عبوری، نگران، ٹرسٹی وزیراعلیٰ توسنا تھا، جوڈیشل وزیراعلیٰ پہلی دفعہ دیکھا، عطاء تارڑ 

عبوری، نگران، ٹرسٹی وزیراعلیٰ توسنا تھا، جوڈیشل وزیراعلیٰ پہلی دفعہ دیکھا، ...

  

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزایجنسیاں) مسلم لیگ (ن) کے ڈپٹی جنرل سیکریٹری عطا ء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ عبوری وزیر اعلیٰ،نگران وزیر اعلیٰ اورٹرسٹی وزیر اعلیٰ تو سنا تھا لیکن جوڈیشل وزیر اعلیٰ پہلی دفعہ دیکھا ہے، جوڈیشل آر ڈر سے آئین و قانون کے تحت قائم کردہ صوبائی حکومت کوگرایا جاتا ہے اورجوڈیشل آرڈر سے ہی ایک نئی حکومت کو صوبے انسٹال کیا جاتا ہے،ہماری سپریم کورٹ سے فل کورٹ بنانے کی ضد نہیں بلکہ استدعا تھی، سوسائٹی پہلے ہی پولرائز ہے، اب یہ سننے کو مل رہا ہے کہ عدلیہ میں گروپنگ ہے،،یہ سنگین آئینی قانونی نقطوں پر کیس تھا کیا امر معنی تھا کیوں نہیں فل کورٹ بٹھایا گیا۔ ماڈل ٹاؤن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پنجاب کے اندر مارچ سے آئینی بحران پیدا کیا گیا اور دو سیاسی جماعتوں نے اس آئینی بحران کو مزید سنگین کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ عمران خان بطور سربراہ کہتے ہیں کہ آپ نے پرویز الٰہی کو ووٹ دینے ہیں لیکن وہ ووٹ گنتی میں شمار نہیں کئے جاتے اور جب چوہدری شجاعت بطور پارٹی سربراہ اپنی جماعت کو کہتے ہیں حمزہ شہباز کو ووٹ دینے ہیں تو وہ دوسری طرف اضافی طور پر ڈلوا دئیے جاتے ہیں،اگر مان لیا جائے پارٹی سربراہ کی ہدایت مقدم نہیں ہے تو پھر ووٹ دینے کا فیصلہ پارلیمانی پارٹی یا پارلیمانی لیڈر نے کرنا ہے تو وہ پچیس اراکین جن کو ڈی سیٹ کیا گیا تھاکیا ان کو بحال تصور کیا جائے گا، کیونکہ اس کیس میں کوئی پارلیمانی ڈائریکشن نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہماری سپریم کورٹ سے فل کورٹ بنانے کی ضد نہیں بلکہ استدعا تھی، سوسائٹی پہلے ہی پولرائز ہے اور کسی معاملے پر یکجا نہیں ہوتے، اب یہ سننے کو مل رہا ہے کہ عدلیہ میں گروپنگ ہے۔انہوں نے کہا کہ  سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے موجودہ صدر اور چھ سابق صدورنے بھی استدعا کی کہ  فل کورٹ بنایا جائے۔ انہو ں نے کہا کہ جب ماضی میں اس طرز کا فیصلہ آیا تو اس میں کہا گیا تھا کہ پارٹی سربراہ کی ڈائریکشن مانی جانی ہے۔ اس بنچ میں وہ جج صاحبان موجود تھے جب نواز شریف کو پارٹی صدارت سے ہٹایاگیا اور کہا گیا کہ  پارٹی صدر کے پاس تمام اختیارات موجود ہیں،ماضی کے فیصلے کو اب غلطی قرار دیا جائے تو اس پر لوگ سوال اٹھاتے ہیں،یہ  سنگین آئینی قانونی نقطوں پر کیس تھا کیا امر معنی تھا کیوں نہیں فل کورٹ بٹھایا گیا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ عدالتوں کے سامنے سر تسلیم خم کیا ہے، عدالتی فیصلوں کو تسلیم کیا ہے۔نواز شریف کو تو سزا دے دیدی جاتی ہے لیکن عمران خان جس کی آف شور کمپنی ہے اسے کہا جاتا ہے کہ آپ مالک نہیں بینیفشری ہیں۔انہوں نے کہاکہ مریم نواز پارٹی کا فخر ہیں ان سے پارٹی کو حوصلہ ملتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے عمران خان کا بوجھ اٹھا کر ریاست کو بچایا اس کے لئے ہمت چاہیے تھی وہ ہم نے کی ہے۔ ہمارا بیانیہ ملک و قوم کی ترقی کا بیانیہ ہے، قانون و انصاف کو ٹھیک کرنے کا بیانیہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے بھی یہ اطلاع ملی ہے کہ پی ٹی آئی کے سینئر رہنما چوہدری فواد چوہدری نے رابطہ کیا ہے بلکہ دو مرتبہ رابط کیا ہے اور کہا ہے کہ ہاتھ ہلکا رکھیں سیاسی ٹمپریچر کو نیچے لائیں، شاید وہ دوبارہ پارٹی تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔

عطا تارڑ

مزید :

صفحہ آخر -