کی بجائے سیاستدان آپس میں مکالمہ کریں: سراج الحق 

  

لاہور(خصوصی رپورٹ) امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ نرم و گرم مداخلت کے مطالبات کی بجائے سیاست دان آپس میں مکالمہ کریں۔ اصلاحات کے بغیر انتخابات سے مسائل ختم نہیں،ملک میں ناختم ہونے والی لڑائی شروع ہو جائے گی۔ ادارے متنازعہ بنا دیے گئے، عوام کا جمہوریت پر یقین اٹھ رہا ہے، مرکزی و صوبائی حکومتیں لوگوں کی مشکلات حل کرنے پر توجہ دیں۔ حکمرانوں کو ایک دن اللہ کی عدالت میں بھی پیش ہونا ہے جہاں ان کا کوئی ووٹر یا سپورٹر نہیں ہو گا۔ ملک مہنگائی کی آگ میں جل رہا ہے، بے روزگاری کا طوفان تھمنے کا نام نہیں لے رہا، گھنٹوں لوڈشیڈنگ سے کاروبار زندگی تباہ ہو کر رہ گیا، بارشوں اور سیلاب سے سیکڑوں افراد لقمہ اجل بن گئے، لوگوں کے گھر پانی میں بہہ رہے ہیں، مگر حکمران آپسی مفادات کی لڑائی میں مصروف ہیں۔ ہمیں مسائل کے حل کے لیے قرآن و سنت کی طرف رجوع کرنا ہو گا۔ اللہ کا نظام ہی بہتری لا سکتا ہے۔ ملک کو سود سے پاک معاشی نظام چاہیے، جماعت اسلامی ملک کو قرآن و سنت کا گہوارہ بنانے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے، عوام ہمارا ساتھ دیں۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے منصورہ میں مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔سراج الحق نے کہا کہ حکمران ایک دوسرے کو ختم کرنے کی بجائے عوام کے مسائل کا حل ڈھونڈیں۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی کے پاس ایک دوسرے کو فتح کرنے اور گالم گلوچ کے علاوہ اور کوئی ایجنڈا نہیں ہے۔ ملک بحرانوں کی زد میں ہے،آئی ایم ایف کے ایجنڈے پر آنکھ بند کر کے عمل کیا جا رہا ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے کے دباؤ پر بجلی کی فی یونٹ قیمت میں مزید آٹھ روپے اضافہ کیا گیا ہے۔ روپے کی بے قدری بھی حکومت کی غلط معاشی پالیسیوں اور آئی ایم ایف سے طے شدہ شرائط کا نتیجہ ہے۔ حکمرانوں نے استعمار کی وفاداری میں تمام حدیں پار کر دیں۔ اشیائے خوردونوش لوگوں کی پہنچ سے دور ہو چکی ہیں، پٹرول، بجلی، گیس اور ادویات کے نرخ بھی آسمان سے باتیں کر رہے ہیں۔ سفید پوش آدمی حالات سے پریشان اور کروڑوں نوجوان روزگار کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں۔ موجودہ اور سابقہ حکومتوں نے اس ملک کو بحرانوں میں دھکیلا، 75برسوں سے ملک میں یہی کھیل جاری ہے۔امیر جماعت نے کہا کہ ایمرجنسی حالات سے نمٹنے کے لیے حکومت کے پاس کوئی موثر پلان اور ادارہ موجود نہیں ہے۔

سراج الحق

مزید :

صفحہ آخر -