سیاسی رہنما، غیر آئینی، غیر قانونی، بیانات حرکات سے اجتناب کریں 

 سیاسی رہنما، غیر آئینی، غیر قانونی، بیانات حرکات سے اجتناب کریں 

  

 جن افراد اور لوگوں میں حصول اقتدار کی خواہش ہوتی ہے وہ زیادہ تعلیم یافتہ نہ بھی ہوں اور کوئی قانونی پابندی حائل نہ ہو تو وہ اپنے شوق سیاست کی بنا پر اس کٹھن معرکہ آرائی کے میدان عمل میں آ کر طبع آزمائی کرنے کی تگ و دو کرتے ہیں۔ لیکن ان کی مالی حالت اوسط درجہ کے لوگوں سے قدرے بہتر ہونا عموماً ایک ضروری اہلیت قرار دی جاتی ہے کیونکہ کسی سطح پر انتخابی عمل میں حصہ لینے کے لئے کچھ مالی اخراجات کی ضرورت لاحق ہوتی ہے۔ 

بعض ممالک میں یہ صورت قدرے مختلف ہو سکتی ہے لیکن پاکستان میں ابھی تک امیدواروں کے لئے زیادہ تعلیم یافتہ ہونا لازم قرار نہیں دیا گیا۔ سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور میں اراکین اسمبلی کے لئے بی اے ہونے کی اہلیت مقرر کی گئی تھی لیکن گزشتہ دو دہائیوں میں عدالتی فیصلوں سے پتہ چلا کہ کئی امیدوار حضرات کی مذکورہ بالا تعلیمی اہلیت پر مبنی ڈگریاں، جعلی، ناقص، خود ساختہ اور غیر قانونی تھیں جس  پر متعلقہ فاضل اعلیٰ عدالتوں نے اپنے فیصلے اور احکامات صادر کر کے ان کی اسمبلی رکنیت ختم اور منسوخ کر دی۔ بعد ازاں وہ حضرات اور خواتین بڑی عدالتوں میں ان فیصلوں کو چیلنج کرتے رہے لیکن وہاں بھی اکثر و بیشتر ایسے متاثرین کی اپیلیں اور گزارشات مسترد ہوئیں اور ان کی رکنیت بحال نہ ہو سکی بعد میں آنے والی جمہوری حکومتوں نے اس تعلیمی اہلیت کی ضرورت اور شق کو متعلقہ قانونی شرائط سے حذف اور ختم کر دیا یہ صورت حال اب بھی جاری ہے حالانکہ کسی وفاقی یا صوبائی سطح کے منتخب نمائندہ کے لئے یہ تعلیمی اہلیت آج کل اشد ضرورت اور لازمی مقرر کرنا معلوم ہوتی ہے۔

ہمارے سیاسی رہنماؤں کو اس استدعا پر ملکی مفاد کی مناسبت سے خلوص نیت اور سکون قلب و ذہن سے توجہ دے کر غور کی گزارش ہے۔ کیونکہ گزشتہ 23 سال کے دوران قومی اور بین الاقوامی سطح پر سیاست اور معیشت کے شعبوں میں خاصی قابل ذکر تبدیلیاں رونما ہو چکی ہیں۔ اس لئے ہمارے نمائندوں کو بھی جدید حالات اور ضروریات سے باخبر اور صاحب علم و فہم ہونا چاہئے۔ شاید اس طرح چند سالوں سے جاری اور موجودہ سیاسی چپقلش اور کشمکش میں کوئی تخفیف یا کمی میں کسی حد تک مدد مل سکے۔ کیونکہ تعلیم کی اہمیت اور افادیت سے، کوئی طبقہ فکر انکار اور اختلاف نہیں کر سکتا جبکہ انسان کو اپنے مسائل و مصائب سے نجات کے لئے راہ راست پر گامزن ہونے کے لئے حتی المقدور اپنی کوشش اور کاوش بروئے کار لانے میں کوئی تاخیر، تساہل اور عدم توجہی اختیار نہیں کرنا چاہئے اگر اللہ تعالیٰ کو منظور ہو تو وہ ایسی بظاہر معمول کی کارکردگی کو بھی شرف قبولیت بخش کر بعض دیرینہ اور پیچیدہ امور کو بھی درست کرنے میں اپنی عالی ظرفی اور فیاضی کا مظاہرہ کر کے اپنے نام لیواؤں کی مشکلات اور پریشانیاں دور فرما دیتے ہیں۔ 

وطن عزیز میں موجودہ سیاسی کشیدگی کو ختم یا کم کرنے کی ذمہ داری حکومت اور اپوزیشن کے اراکین پر  اہمیت کے لحاظ سے مشترکہ طورپر عائد ہوتی ہے لہٰذا ان میں کسی فریق سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں اور نمائندوں کو آئین، قانون اور الیکشن کمیشن کے نافذ کردہ ضابطہ اخلاق کی حدود و قیود سے تجاوز کرنے پر مبنی تقاریر بیانات اور مطالبات بہر صورت کسی عوامی جلسہ کارنر میٹنگ اور ذرائع ابلاغ میں ظاہر کرنے چھپوانے اور براڈ کاسٹ کرانے سے ممکنہ حد تک اجتناب کرنا ہوگا۔ ایسی احتیاط ہر دو فریقین کو اختیار کرنے کا عہد کرنا چاہئے تاکہ انتخابی معرکہ آرائی کسی تلخ جارحانہ اور باہمی لڑائی جھگڑے تک نہ آئے اور جنگ و جدل یا ہاتھا پائی سے حریف افراد کی جان و مال کو کسی خطرہ یا نقصان کا باعث نہ بن سکے۔ کیونکہ منصفانہ الیکشن کا انعقاد کمیشن مذکور اور سیاسی فریقین کی ذمہ دارانہ کارکردگی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -